امام خمینی اور مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت
ڈاکٹر مہدی طاہری
(کلچرل اتاشی،سفارت ایران ،اسلام آباد)
حضرت امام خمینی (رح) — اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی — کی رحلت کی برسی کے موقع پر یہ بات مناسب ہے کہ ان کے گراں قدر اور قیمتی ورثے کو یاد کیا جائے، خصوصاً “مسلمانوں کے اتحاد” کے میدان میں ان کا کردار، جو صرف نعرے تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کی سیرت اور گفتار دونوں میں نمایاں طور پر جاری و ساری تھا۔
اسلامی ممالک کے درمیان امام خمینی (رح) کی پاکستان کے بارے میں خصوصی توجہ اور محبت، اس مستقل فکری و عملی فکر کی ایک روشن مثال ہے۔
امام خمینی (رح) وحدت کو محض ایک سیاسی حربہ نہیں بلکہ ایک قرآنی اور اسٹریٹجک ضرورت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک دشمنانِ اسلام کا سب سے بڑا وار ’’تفرقہ‘‘ ہے، اور وہ بارہا اس بات پر زور دیتے رہے کہ شیعہ اور سنی اگرچہ فروعی مسائل میں مختلف ہیں، لیکن اصولِ دین میں مکمل طور پر متحد ہیں، لہٰذا انہیں استکباری قوتوں کے مقابلے میں ایک ہی صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔
امام خمینی (رح) وحدتِ اسلامی کو محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک قرآنی فریضہ اور امتِ مسلمہ کی ناگزیر اسٹریٹجک ضرورت سمجھتے تھے۔ آپ کی دوراندیش نگاہ میں دشمنانِ اسلام کا سب سے مؤثر ہتھیار مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور انتشار پیدا کرنا تھا۔ اسی لیے آپ بارہا اس حقیقت پر زور دیتے تھے کہ شیعہ اور سنی، اگرچہ بعض فروعی اور فقہی مسائل میں اختلاف رکھتے ہیں، لیکن اصولِ دین، بنیادی عقائد اور مشترکہ اسلامی اقدار میں ایک دوسرے کے شریک ہیں، لہٰذا انہیں استکباری طاقتوں کے مقابلے میں ایک متحد قوت اور «یدِ واحدہ» بن کر کھڑا ہونا چاہیے۔
رسولِ اکرم (ص)کی ولادتِ باسعادت کی اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی روایات کے درمیان واقع ایام کو «ہفتۂ وحدت» قرار دینا امام خمینی (رح) کا ایک تاریخ ساز اور دیرپا اقدام تھا، جس کی بازگشت آج بھی عالمِ اسلام میں سنائی دیتی ہے اور جو مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی اور اخوت کی ایک مؤثر علامت بن چکا ہے۔ اسی طرح «یومِ قدس» بھی امام کی اسی فرا مذہبی اور وحدت پر مبنی فکر کا مظہر تھا۔ امام نے اس دن کو صرف فلسطین کی حمایت کے لیے مخصوص نہیں کیا بلکہ اسے پوری امتِ مسلمہ کے اتحاد، بیداری اور مشترکہ جدوجہد کے احیاء کا ذریعہ قرار دیا۔
پاکستان کے بارے میں امام خمینی (رح) کی خصوصی توجہ اور محبت کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ آپ پاکستان کو اس کی عظیم تاریخی میراث، کثیر مسلم آبادی اور اہم جغرافیائی و اسٹریٹجک حیثیت کے باعث «عالمِ اسلام کے پیکر کا ایک حصہ» قرار دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ہم پاکستان کو اسلام کے جسم کا ایک حصہ سمجھتے ہیں اور اس کی حفاظت کو تمام مسلمانوں کی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی اور آزادی کو ہم اپنی ہی سلامتی اور آزادی تصور کرتے ہیں۔
اور ملت و حکومتِ پاکستان کے نام اپنے محبت اور خلوص سے بھرپور پیغام میں انہوں نے واضح کیا:
’’ہم اور پاکستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں، اور دشمن ہمارے درمیان ہرگز تفرقہ نہیں ڈال سکتے۔‘‘
انہوں نے پاکستان کو ’’اسلام کا مضبوط قلعہ‘‘ قرار دیا اور اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس ملک کی طاقت اور سربلندی سے پوری دنیا اسلام کی قوت میں اضافہ ہوگا۔ امام کا پاکستان کے بارے میں نقطۂ نظر مکمل طور پر برادرانہ، مساوی اور ہر قسم کی برتری کے احساس سے پاک تھا۔ وہ ہمیشہ دونوں ممالک کے دینی اور سیاسی رہنماؤں کو اس بات کی تلقین کرتے تھے کہ وہ قرآن کریم اور سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنیاد بنا کر اپنی صفوں کو مزید مضبوط اور متحد کریں۔
اس مخلصانہ اور محبت بھری سوچ کا اثر یہ ہوا کہ پاکستانی عوام کے دلوں میں امام خمینیؒ کے لیے گہری عقیدت اور محبت پیدا ہوئی۔ ان کے انتقال کے موقع پر پاکستان میں سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کیا گیا اور سیاسی و مذہبی شخصیات نے رہبرِ کبیرِ انقلابِ اسلامی کو ’’امتِ مسلمہ کی وحدت کی بلند آواز‘‘ قرار دیا۔ آج بھی امام خمینیؒ کا نام اور ان کا راستہ دو برادر اسلامی قوموں کے درمیان باہمی احترام اور دوستی کا ایک مضبوط پل سمجھا جاتا ہے۔
ان کی اس ملکوتی رحلت کی برسی کے موقع پر اس عظیم ورثے کو یاد رکھنا ایک مشترکہ اور ہمہ گیر ذمہ داری ہے۔ امتِ مسلمہ آج بھی تفرقہ اور انتشار کے زخموں سے دوچار ہے، اور ان مشکلات سے نکلنے کا واحد راستہ ’’ اتحاد کی رسی‘‘ کو مضبوطی سے تھامنا ہے—جس کا پرچم امام خمینیؒ نے بلند کیا۔
ایران اور پاکستان کے تعلقات اسی حکیمانہ، دوراندیش اور برادرانہ فکر کی بنیاد پر قائم ہیں، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک روشن، قابلِ عمل اور قابلِ تقلید مثال بن سکتے ہیں۔






