گلگت بلتستان: موسمیاتی تبدیلی اور نئی حکومت کی ترجیحات

قدرت کبھی اچانک فیصلہ نہیں سناتی، بلکہ انسان کو بار بار متنبہ کرتی ہے۔ کبھی گلیشیئر غیر معمولی رفتار سے پگھلتے ہیں، کبھی بے موسم بارشیں معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیتی ہیں، کبھی ندی نالے اپنی حدود توڑ دیتے ہیں اور کبھی چند گھنٹوں میں آباد بستیاں ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ قدرت نے ہمیں خبردار کیا یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان انتباہات کو سنجیدگی سے لیا؟

گزشتہ چند روز کے دوران گلگت، غذر، ہنزہ، استور، دیامر اور بلتستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی پہلی صف میں کھڑا ہے۔ کہیں مکانات بہہ گئے، کہیں پل ٹوٹ گئے، کہیں شاہراہیں لینڈ سلائیڈنگ کی نذر ہو گئیں اور کہیں کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

یہ صرف انفراسٹرکچر کا نقصان نہیں، بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کی امیدوں کا نقصان ہے جنہوں نے چند لمحوں میں اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کھو دی۔

ایک وقت تھا جب ایسے واقعات کو صرف قدرتی آفات سمجھا جاتا تھا، مگر اب سائنس نے واضح کر دیا ہے کہ یہ سب موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست اثرات ہیں۔ دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور اس کے سب سے سنگین اثرات انہی پہاڑی علاقوں پر مرتب ہو رہے ہیں جہاں صدیوں سے برف زندگی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 13 ہزار گلیشیئر موجود ہیں، جن کی اکثریت گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان میں واقع ہے۔ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں تین ہزار سے زائد گلیشیائی جھیلیں بن چکی ہیں، جن میں سے 33 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی جھیل پھٹتی ہے تو تقریباً 70 لاکھ افراد اس کے براہِ راست اثرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور عالمی درجہ بندی میں پہلے دس ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اس کے باوجود وہ موسمیاتی بحران کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ گلگت بلتستان کے وہ عظیم برفانی ذخائر ہیں، جو صنعتی ممالک کی دہائیوں پر محیط ماحولیاتی بے احتیاطی اور بے تحاشا کاربن اخراج کے اثرات براہِ راست برداشت کر رہے ہیں۔ گویا آلودگی کہیں اور پیدا ہوتی ہے، مگر اس کے تباہ کن نتائج گلگت بلتستان جیسے حساس علاقوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اپنے محدود وسائل سے اس غیر معمولی بحران کا مکمل مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی انصاف (Climate Justice) کے اصول کے تحت عالمی برادری کی مالی، تکنیکی اور سائنسی معاونت ناگزیر ہے۔

ایسے حالات میں یہ خوش آئند امر ہے کہ نو منتخب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، امجد حسین ایڈووکیٹ نے حلف اٹھانے کے فوراً بعد موسمیاتی تبدیلی کو خطے کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔ یہ ایک حقیقت پسندانہ اور دور اندیش مؤقف ہے، کیونکہ ماحول محفوظ ہوگا تو ہی ترقی پائیدار ہوگی۔

وزیر اعلیٰ کی جانب سے گلیشیئرز پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام کا اعلان بھی اسی وژن کا عکاس ہے۔ یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کو وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل چیلنج سمجھتے ہوئے ادارہ جاتی سطح پر اس سے نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف گلیشیئرز تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، جنگلات کی تباہی، آبی وسائل میں کمی اور زرعی نظام تک پھیل چکے ہیں۔ اس لیے اس ادارے کو وسعت دے کر گلگت بلتستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کی شکل دینا زیادہ مؤثر اور دیرپا قدم ہوگا، تاکہ تمام متعلقہ شعبوں پر ایک ہی پلیٹ فارم سے جامع انداز میں کام کیا جا سکے۔

ایسا ادارہ نہ صرف مقامی سطح پر بہتر منصوبہ بندی کرے گا بلکہ اقوام متحدہ، گرین کلائمیٹ فنڈ، عالمی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ گلگت بلتستان کے گلیشیئرز صرف اس خطے کا اثاثہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی آبی شہ رگ ہیں۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کا بیشتر پانی انہی برفانی ذخائر سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر یہ ذخائر تیزی سے متاثر ہوتے رہے تو اس کے اثرات صرف شمالی علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک کی زراعت، توانائی، معیشت اور آبی سلامتی بھی شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو تمام ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی جزو بنایا جائے۔ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے لے کر نئی آبادیوں کی منصوبہ بندی، ابتدائی وارننگ سسٹم، ماحول دوست تعمیرات، جنگلات کے تحفظ اور عوامی آگاہی تک ہر شعبے میں موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

گلگت بلتستان آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ ہر آفت کے بعد نقصانات کا ازالہ کرنے کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ پیشگی منصوبہ بندی، سائنسی تحقیق، مضبوط اداروں اور پائیدار ترقی کی طرف۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ موجودہ صوبائی قیادت نے اپنی ترجیحات میں موسمیاتی تبدیلی کو نمایاں مقام دیا ہے۔ اگر اس وژن کو مؤثر پالیسی، مضبوط اداروں، وفاقی تعاون اور عالمی شراکت داری کی مدد حاصل ہو جائے تو گلگت بلتستان نہ صرف اپنے لوگوں کو محفوظ بنا سکتا ہے بلکہ پورے پاکستان کے ماحولیاتی مستقبل کو بھی زیادہ محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button