پیرنٹنگ سکل یعنی والدین بننے کا ہنر ، پر امن معاشرے کی ضمانت
کالم: قطرہ قطرہ
ہم عموماً چائلڈ ابیوز یعنی بچوں کے ساتھ زیادتی کو صرف جنسی زیادتی سمجھتے ہیں، حالانکہ بچے کے خلاف جرم اور استحصال کی دنیا اس سے کہیں وسیع ہے۔ جسمانی تشدد، جنسی زیادتی، نفسیاتی اور جذباتی اذیت، گالیاں، دھمکیاں، مارپیٹ، مسلسل تذلیل، نظر انداز کرنا، اغوا، کم عمری کی شادی، جبری مشقت، بھیک منگوانا، ٹریفکنگ، منشیات کا عادی بنانا اور ہر وہ عمل جو بچے کی جسمانی، ذہنی، جذباتی یا سماجی نشوونما کو نقصان پہنچائے، بچوں کے خلاف تشدد اور استحصال کے دائرے میں آتا ہے۔ بچوں کے خلاف یہ تمام جرائم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ایک جرم دوسرے جرم کو جنم دیتا ہے۔
گلگت بلتستان کا اپنا چائلڈ پروٹیکشن رسپانس ایکٹ 2017 بھی چائلڈ ابیوز میں جسمانی یا نفسیاتی تشدد، استحصال، چوٹ، نظر انداز کرنا، بدسلوکی اور جنسی زیادتی کو شامل کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارا بچہ محفوظ کہاں ہے؟
گھر میں، اسکول میں، مدرسے میں، کالج میں، محلے میں، کھیل کے میدان میں، کام کی جگہ پر اور حتیٰ کہ بعض اوقات عوامی مقامات پر بھی بچے مختلف نوعیت کے خطرات سے دوچار ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے یہ کہہ سکے کہ اسے کبھی گالی نہیں پڑی، بددعا نہیں ملی، ذلیل نہیں کیا گیا، تھپڑ نہیں کھایا یا کسی بڑے کے غصے اور تشدد کا نشانہ نہیں بنا۔
ہم نے تشدد کو تربیت کا نام دے رکھا ہے۔
بچہ ضد کرے تو مارو۔
غلطی کرے تو ڈانٹو۔
بات نہ مانے تو ذلیل کرو۔
امتحان میں نمبر کم آئیں تو گالی دو۔
غریب ہو تو اسے کام پر لگا دو۔
لڑکی ہو تو جلدی شادی کر دو۔
اور اگر بچہ اپنے جذبات کا اظہار کرے تو اسے بدتمیز قرار دے دو۔
یہ تربیت نہیں، ایک ایسے انسان کی ذہنی تعمیر ہے جو خوف، عدم تحفظ اور مسلسل ذہنی دباؤ کے ساتھ بڑا ہوتا ہے۔
بچپن میں تشدد اور مسلسل خوف انسان کی جذباتی اور سماجی نشوونما پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں اور بعد کی زندگی میں جارحیت، غصے، تعلقات کے مسائل اور تشدد کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ اسی لیے بچوں کو تشدد سے بچانا صرف بچوں کے حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پُرامن معاشرے کی تعمیر کا بنیادی تقاضا ہے۔ عالمی سطح پر مثبت والدین اور پرورش کی دیکھ بھال کے پروگراموں کو بچوں کے ساتھ تشدد اور نظر انداز کرنے کے واقعات کم کرنے کے مؤثر ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تشدد صرف گھر تک محدود نہیں۔ سیاسی اختلاف ہو تو گالم گلوچ، سماجی اختلاف ہو تو تضحیک، خاندانی اختلاف ہو تو مارپیٹ، مذہبی اختلاف ہو تو نفرت، معاشی دباؤ ہو تو غصہ اور معمولی اختلاف پر بھی برداشت ختم۔ ہم ہر سطح پر ایک دوسرے سے لڑنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کا ایک بنیادی علاج بچپن کی اصلاح ہے۔
ہم نے شادی کو بھی ایک ایسے سماجی عمل میں تبدیل کر دیا ہے جس کے لیے انسان سے تقریباً کوئی تیاری نہیں مانگی جاتی۔ گھر والے کہتے ہیں عمر ہوگئی ہے، شادی کر دو۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کیا یہ شخص ذہنی طور پر متوازن ہے؟ کیا وہ غصے پر قابو رکھ سکتا ہے؟ کیا وہ اختلاف کو برداشت کرسکتا ہے؟ کیا وہ معاشی طور پر اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل ہے؟ کیا وہ بچے کی ضروریات، جذبات اور حقوق کو سمجھتا ہے؟
یہ تصور بھی ہمارے معاشرے میں عام ہے کہ ’’شادی کر دو، خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
یہ خطرناک سوچ ہے۔
جو شخص شادی سے پہلے ہی شدید غصے، تشدد، نشے، غیر ذمہ داری، ذہنی عدم توازن، بدسلوکی یا مالی بے قاعدگی کا شکار ہے، محض شادی کر دینے سے لازماً ٹھیک نہیں ہوجاتا۔ بعض اوقات اس کی مشکلات کا خمیازہ بیوی اور بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
خراب انسان کی شادی اس کا علاج نہیں؛ پہلے انسان کو بہتر بنانا ضروری ہے، پھر شادی کرنی چاہیے۔
اسی طرح شادی کے بعد بچے پیدا کرنا بھی صرف حیاتیاتی عمل نہیں بلکہ ایک اخلاقی، معاشی اور سماجی ذمہ داری ہے۔
بچے پیدا کرنا آسان ہے، مگر ان کی پرورش مشکل ہے۔
