چپورسن شدید انسانی بحران سے دوچار: سخت سردیوں سے پہلے فوری بحالی ناگزیر
خصوصی تحریر: نذیر احمد
چپورسن وادی گزشتہ ایک سال سے مسلسل غیر معمولی حالات کا سامنا کر رہی ہے۔ جولائی 2025 سے وادی کے مختلف علاقوں میں زیرِ زمین گرج، دھماکوں جیسی آوازیں اور وقفے وقفے سے زمین میں جھٹکے محسوس کیے جاتے رہے۔ اس کے بعد 19 جنوری 2026 کو آنے والے شدید زلزلے نے وادی میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جبکہ مارچ اور اپریل 2026 میں آنے والے مزید شدید جھٹکوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ آج بھی مختلف مقامات پر زیرِ زمین آوازیں اور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث عوام مسلسل خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
زلزلے کو کئی ماہ گزر چکے ہیں، لیکن متاثرہ علاقوں میں بحالی کا باقاعدہ اور جامع عمل اب تک شروع نہیں ہو سکا۔ سخت سردیوں کی آمد میں اب دو ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، جبکہ پوری چپورسن وادی کے متاثرہ خاندان آج بھی صرف عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ خیمے شدید برفباری، منفی درجہ حرارت، تیز ہواؤں اور طویل موسمِ سرما کا مقابلہ کرنے کے لیے ہرگز مناسب نہیں ہیں۔
تشویش کی بات صرف رہائش تک محدود نہیں۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کا نظام، تعلیمی ادارے، بنیادی صحت کی سہولیات، واش رومز، رابطہ سڑکیں اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ معمول کی زندگی اب تک بحال نہیں ہو سکی، جبکہ بچے، خواتین، بزرگ اور بیمار افراد سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی سردیاں ایک بڑے انسانی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔
اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر ایسے عارضی مگر سردی سے محفوظ شیلٹرز فراہم کیے جائیں جو شدید موسمی حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی، تعلیمی اداروں، بنیادی صحت کی سہولیات، واش رومز، رابطہ سڑکوں اور دیگر ضروری انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام بھی فوری بنیادوں پر شروع کیا جائے۔
ہم وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جناب امجد ایڈووکیٹ اور حلقے کے منتخب نمائندے جناب نیک نام کریم سے پُرخلوص اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر چپورسن وادی کا دورہ کریں، زمینی حقائق کا خود جائزہ لیں اور اس انسانی بحران کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں۔ چپورسن کے عوام اب مزید یقین دہانیوں کے نہیں بلکہ بروقت، مؤثر اور نظر آنے والے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔
اسی طرح ہم حکومتِ گلگت بلتستان، متعلقہ وفاقی اداروں، AKDN، امامتی اداروں، FOCUS، دیگر فلاحی تنظیموں، این جی اوز اور تمام متعلقہ اداروں سے بھی پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت فوری طور پر بحالی کا عمل شروع کریں اور موسمِ سرما سے پہلے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کریں۔
ہم علاقے کے منتخب نمائندوں، سیاسی و سماجی کارکنوں، نوجوانوں، صحافیوں، میڈیا ہاؤسز اور مقامی و قومی نیوز اداروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس انسانی مسئلے کو مسلسل اجاگر کریں، متعلقہ حکام تک متاثرہ عوام کی آواز پہنچائیں اور چپورسن کو اس نازک وقت میں فراموش نہ ہونے دیں۔
اس موقع پر اہلِ چپورسن پورے گلگت بلتستان، بالخصوص ہنزہ اور گوجال کے عوام، سماجی تنظیموں، رضاکاروں، نوجوانوں، مخیر حضرات اور تمام اداروں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، جنہوں نے زلزلے کے ابتدائی دنوں میں مالی امداد، راشن، ضروری سامان، رہائش، اخلاقی حمایت اور ہر ممکن تعاون فراہم کر کے بے مثال یکجہتی اور بھائی چارے کا ثبوت دیا۔ اہلِ چپورسن اس محبت اور تعاون کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
آج ایک بار پھر ہمیں انہی بھائیوں، بہنوں اور اداروں کی ضرورت ہے۔ اس بارامدادی سامان نہیں بلکہ ایک مضبوط اجتماعی آواز، مؤثر رابطہ کاری اور متعلقہ اداروں پر مثبت انداز میں توجہ دلانے کی ضرورت ہے تاکہ بحالی کا عمل مزید تاخیر کا شکار نہ ہو۔
چپورسن کے لوگ حوصلہ مند ضرور ہیں، لیکن انہیں ایک اور سخت موسمِ سرما صرف عارضی خیموں میں گزارنے کے لیے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ہر گزرتا دن مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ موسمِ سرما تیزی سے قریب آ رہا ہے۔
وقت بہت کم ہے۔ اگر آج فوری، منظم اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو کل بہت دیر ہو سکتی ہے۔ چپورسن کے عوام کو مزید انتظار نہیں بلکہ فوری بحالی، محفوظ رہائش اور بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔ اب فیصلہ کن اقدام کا وقت ہے۔






