بجلی کی آوارہ گردی

ہمارے ہاں بجلی ایک ایسی نکھرے والی مخلوق ہے جو نہ ہماری مرضی سے آتی ہے اور نہ ہماری مرضی سے جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے کسی شیڈول، قانون یا ضابطے سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ یہ من مانی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ آتے ہی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے اور جاتے وقت بددعاؤں کا ایک پورا تھیلا ساتھ لے جاتی ہے۔

سارا دن آنکھ مچولی کا کھیل جاری رہتا ہے۔ شام کے وقت بس اتنی دیر کے لیے نمودار ہوتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ لیں، پھر یہ آوارہ مزاج نہ جانے رات کس نگر میں بسر کرتی ہے۔ صبح دوبارہ چند لمحوں کے لیے حاضری لگاتی ہے، جیسے کسی دفتر میں صرف دستخط کرنے آئی ہو۔

نوّے کی دہائی میں جب پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں اس کی آمد ہوئی تو لوگوں نے والہانہ استقبال کیا۔ گھروں میں خوشی کا سماں تھا، لالٹینوں اور دیوں نے بھی شاید یہ سوچ کر سکھ کا سانس لیا ہوگا کہ اب ریٹائرمنٹ کا وقت آگیا ہے۔ مگر چند ہی برسوں میں معلوم ہوا کہ یہ تو بڑی آزاد منش طبیعت کی حامل ہے۔ کبھی آئے، کبھی غائب، کبھی پلک جھپکتے رخصت، کبھی گھنٹوں انتظار کرائے۔

ہمارے معروف شاعر و گلوکار صلاح الدین حسرت نے تو برسوں پہلے اس مزاج کو بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے اپنے شہرۂ آفاق شینا گیت میں شکوہ کرتے ہوئے کہا:

"تو کرے لم، بے کرے تھپ بے
تھئے جیلے جو بیزار”

یعنی تم کبھی جلوہ دکھاتے ہو اور کبھی غائب ہو جاتے ہو، تمہارے ان نکھروں کی وجہ سے ہم تم سے بے زار ہیں۔

اس وقت شاید لوگوں نے اس گیت کو شاعرانہ مبالغہ سمجھا ہوگا، مگر آج معلوم ہوتا ہے کہ حسرت صاحب تو مستقبل دیکھ رہے تھے۔ آج گلگت بلتستان کا بچہ بچہ بجلی کی انہی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں سے واقف ہے۔

صلاح الدین حسرت نے ایک اور دلچسپ بات بھی کہی۔ ان کے مطابق بجلی عام آدمی کی نہیں بلکہ بیوروکریسی اور صاحبِ اختیار لوگوں کی خاص مہمان ہے۔ جہاں بڑے دروازے، بڑے جنریٹر اور بڑا اثر و رسوخ ہو، وہاں یہ بڑی پابندی سے حاضری دیتی ہے۔ صاحبِ اختیار لوگ جب چاہیں، جس طرح چاہیں اس کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ عام لوگوں سے اسے جیسے چِڑ ہو۔ عام لوگ احترام سے انتظار بھی کریں تو شاید یہ ان کی گلی کا پتہ ہی بھول جاتی ہے۔

اس مفاد پرستی اور ابن الوقت مزاج پر آخرکار حسرت صاحب نے فیصلہ سناتے ہوئے اعلان کیا کہ اس سے تو ہمارا پرانا لالٹین ہی بہتر تھا، جو نہ موسم دیکھتا تھا، نہ مزاج، نہ شیڈول۔ سردی ہو یا گرمی، آندھی ہو یا برفباری، کم از کم ساتھ نبھانا تو جانتا تھا۔

آج بجلی کی اسی روش سے اہلِ قلم پریشان ہیں کہ لکھتے لکھتے خیال بھی چلا جاتا ہے اور کمپیوٹر بھی بند ہو جاتا ہے۔ اساتذہ سبق کے درمیان رک جاتے ہیں، طلبہ امتحان کی تیاری ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، فری لانسر انٹرنیٹ کے ساتھ اپنی امید بھی کھو بیٹھتے ہیں، ہوٹل مالکان مہمانوں سے نظریں چراتے ہیں، دفاتر میں فائلیں رک جاتی ہیں، گھروں میں خواتین کے کام الجھ جاتے ہیں، بچے ہوم ورک سے جان چھڑانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں اور بزرگ ہر بار یہی کہتے ہیں:

"ہم نے تو ایسی بجلی کبھی نہیں دیکھی۔”

مرحوم جمشید خان دکھی نے حکمرانوں پر کیا خوب طنز کیا تھا:

نہ بجلی دے سکے جو آدھی صدی میں
وہ حاکم کیا خاک ہمیں آئین دیں گے۔

واقعی، بجلی کی بے وفائی، نخرے اور بے قاعدگی کا ایسا نمونہ شاید دنیا میں کہیں اور نہ ملے۔ یہاں تو لوگوں نے گھڑی دیکھنا چھوڑ کر بلب دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اگر بلب جل رہا ہو تو وقت اچھا ہے، اگر بجھا ہو تو سمجھ لیجیے وقت بھی بجھ گیا۔

اب تو محسوس ہوتا ہے کہ اس مسئلے کا روایتی علاج کارگر نہیں رہا۔ میری عاجزانہ رائے میں اسے مکمل آزادی دینے کے بجائے کسی ایسے منتظم کے حوالے کر دینا چاہیے جو اس کی بے لگام عادتوں پر قابو پا سکے، اسے وقت کی پابندی سکھائے اور واضح کر دے کہ عوام کے ساتھ آنکھ مچولی نہیں، خدمت کی جاتی ہے۔

خلوص کا جواب بدمزاجی نہیں ہوتا، آزادی کا مطلب آوارہ گردی نہیں ہوتا۔ ذمہ داری کا احساس نہ ہو تو انسان بھی گوشت کا لوتھڑا ہی رہ جاتا ہے۔ تم تو ایک شے ہو؛ اگر مستقل مزاجی اور وقت کی پابندی سے ہی مبرا ہو جاؤ تو پھر کسی کام کی نہیں رہتیں۔ اگر اپنا مزاج درست نہ کیا تو اہم ہونے کے باوجود لوگ تم سے نفرت کا اظہار کرتے رہیں گے۔

آخر میں بجلی سے صرف ایک گزارش ہے کہ اگر مستقل رہنے کا ارادہ نہیں تو کم از کم آنے جانے کا وقت ہی بتا دیا کرے، تاکہ لوگ امید پر نہیں بلکہ شیڈول پر زندہ رہ سکیں۔

روز بدمزاجی کا مظاہرہ کر کے اپنی بے توقیری کے ساتھ عوام کے زخموں پر نمک پاشی بھی بند کی جائے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button