صحتعوامی مسائل

بچوں میں غذائی کمزوری کی بنیادی وجہ غربت نہیں، شعور و آگہی کا فقدان ہے، معراج الدین خان

چترال (نذیرحسین) آغاخان ہیلتھ سروس  خیبرپختونخوا اورپنجاب ریجن کے ریجنل ہیڈمعراج الدین نے  مقامی میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاہے کہ بچے ہرگھرکی رونق اورخاندان کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ تاہم صرف بچوں کی پیدائش ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ماں اوربچے کاصحت مند ہونابھی اتناہی ضروری ہے جتناکہ بچے کادنیامیں آنا۔ بچوں کاصحت وتندرستی کے ساتھ دنیامیں آنا ہرماں باپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔بیماریوں سے پہلے حفاظتی اقدامات بہت ضروری ہے ۔ انسان اپنے ماحول کو صاف رکھ کراپنے آپ کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتاہے۔انسانی جسم کو صاف رکھنے سے تمام موزی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ اے کے ایچ ایس پی چترال صحت اور مختلف بیماریوں کے خلاف عوام کوآگاہی اور شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماں اوربچے کی صحت،تولیدی صحت،غذائی کمزوری اوردوسرے بیماریوں کے روک تھام اورآگاہی دینے کے لئے اے کے ایچ ایس پی کے  سنٹرل ایشیاء ہیلتھ سسٹم اسٹرنتھیننگ اِنی شیٹو(CASI)،صحت مندخاندان (SMK) فاؤنڈیشن فارہیلتھ امپورمنٹ(  F4HE) اوردوسرے پراجیکٹز  گذشتہ دوتین سالوں سے کام کررہے ہیں۔بچوں میں غذائی کمزوری اوردوسرے بیماریوں کی بنیادی وجہ  غربت نہیں بلکہ شعوروآگاہی کا فقدان ہے۔جس میں ہرمکتبہ فکر کے لوگوں اپناکلیدی کرداراداکرنے کی ضرورت ہے۔لوگوں میں شعورکی کمی ایک اہم مسئلہ ہے جس سے معمولی بیماریاں بھی پیچیدہ صورت اختیار کرلیتی ہیں۔معراج الدین نے کہاکہ عوام کومعیاری سہولیات پہنچانے کے لئے محکمہ صحت  اوراے کےایچ ایس پی  ڈاکٹرز،نرسز،  ایل ایچ ڈبلیو،ایل ایچ وی ،سی این ڈبلیو،کمیونٹی مڈوائف اوردوسرے اسٹاف  کو مفت تربیت اور آلات فراہم کی گئی ہیں تاکہ لوگوں کوگھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔
ا س موقع پر آغاخان ہیلتھ سروس چترال  کےسنٹرل ایشیاء ہیلتھ سسٹم اسٹرنتھیننگ اِنی شیٹو(CASI) پراجیکٹ کے منیجرنگارعلی، منیجر صحت مندخاندان (SMK) پراجیکٹ افسرجان اوردوسروں نے کہاکہ غذائی کمی کا شکار بچے نہ صرف جسمانی لحاظ سے پست رہ جاتے ہیں بلکہ ان کی ذہنی صلاحیتیں بھی پوری طرح سے پروان نہیں چڑھتیں اور ایسے بچے دوسرے صحت مند بچوں کی نسبت ترقی کے ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ایسے بچے آسانی سے بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جس سے ان میں مزید غذائی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ ایسے بچے وزن میں انتہائی کم اور قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں، نتیجتاً ایسے بچے اپنی زندگی کو کارگر اور پیداواری نہیں بناپاتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماؤں کی غذاکا بھی خوب خیال رکھا جائے اور جب ایک ماں حاملہ ہوجائے تو اسے اپنے علاوہ اپنے آنے والے بچے کی غذا بھی کھانی چاہیے۔ اس لیے ڈاکٹرز حاملہ ماؤں کو عمومی خوراک کے مقابلے میں مقدار میں زیادہ اور غذائیت سے بھرپور چیزیں کھانے کی ہدایت کرتی ہیں تاکہ ماں کے پیٹ سے ہی بچے کی ہڈیوں کی نشوونما بہتر طریقے سے ہونا شروع ہوجائے۔
صحت مند کھانے کا مطلب صحت بخش کھانے پر عمل کرنا ہے جس میں مختلف قسم کی غذائیت سے بھرپور غذائیں اور مشروبات شامل ہوتے ہیں۔
انہوں  نے کہاکہ ماں اور بچے کی صحت کا براہ راست انحصار اولاد میں مناسب وقفے پر منحصر ہے جس کے لئے اس کا خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔پسماندہ اوردیہی علاقوں میں تولیدی صحت کو بے شمار رکاوٹوں کا سامنا ہے اگر بچوں کی پیدائش کے دوران وقفہ بہت کم ہو تو ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرات بڑھتے ہیں۔ایک صحت مند ماں بھرپور طریقے سے اپنے بچوں اور گھر کی دیکھ بھال کرسکتی ہے۔بچوں کوماں کی پوری توجہ ملتی ہے اور انکی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔بچے زیادہ صحتمند اور طاقت ور ہوتے ہیں اور زندگی کی دوسری آسائشوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: