گلگت۔شندور روڈ: متاثرین معاوضے کے منتظر، ترقی کا سفر کیوں رکا ہوا ہے؟
گلگت۔شندور روڈ گلگت بلتستان کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ شاہراہ نہ صرف غذر بلکہ پورے خطے کی معاشی، تجارتی اور سیاحتی ترقی کی ضامن سمجھی جاتی ہے۔ عوام کو امید تھی کہ اس سڑک کی تعمیر سے سفری مشکلات کم ہوں گی، سیاحت کو فروغ ملے گا، تجارت میں اضافہ ہوگا اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ لیکن افسوس کہ اس اہم منصوبے کی رفتار مختلف انتظامی اور مالی مسائل کے باعث مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ ان متاثرین کا ہے جن کی زمینیں اور املاک تین سال قبل سڑک کی زد میں آ چکی ہیں، مگر آج تک انہیں معاوضہ ادا نہیں کیا جا سکا۔ اس دوران متاثرہ زمینوں پر نہ کاشتکاری کی جا سکتی ہے اور نہ ہی تعمیرات کی اجازت ہے۔ یوں درجنوں خاندان ایک غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہیں۔ ان کی قیمتی زمینیں بھی ان کے کسی کام کی نہیں رہیں اور معاوضہ بھی ابھی تک نہیں ملا۔
ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ متاثرین کی زمینوں کا ریکارڈ، پیمائش اور معاوضے سے متعلق تمام دستاویزی کارروائی مکمل کی جا چکی ہے، تاہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے فنڈز فراہم نہ ہونے کے باعث ادائیگیاں ممکن نہیں ہو سکیں۔ دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے منصوبے کے لیے فنڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف متاثرین کو معاوضہ ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے بلکہ سڑک کی تعمیر بھی شدید سست روی کا شکار ہے۔
اس تاخیر کے اثرات صرف متاثرین تک محدود نہیں۔ تعمیراتی کمپنیوں کی بھاری مشینری مختلف مقامات پر کھڑی ہے، جبکہ آبادی والے علاقوں میں مقامی لوگ معاوضہ ملنے تک تعمیراتی کام کی اجازت نہیں دے رہے۔ نتیجتاً کمپنیوں کو روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور منصوبے کی تکمیل مزید تاخیر کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گلگت۔شندور روڈ گلگت بلتستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے۔ اس شاہراہ کی تکمیل سے نہ صرف غذر بلکہ چترال اور دیگر ملحقہ علاقوں کے درمیان رابطے بہتر ہوں گے، سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، اور ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعلقہ ادارے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔ سب سے پہلے متاثرین کو ان کی زمینوں اور املاک کا جائز معاوضہ فوری ادا کیا جائے تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو دوبارہ منظم کر سکیں اور منصوبے پر کام بھی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
ترقیاتی منصوبے صرف سڑکیں بنانے کا نام نہیں، بلکہ ان منصوبوں سے متاثر ہونے والے شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر متاثرین کو بروقت انصاف اور معاوضہ فراہم کیا جائے تو نہ صرف عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہوگا بلکہ گلگت۔شندور روڈ جیسے اہم منصوبے بھی جلد اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے، جو یقیناً گلگت بلتستان کی خوشحالی اور روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوں گے۔






