ڈپٹی اسپیکر ملک کفایت سے چند گزارشات
تحریر: تنویر حقی
سب سے پہلے ایڈوکیٹ کفایت الرحمان صاحب کو گلگت بلتستان اسمبلی کا حصہ بننے اور بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر کے اہم منصب پر فائز ہونے پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی امیدوں پر پورا اتریں گے اور بالخصوص ایڈیشنل ضلع تانگیر کے شعبۂ تعلیم کی بہتری کے لیے نمایاں کردار ادا کریں گے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کسی بھی معاشرے کو خوشحال، پُرامن اور ترقی کی منازل کی طرف گامزن کرنے کے لیے سب سے اہم، بنیادی ضرورت اور اولین ترجیح ہر خاص و عام کے لیے معیاری تعلیم کی فراہمی ہے۔ اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ تعلیمی پسماندگی معاشرتی، معاشی اور فکری زوال کا باعث بنتی ہے۔
بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے اضلاع میں ضلع دیامر آج بھی معیاری تعلیمی سہولیات سے محروم ہے۔ معیاری تعلیمی اداروں کا فقدان یہاں کا ایک سنگین مسئلہ بن کر ہمارے لیے چیلنج بن چکا ہے، جن میں تانگیر نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
تانگیر کا واحد پبلک اسکول تانگیر گزشتہ پانچ سالوں سے علاقے میں معیاری تعلیم کا چراغ روشن کیے ہوئے ہے۔ شومئی قسمت سے یہی اکلوتا پبلک اسکول بھی مسائل کا شکار بنا ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں سے اساتذہ کی تنخواہوں کا مسئلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، کئی کئی ماہ تک تنخواہیں تعطل کا شکار رہتی ہیں، مگر اساتذہ نے مسائل کے باوجود کبھی درس و تدریس میں کمی نہیں آنے دی۔
اسی طرح اسکول کے چند بنیادی مسائل ہیں، جن کی جانب فوری توجہ دی جائے تو ادارے کی کارکردگی میں مزید نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے اور ملکی دیگر بہترین تعلیمی اداروں جیسا تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔
اولا، پبلک اسکول تانگیر کو ہائیر سیکنڈری اسکول کا درجہ دیا جائے تاکہ طلبہ کو انٹرمیڈیٹ تک معیاری تعلیم میسر آ سکے۔ آپ کے علم میں ہے کہ تانگیر ایک پسماندہ علاقہ ہے جو اب ایڈیشنل ضلع کی حیثیت حاصل کر چکا ہے، مگر پورے ضلع میں میٹرک کے بعد تعلیم کے حصول کے لیے کوئی معیاری تعلیمی ادارہ موجود نہیں۔ اس وجہ سے طلبہ کو مزید تعلیم کے لیے ملک کے دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ معاشی مشکلات، رہائشی مسائل اور تعلیمی و سفری اخراجات کے باعث اکثر طلبہ تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف طلبہ کی انفرادی صلاحیتوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہے بلکہ پورے ضلع کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔
دوم، اسکول کے لیے گرانٹ اِن ایڈ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ اساتذہ کی بروقت تنخواہیں، تعلیمی سرگرمیاں اور ادارے کے انتظامی امور متاثر نہ ہوں۔
سوم، اسکول کی ابتدائی مشتہر آسامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اساتذہ کی کمی فوری طور پر پوری کی جائے۔
چہارم، طلبہ کو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسکول میں انٹرنیٹ اور دیگر جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں۔
پنجم، ڈپٹی اسپیکر ایڈووکیٹ ملک کفایت الرحمن اپنے آئندہ دورۂ تانگیر کے دوران پبلک اسکول تانگیر کا خصوصی دورہ کریں، اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ سے ملاقات کریں، مسائل کا براہِ راست جائزہ لیں اور ان کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ڈپٹی اسپیکر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان، ایڈوکیٹ ملک کفایت الرحمن سے گزارش ہے کہ وہ اس اہم تعلیمی مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں، پبلک اسکول تانگیر کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دلوانے، گرانٹ اِن ایڈ میں اضافے، اساتذہ کی کمی پوری کرنے اور دیگر بنیادی مسائل کے مستقل حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
یہ اقدام صرف ایک ادارے کی بہتری نہیں بلکہ پوری قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، کیونکہ یہاں کے بچوں میں وہی جملہ صلاحیتیں موجود ہیں جو ملک بھر کے بڑے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بچوں میں پائی جاتی ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں بھی بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں۔
امید ہے کہ آپ ہماری ان گزارشات پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے۔






