گلگت بلتستان کے انتخابات اور موسمیاتی بحران: کیا ماحولیات بھی کوئی انتخابی مسئلہ ہے؟

تحریر: ندیم حیدر میر

جولائی 2025 کی ایک صبح، چلاس میں درجہ حرارت 48 اعشاریہ 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ یہ اس خطے کی تاریخ کا سب سے گرم دن تھا۔ اسی دوران بونجی میں پارہ 46 ڈگری سے تجاوز کر گیا۔ گرمی کی اس لہر نے گلیشیئروں کو تیزی سے پگھلایا، جھیلیں ابلنے لگیں، اور گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈز یعنی گلوف کا ایک تسلسل شروع ہو گیا جس نے کھیت، سڑکیں، مکانات اور پل بہا دیے۔ گلگت شہر میں چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈشیڈنگ تھی، اور رات کو چادریں پانی میں بھگو کر سونا پڑتا تھا۔
یہ کوئی قدرتی آفت نہیں تھی، یہ موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ تھا۔ اور اب جب 7 جون 2026 کو گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا کوئی سیاسی جماعت اس آگ کو اپنے منشور کا حصہ بنانے کی جرأت رکھتی ہے؟

متعلقہ

گلگت بلتستان دنیا کے ان چند خطوں میں سے ایک ہے جہاں قطبین کے بعد سب سے زیادہ گلیشیئر پائے جاتے ہیں۔ کُل رقبے کا تیس فیصد حصہ گلیشیئروں پر مشتمل ہے اور چالیس فیصد موسمی برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اس خطے میں درجہ حرارت میدانی علاقوں کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے سات (7) سے نو (9) ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
سیٹلائٹ ڈیٹا اور فیلڈ سروے کے مطابق پچاس (50) سے زائد گلیشیئل جھیلیں ایسی ہیں جو نچلی آبادیوں کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ان میں سے کئی پہلے ہی حسن آباد ہنزہ، نگر، گلمت گوجال اور روشن گوری میں تباہی مچا چکی ہیں۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ستر لاکھ سے زائد افراد گلوف کے خطرے سے دوچار ہیں۔
پاکستان دنیا کے کل گرین ہاؤس گیسز کا ایک فیصد سے بھی کم خارج کرتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے نتائج بھگتنے میں دنیا کے سب سے متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔ اور گلگت بلتستان اپنے جغرافیہ كی وجہ سے اس تمام تر نا انصافی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ انسانی بے احتیاطی نے بھی خطے کو کمزور کیا ہے۔ لکڑی مافیا کے ہاتھوں جنگلات کی اندھا دھند کٹائی سے دریاؤں کے کنارے اور پہاڑی ڈھلوانیں كمزور ہو گئی ہیں۔ وہ جنگل جو پانی کو جذب کرتے اور مٹی کو تھامتے تھے، اب وہاں سنسان چٹانیں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح سیاحت کے بے ہنگم پھیلاؤ نے ہوٹلوں اور سڑکوں کی تعمیر کو بغیر کسی ماحولیاتی جائزے کے ممکن بنا دیا ہے۔

گلگت بلتستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے ڈرافٹ ماحولیاتی پالیسی میں بے قابو تعمیرات، فضائی آلودگی، ٹھوس فضلے، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور غیر پائیدار کان کنی کو اہم خطرات قرار دیا ہے۔ لیکن یہ پالیسی ابھی تک ڈرافٹ کی شکل میں ہے جبكہ حتمی شکل دینے کا کام برسوں سے زیر التوا ہے۔

انتخابی مہم عروج پر ہے۔ 403 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں سے 272 آزاد ہیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں سرگرم ہیں۔ لیکن گزشتہ ہفتوں میں انتخابی مہم کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کے بنیادی مطالبات صحت، تعلیم اور روزگار کے گرد گھومتے ہیں۔ ماحولیات کا ذکر شاذونادر ہی آتا ہے۔

گلگت بلتستان ایڈووکیسی فورم نے 2026 کے انتخابات کے لیے تمام جماعتوں کو ایک چارٹر آف ڈیمانڈز بھیجا ہے جس میں كلائمیٹ ریزیلئنٹ انفراسٹرکچر، صاف پانی تک رسائی، ماحولیاتی پالیسی کی تکمیل اور سیاحت کے لیے ماحول دوست ضوابط کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالبات درست سمت میں ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔

گلگت بلتستان کی اگلی حكومت کو اگر واقعی اس خطے کے مستقبل کی فکر ہے تو اسے کم از کم پانچ محاذوں پر ٹھوس منصوبہ بندی پیش کرنی ہوگی:
پہلا: گلوف ارلی وارننگ سسٹم یعنی خطرناک گلیشیئل جھیلوں کی نگرانی کے لیے مربوط نظام، جس میں کمیونٹی ریڈیو اور موبائل الرٹس شامل ہوں۔
دوسرا: برسوں سے قائم کمیونٹی آرگنائزیشنز کو آفات سے نمٹنے کی تربیت اور وسائل فراہم كر كے کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ ٹیمز تشكیل دینا ۔
تیسرا: سسٹین ایبل ٹوریزم پالیسی كا اجرا كرنا جس سے ہوٹل، سڑک اور ٹریکنگ روٹس کے لیے لازمی ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جا سكے۔
چوتھا: شمسی اور ہوائی توانائی کے ذریعے ڈی سینٹرلائزڈ مائیکروگرڈز، تاکہ 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممكن بنایا جا سكے۔
پانچواں: مقامی کمیونٹیز کو جنگلات کی نگہداشت میں شامل کرتے ہوئے جنگلات کا تحفظ اور دوبارہ لگانا اور لكڑی مافیا کے خلاف قانونی کارروائی كرنا۔

آئندہ منتخب حكومت كو چاہیے كہ کمیونٹی آرگنائزیشنز، ویمن آرگنائزیشنز اور لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز، کا وہ جال جو برسوں میں بنا ہے، كی خدمات حاصل كركے موسمیاتی بحران سے نمٹنے كا موثر بندوبست یقینی بنائے۔ اس پوٹینشل کو استعمال کرنے کے لیے سیاسی ارادہ اور پالیسی سازی درکار ہےہوگی جو حكومت ہنگامی بنیادوں پر عمل میں لائے۔

7 جون کو گلگت بلتستان کے ووٹر صرف نمائندے نہیں چن رہے، وہ اپنی زمین، اپنے گلیشیئروں اور اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل طے کر رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ امیدواروں سے سیدھا سوال پوچھا جائے كہ آپ کا موسمیاتی ایجنڈا کیا ہے؟

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button