ابتدائی سو دن، گلگت بلتستان کی نئی حکومت کا امتحان اور سمت کا تعین
قطرہ قطرہ
ابتدائی سو دن کسی بھی نئی حکومتی نظام کے لیے صرف ایک رسمی مدت نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہوتے ہیں، جس میں حکومت کی سمت، ترجیحات، شفافیت اور عملی صلاحیت کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب محض وعدے نہیں بلکہ عملی اصلاحات زمین پر نظر آتی ہیں۔
اس عرصے میں سب سے اہم ضرورت ایک جامع اور مربوط “ابتدائی ایکشن فریم ورک” کی تیاری ہے جو صرف کاغذی نہ ہو بلکہ زمینی حقائق، عوامی مسائل اور ماہرین کی رائے پر مبنی ہو۔ ہر شعبے کے لیے الگ الگ تکنیکی ورکنگ گروپس بنائے جائیں جن میں انجینئرز، ڈاکٹرز، اساتذہ، معیشت دان، آئی ٹی ماہرین اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین شامل ہوں۔ یہ گروپس بجلی، پانی، صحت، تعلیم، انٹرنیٹ، انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے لیے قابل عمل روڈ میپ تیار کریں۔
گلگت شہر، سکردو شہر سمیت تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز کے شہری مسائل فوری ترجیح کے مستحق ہیں۔ سڑکوں کی خستہ حالی، ٹریفک کا دباؤ، پانی کی کمی، نکاسی آب کا ناقص نظام، بجلی کی غیر یقینی فراہمی اور صفائی ستھرائی جیسے مسائل عوام کی روزمرہ زندگی کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ ان شہروں کے لیے ایک واضح “اربن ریفارم اینڈ امپروومنٹ پلان” تیار کیا جانا چاہیے جس میں اہداف، فنڈنگ اور ٹائم لائن واضح ہو۔
اسی طرح ابتدائی سو دنوں میں حکومت کو اپنا 100 یا 120 دن کا تفصیلی ایکشن پلان عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ یہ منصوبہ بند کمروں کے بجائے کھلی مشاورت اور گروپ ڈسکشن کے ذریعے تیار کیا جائے۔ اس عمل میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز جیسے انجینئرز، ڈاکٹرز، اساتذہ، تاجر برادری، نوجوان نمائندے، ٹرانسپورٹرز اور سول سوسائٹی کو شامل کیا جائے تاکہ پالیسی سازی زمینی حقائق سے جڑی ہو۔
کرپشن کا خاتمہ اس پورے اصلاحاتی ایجنڈے کی بنیاد ہونا چاہیے۔ تمام سرکاری دفاتر پولیس اسٹیشنز، تحصیل دفاتر، ڈپٹی کمشنر آفسز اور دیگر انتظامی اداروں کو عوام دوست اور فعال اداروں میں تبدیل کیا جائے۔ ہر دفتر میں عملے کی حاضری کو ڈیجیٹل اور جسمانی دونوں سطح پر یقینی بنایا جائے، اور غیر حاضری یا غفلت پر سخت احتسابی نظام نافذ کیا جائے۔ سرکاری مشینری کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ عوامی خدمت میں تاخیر یا بدعنوانی قابلِ برداشت نہیں ہوگی۔
اسی کے ساتھ عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور بروقت خرچ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ہر ترقیاتی منصوبے کے لیے واضح مالیاتی نظام، آڈٹ میکانزم اور عوامی نگرانی کا نظام ہونا چاہیے تاکہ وسائل کا درست استعمال ہو اور کرپشن کے امکانات کم سے کم ہوں۔ قانون کی بالادستی ہر سطح پر یقینی بنائی جائے تاکہ کوئی فرد یا ادارہ قانون سے بالاتر نہ رہے۔
کمزور طبقات کی فلاح و بہبود بھی اسی ابتدائی فریم ورک کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ خواتین، بچے، بزرگ شہری، خصوصی افراد اور قدرتی آفات سے متاثرہ یا بے گھر افراد کے لیے تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ کے مؤثر پروگرام شروع کیے جائیں جو صرف اعلانات نہ ہوں بلکہ عملی اور قابلِ پیمائش ہوں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور ماحول کے تحفظ کو بھی خصوصی توجہ درکار ہے جس کے لئے بین القوامی ڈونرز کی توجہ مبذول کرایا جاسکتا ہے۔
انصاف تک رسائی کے نظام میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔ عدالتی تاخیر کو کم کرنے، کیس مینجمنٹ بہتر بنانے ، اے ڈی آر کا فعال نظام اور مقامی سطح پر قانونی معاونت مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عام شہری کو فوری اور شفاف انصاف مل سکے۔
وسائل میں اضافہ اور ترقیاتی فنڈنگ کے لیے حکومت کو وفاقی حکومت، دیگر صوبوں اور بین الاقوامی فنڈنگ اداروں کے ساتھ منظم اور پیشہ ورانہ روابط قائم کرنے ہوں گے۔ ہر بڑے منصوبے کے لیے پروجیکٹ تیاری یونٹس قائم کیے جائیں جو قابل عمل منصوبے تیار کر کے فنڈنگ حاصل کریں۔
امن و امان کا قیام بھی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ پولیس اصلاحات، کمیونٹی پولیسنگ، اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کے مواقع بڑھا کر سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
دور افتادہ علاقوں کی ترقی بھی اسی ابتدائی ایجنڈے کا لازمی حصہ ہے۔ ان علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں اور بنیادی صحت مراکز (BHUs) کا قیام، اور رسائی کے قابل ٹرانسپورٹ نظام کو ترجیح دی جائے تاکہ یہ علاقے ترقی کے مرکزی دھارے سے نہ کٹیں۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ ابتدائی سو دنوں کی کامیابی کا انحصار صرف منصوبوں پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ حکومت کتنی شفاف، جوابدہ اور مشاورتی طرزِ حکمرانی اختیار کرتی ہے۔ اگر کرپشن کے خاتمے، قانون کی بالادستی، عوامی دفاتر کی اصلاح، کمزور طبقات کے تحفظ اور وسائل کے مؤثر استعمال کو ترجیح دی جائے تو گلگت بلتستان ایک مضبوط، شفاف اور پائیدار ترقی کی سمت میں آگے بڑھ سکتا ہے۔






