جب شور، طاقت بن جائے اور اخلاق کمزوری

کالم: قطرہ قطرہ

معاشروں کی پہچان ان کی عمارتوں، شاہراہوں یا معیشت سے نہیں ہوتی بلکہ ان اقدار سے ہوتی ہے جنہیں وہ عزت دیتے ہیں۔ ہر قوم اپنے بچوں کو شعوری یا لاشعوری طور پر یہ سکھاتی ہے کہ کامیاب انسان کون ہے، طاقتور کون ہے اور قابلِ احترام کون ہے۔ یہی اقدار وقت کے ساتھ ایک اجتماعی کردار تشکیل دیتی ہیں۔

اگر معاشرہ سچائی، برداشت، دیانت اور احترام کو عزت دے تو یہی اوصاف نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں، لیکن اگر جھوٹ، بدتمیزی، دھونس اور جارحیت کو کامیابی کا راستہ سمجھ لیا جائے تو پھر اخلاقی زوال بھی ایک ثقافتی روایت بن جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم نے بہت سی برائیوں کے نام بدل دیے ہیں۔ بدتمیزی کو "بے باکی”، بدزبانی کو "دلیری”، چیخنے چلانے کو "اعتماد”، دوسروں کو نیچا دکھانے کو "اثر و رسوخ”، قانون توڑنے کو "چالاکی” اور جھوٹ کو "ہوشیاری” کا نام دے دیا ہے۔ الفاظ بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی، لیکن یہ ضرور ہوتا ہے کہ برائی آہستہ آہستہ قبولِ عام حاصل کر لیتی ہے۔

یہ رویے صرف سیاسی جلسوں یا ٹیلی وژن کے مباحثوں تک محدود نہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی بھی ان کی عکاسی کرتی ہے۔ گلا پھاڑ کر بولنا بے باکی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ پارلیمانی زبان میں دلیل سے بات کرنا سمجھوتہ تصور کیا جاتا ہے۔ سڑک پر قطار توڑ کر آگے نکل جانے والا خود کو ذہین سمجھتا ہے، جبکہ دفتر میں اپنی باری کا انتظار کرنا بعض اوقات کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

کسی کی بات پوری سنے بغیر اس پر حملہ آور ہو جانا معمول بن چکا ہے۔ دلیل کے بجائے آواز بلند کرنا کامیابی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی، معافی مانگنے کو ذلت اور برداشت کو بزدلی تصور کیا جاتا ہے۔ یوں شور، تہذیب پر غالب آ جاتا ہے۔

یہ اتفاق نہیں بلکہ ایک نفسیاتی عمل ہے۔ معروف ماہرِ نفسیات البرٹ بینڈورا کے مطابق انسان وہی رویے سیکھتا ہے جنہیں معاشرہ انعام دیتا ہے۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ شائستہ انسان نظرانداز ہو جاتا ہے جبکہ بدزبان اور جارح شخص زیادہ بااثر دکھائی دیتا ہے، تو ان کے ذہن میں یہی نقش بیٹھ جاتا ہے کہ عزت اخلاق سے نہیں بلکہ غلبے سے حاصل ہوتی ہے۔ یوں بدتہذیبی شخصیت کا حصہ نہیں بلکہ کامیابی کی حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔

ارسطو نے صدیوں پہلے کہا تھا کہ کردار ہماری عادتوں کا مجموعہ ہے۔ اگر ایک معاشرہ مسلسل بداخلاقی کو برداشت کرے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرے تو یہ عادتیں فرد سے نکل کر اجتماعی ثقافت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ پھر نئی نسل انہیں غلط نہیں سمجھتی بلکہ معمول سمجھ کر اختیار کر لیتی ہے۔

