کالمز

ایک بنجارہ اور عجیب مخلوق

تحریر: ظفر اقبال 

سوشل میڈیا نے فاصلے سمیٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میلوں دور بیٹھا شخص نظروں سے اوجھل نہیں  بلکہ اپ کے ساتھ ساتھ  محو سفر ہے۔ آپ جب چاہے اس سے گفتگو کر سکتے ہیں، اپنا مسئلہ  بیان کر سکتے ہیں۔ اور بہت ممکن ہے کہ اگر خیالات اور نظریات کا شدید تصادم نہ ہو تو بہترین ہمخیال دوست بھی بن سکتے ہیں۔  ایسے لاکھوں افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جو بظاہر ایک دوسرے سے شناسائی  نہیں رکھتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو قریب سے جانتے ہیں اور غالباً بہترین دوستی بھی ہیں ۔

جہاں سوشل میڈیا نے آسانی پیدا کی ہے وہی اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ حقیقت اور معلومات تک رسائی کے لئے اس کے استعمال سے بہتر معاشرے کی تکمیل ممکن ہو سکتی ہے، اور بکھرا ہوا شیرازہ پھر سے سمٹ سکتا ہے، ایک  نا مکمل اور زوال پزیر  معاشرے کی تعمیرِ و تشکیل نو میں آسانی ہو سکتی ہے ۔

انسان جب شہرت کا بھوکا ہوتا ہے تو پھر اچھے اور برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔  مقابلے کی  دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ مقابلے کے فریقین ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ، اور اگے نکل جانے کے لئے درکار تمام لوزمات کو بروئےکار لانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

سوشل میڈیا کے توسط سے بہت زیادہ سیکھنے کو ملا اچھے دوست بنے اور بدستور ان سے رابطے میں ہیں۔ ہر دن نئی چیزیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

کچھ دن قبل ایک نوجوان ناصر اللہ بیگ، جس سے ہماری قربت اور شناسائی صرف سوشل میڈیا کی حد تک ہے نے بھرچھے تیر نامی چراگاہ، سب ڈویژن یاسین، گاوں نازبر، میں موجود پتھروں کی تصويريں پہلی بارسوشل میڈیا پر ڈال دیں۔ اس سے قبل ہم نے ان پتھروں سے جڑی  کہانیاں سنی تھیں، تاہم انہیں دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔

غالباً اس پتھر تک رسائی ماضی قریب میں صرف شکاریوں کو ہی تھا ، جو شکار کے غرض سے وہاں کی خاک چھانتے تھے۔ بظاہر ، قبل مسیح کے زمانے سے یہ پتھر سربستہ رازیں سینے پر چھپائے عام انسانوں کی نظروں سے پوشید تھے۔

ناصر اللہ بیگ ایک ابھرتا ہوا نوجوان ہے۔ تعلق یاسین سے ہے۔ خوبرو اور تگڑا نوجوان ہے۔ اس نوجوان کی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک مشن پر ہے۔ پہاڑی سلسلے تلاش کر رہا ہے۔ نئی جھیلوں کو دریافت کر رہا ہے۔ سیاحت کے لئے نئے خزانے ڈھونڈ رہا ہے۔  یہ سارا کام یہ نوجوان اپنے خرچے پر کر رہا ہے۔ کوئی حکومتی امداد ہے، نہ ہی کسی این جی او ای نجی کمپنی کی اعانت۔ ستم ظرفی کی بات یہ ہے کہ اس کے کام کی تعریف کرنے کو بھی کوئی تیار نہیں۔ ایسے بھی افراد ہیں جو اس نوجوان کی محنت کوسستی شہرت کے لئے اپنے نام سے منصوب کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

کتنی شرم کی بات ہے ۔

کچھ عشرہ قبل میں نے اس نوجوان کو پرائیوٹ مسیج کر کے سمجھایا تھا کہ آپ اپنے کام کو ایسے ہی سوشل میڈیا پر مت لائیں۔ کیونکہ اپکی تصويريں اور آپ کا کام چوری ہو رہا ہے۔ مگر  شومئی قسمت کہ نوجوان نے میری نصیحت کو ہوا میں اڑا دیا۔ آج لوگ اس کے کام کو لے کر پیسے اور شہرت کمانے میں لگے ہوے ہیں۔

بات کرتے ہیں اس تاریخی پھتر کے حوالے سے۔ میں ذاتی طور پر ان نایاب نقوش و نگار کے یوں سوشل میڈیا پر انے سے خوش نہیں ہوں ، خوش اس لئے نہیں ہوں کہ دیامر میں آثار قدیمہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد قوی امکان ہے کہ کوئی بھی قدیمی قیمتی چیز یہاں محفوظ نہیں رہے گی۔ کیونکہ کچھ حلقوں کو ہماری قدیم تاریخ اورتہذیب اور اس سے جڑی ہر چیز سے خوف اور خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ ہر گز نہیں چاہتے کہ ان نایاب قدیمی اشکال کو لے کر ہم بھی عظیم قوم بن جائے ، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اشکال ہمارے وجود کا پتہ دیتی ہیں اور دوم یہ کہ ہمارے پشتنی ہونے کا ثبوت ہیں۔ اور تیسرا یہ کہ ان کی وجہ سے ہمارا شمار بھی دنیا کے قدیم انسانوں میں ہوگا۔ اس لئے کچھ حلقے کسی  بھی طریقے سے اس کو مٹانا چاہئتے ہیں ۔

حالیہ دریافت ہونے والے اس پھتر پر بنے اشکال کی عمر کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔  تاہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوسرے میلنیم یا اس کے آس پاس   میں بنے ہیں کیونکہ یہ اشکال بدھ مت ،اور زرتشت مذہب کے وجود سے پہلے کے لگتے ہیں۔ اس پر حتمی رائے ماہرین ریسرچ کے بعد ہی دے سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: