تماشا بنتا گلگت بلتستان اور بڑھتا ہوا عوامی غصہ

کالم : قطرہ قطرہ

گلگت بلتستان کو ایک عرصے سے سیاسی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہاں کے عوام کی آئینی محرومی، سیاسی بے اختیاری اور معاشی پسماندگی کے مسائل حل کرنے کے بجائے قومی سیاسی جماعتوں نے اسے اپنے مفادات کی جنگ کا اکھاڑہ بنا دیا ہے۔ حالیہ انتخابات نے اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی رائے اور احساسات سے زیادہ اہمیت سیاسی جوڑ توڑ، اقتدار کے کھیل اور وقتی مفادات کو دی جا رہی ہے۔
انتخابات کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن سیاسی اور انتظامی بے یقینی اب بھی برقرار ہے۔ چوبیس رکنی قانون ساز اسمبلی کے صرف اکیس حلقوں کے نتائج کا نوٹیفکیشن جاری ہو سکا ہے، جبکہ تین حلقوں کے نتائج سپریم اپیلٹ کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔ خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشستوں کی تقسیم کے طریقۂ کار پر بھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سنجیدہ اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ یوں انتخابی عمل، جو عوامی اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بننا چاہیے تھا، خود تنازعات کی زد میں آ چکا ہے۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ اکثریتی جماعت کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث حکومت کی تشکیل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ، آزاد اراکین کی حمایت حاصل کرنے کی جائز و ناجائز کوششیں، وفاداریاں تبدیل کرانے کے لئے دباؤ بڑھانے اور اقتدار کے حصول کی کشمکش نے عوامی مینڈیٹ کی روح کو مجروح کیا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن اور انتظامیہ شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ صرف حزبِ اختلاف ہی نہیں بلکہ خود اکثریتی جماعت سمیت تقریباً تمام سیاسی قوتوں نے انتخابی بے ضابطگیوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ دھاندلی کے الزامات زبان زدِ عام ہیں اور مجموعی طور پر ایک غیر یقینی صورتِ حال نے جنم لیا ہے۔
یہ خطہ گزشتہ اسی برسوں سے آئینی شناخت کے بحران کا شکار ہے۔ یہاں کے عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت دیا، مگر اس کے باوجود انہیں مکمل آئینی حقوق، بااختیار نمائندگی اور فیصلہ سازی میں حقیقی شرکت سے محروم رکھا گیا۔ نوجوان نسل یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر کب تک ان کے مستقبل کا فیصلہ ایسے نظام کے تحت ہوتا رہے گا جس میں ان کی آواز کو سنجیدگی سے نہیں سنا جاتا؟
قومی سطح کی سیاسی کشیدگی کو گلگت بلتستان میں منتقل کرنے کے نتائج اب واضح نظر آ رہے ہیں۔ سیاسی مخالفین کو دشمن سمجھنے، ووٹ کو طاقت اور اثر و رسوخ کے ذریعے متاثر کرنے اور اقتدار کی خاطر ہر اصول کو قربان کرنے کی روش نے معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے نتیجے میں نوجوانوں میں احساسِ محرومی، مایوسی اور زمہ دار اداروں پر عدم اعتماد بڑھ رہا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک علامت ہے۔
پاکستان کی اربابِ اختیار اور سیاسی جماعتوں کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ گلگت بلتستان کوئی شطرنج کی بساط نہیں جہاں مہرے بدل کر وقتی کامیابیاں حاصل کی جائیں۔ یہ ایک حساس خطہ ہے جس کے عوام عزت، شناخت، انصاف اور باوقار مستقبل کے خواہاں ہیں۔ اگر ان کے جائز سیاسی، آئینی اور معاشی مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد بحال نہ کیا گیا تو محرومی کا یہ احساس مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کے عوام تماشائی نہیں، اس ریاست کے باوقار شہری ہیں۔ ان کے جذبات، قربانیوں اور حقوق کا احترام ہی پاکستان کے وفاق کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، محرومی اور غصے کی یہ خاموش آگ آنے والے وقت میں ایک بڑے سیاسی اور سماجی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کی ذمہ داری ان تمام قوتوں پر عائد ہوگی جنہوں نے اقتدار کی خاطر حالیہ انتخابات میں عوامی اعتماد کو داؤ پر لگایا ہے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

متعلقہ

Back to top button