ہمارے ہاں سے کئی لوگ یورپ جا کر اپنی گفتگو اور رہن سہن میں مہذب بننے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں، مگر وہیں سے اپنی سماجی رابطوں کی ذرائع کے ذریعے یہاں کے لوگوں کے ساتھ لغو گفتگو بھی کرتے ہیں۔ ایسے لوگ یہاں کے لوگوں سے بات کرتے وقت یہاں کی سماجی اقدار کے تابع ہو جاتے ہیں۔

فرانسیسی مفکر پیئر بوردیو کے مطابق ہر معاشرہ یہ طے کرتا ہے کہ عزت کس چیز کو ملے گی۔ اگر طاقتور لوگ تحقیر، دھونس اور قانون شکنی کے ذریعے کامیاب دکھائی دیں تو یہی رویے سماجی سرمایہ بن جاتے ہیں۔ پھر نوجوان علم، کردار اور خدمت سے زیادہ رعب، تعلقات اور غلبے کو کامیابی کا راستہ سمجھنے لگتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایسے معاشروں میں طاقت کا تصور بھی بدل جاتا ہے، خصوصاً کمزور اور محروم طبقات کے ہاں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ انصاف کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ معنی رکھتا ہے تو ان کی خواہش بھی انصاف قائم کرنے کی نہیں بلکہ طاقت حاصل کرنے کی ہوتی ہے۔

ان کے نزدیک طاقت کا مطلب یہ نہیں رہتا کہ وہ لوگوں کی خدمت کریں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے، قانون ان تک نہ پہنچ سکے، ان کی آواز سب سے بلند ہو اور ان کے سامنے دوسروں کو خاموش ہونا پڑے۔ وہ اسی طاقت کے خواب دیکھنے لگتے ہیں جس نے کبھی انہیں دبایا تھا۔

جرمن ماہرِ نفسیات اور فلسفی ایرک فروم نے لکھا تھا کہ غیر محفوظ معاشروں میں لوگ اکثر اخلاقی قوت کے بجائے غلبے کی قوت کے پیچھے بھاگتے ہیں، کیونکہ انہیں طاقت میں تحفظ اور برتری کا احساس ملتا ہے۔ یہی احساس بعد میں سماجی رویوں کو مزید سخت، بے رحم اور عدم برداشت کا شکار بنا دیتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہم طاقت اور اخلاق کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ تاریخ اس کے برعکس گواہی دیتی ہے۔ اصل طاقت اپنے غصے پر قابو پانے میں ہے، مخالف کی بات سننے میں ہے، اپنی غلطی تسلیم کرنے میں ہے، قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنے میں ہے، کمزور کے حق کی حفاظت کرنے میں ہے اور اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنے میں ہے۔

چیخنا آسان ہے، دلیل دینا مشکل۔ دھونس جمانا آسان ہے، انصاف کرنا مشکل۔ اسی لیے مہذب معاشرے مشکل راستہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ غیر مہذب معاشرے آسان مگر تباہ کن راستے پر چل پڑتے ہیں۔

قوموں کے زوال کا آغاز معیشت سے پہلے اقدار کے زوال سے ہوتا ہے۔ جب شور دلیل پر، طاقت انصاف پر، تعلق قانون پر اور جھوٹ سچ پر غالب آ جائے تو پھر صرف ادارے نہیں بلکہ انسان بھی اندر سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔

اگر ہمیں ایک بہتر معاشرہ تعمیر کرنا ہے تو ہمیں سب سے پہلے طاقت کی تعریف بدلنی ہوگی۔ طاقت وہ نہیں جو دوسروں کو ڈرا دے، بلکہ طاقت وہ ہے جو دوسروں کو محفوظ محسوس کرائے۔

جس دن ہمارا معاشرہ اس فرق کو سمجھ لے گا، اسی دن ہماری اخلاقی تعمیرِ نو کا سفر بھی شروع ہو جائے گا، ورنہ اخلاقی زوال مجموعی زوال کی پہلی سیڑھی ہے، جس کے بعد معاشی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی زوال نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button