ہر بچے کو مناسب غذا، لباس، صحت کی سہولت، تعلیم، محفوظ ماحول، محبت، وقت، توجہ، جذباتی سہارا اور تحفظ چاہیے۔ اگر والدین یہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو درجنوں بچے پیدا کرکے انہیں معاشرے، رشتہ داروں یا ریاست کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ذمہ داری نہیں بلکہ بچوں کے حقوق سے غفلت ہے۔
اتنے ہی بچے پیدا کیے جائیں جنہیں عزت، صحت، تعلیم، محبت اور تحفظ کے ساتھ پروان چڑھایا جاسکے۔
ریاست یتیم، بے سہارا اور انتہائی ضرورت مند بچوں کے لیے متبادل نگہداشت اور کفالت کا نظام قائم کرسکتی ہے، ریاست بچوں کے خلاف جرائم پہ سزائیں دے سکتی ہے، صحت اور تعلیم اور بحالی کا اہتمام کرسکتی ہے ، لیکن ریاست ہر خاندان کے ہر بچے کی روزمرہ پرورش کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی۔ بچے کی پہلی اور بنیادی ذمہ داری والدین اور سرپرستوں کی ہے۔
ہم ہر ملازمت کے لیے تربیت ضروری سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، پولیس افسر اور ڈرائیور بننے کے لیے تربیت اور اہلیت چاہتے ہیں، مگر والدین بننے کے لیے کسی تیاری کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
حالانکہ والدین بننا بھی ایک مہارت ہے۔
اچھے والدین کو کم از کم یہ مہارتیں آنی چاہئیں:
اول، جذباتی تربیت یعنی بچے کے خوف، غصے، اداسی اور پریشانی کو سمجھنا اور اسے اظہار کا محفوظ موقع دینا۔
دوم، مثبت نظم و ضبط یعنی مار، گالی اور تذلیل کے بجائے واضح اصول، مناسب حدود، گفتگو اور مثبت حوصلہ افزائی کے ذریعے تربیت کرنا۔ بچے والدین کے کہنے سے زیادہ ان کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ جیسے ماں باپ کے رویے ہونگے ایسے بچو ں کے رویے ہونگے۔
سوم، مؤثر ابلاغ یعنی بچے کی بات سننا، اس کی رائے کو اہمیت دینا اور اختلاف کے باوجود عزت سے بات کرنا۔
چہارم، بچوں کے تحفظ کی مہارتیں یعنی بچے کو اچھے اور برے لمس، خطرناک صورتحال، آن لائن خطرات، اجنبیوں اور استحصال سے محفوظ رہنے کے بنیادی طریقے سکھانا۔
پنجم، عمر کے مطابق تربیت یعنی ہر عمر کے بچے کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ پانچ سال کے بچے اور پندرہ سال کے نوجوان کو ایک ہی طریقے سے نہیں پالا جاسکتا۔
ششم، ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی مہارت یعنی والدین کو اپنے غصے، ذہنی دباؤ اور بے چینی کو سنبھالنے کی مہارت حاصل ہونی چاہیے تاکہ ان کا دباؤ بچوں پر تشدد کی صورت میں منتقل نہ ہو۔
ہفتم، صحت اور غذائیت یعنی بچے کی خوراک، صفائی، حفاظتی ٹیکوں، بنیادی صحت اور نشوونما کے متعلق ضروری معلومات۔
ہشتم، تعلیم اور ابتدائی بچپن کی نشوونما یعنی بچے کی ابتدائی عمر میں کھیل، گفتگو، پڑھنے، سیکھنے اور ذہنی نشوونما کی اہمیت سمجھنا۔
نہم، صنفی مساوات اور احترام یعنی بیٹے اور بیٹی میں بنیادی انسانی حقوق، محبت، تعلیم اور مواقع کے حوالے سے امتیاز نہ کرنا۔
دہم، مالی منصوبہ بندی یعنی شادی سے پہلے اور بچے پیدا کرنے سے پہلے اپنی آمدنی، رہائش، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا۔
پاکستان میں اس حوالے سے کام بالکل ناممکن نہیں۔ یونیسف پاکستان پہلے ہی والدین کی تعلیم کے لیے تربیتی کتابچے اور شرکاء کے لیے رہنما کتابیں تیار کرچکا ہے، جن میں والدین اور نگہداشت کرنے والوں کو پرورش، جواب دہ نگہداشت اور مؤثر ابلاغ کی تربیت دینے کا طریقہ موجود ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں یونیسف کے تعاون سے والدین کی تربیت کے پروگرام کو 2024 تک 122 اضلاع تک وسعت دی جاچکی تھی اور لاکھوں نگہداشت کرنے والوں تک رسائی حاصل کی گئی۔ یعنی ہمارے پاس ماڈل بھی ہے اور تجربہ بھی؛ ضرورت اسے مقامی سطح پر مؤثر اور مستقل بنانے کی ہے۔
پاکستان میں شادی سے پہلے عموماً جہیز، خاندان، رسم و رواج اور اخراجات پر بات ہوتی ہے، مگر ازدواجی زندگی کی اصل ذمہ داریوں پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے۔
ضرورت ہے کہ شادی سے پہلے مشاورت کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
شادی سے پہلے جوڑے کو کم از کم ان موضوعات پر مشاورت دی جائے:
ازدواجی حقوق اور ذمہ داریاں، غصہ اور اختلاف کو پُرامن طریقے سے حل کرنا، گھریلو تشدد کی روک تھام، ذہنی صحت اور ذہنی دباؤ سے نمٹنا، مالی منصوبہ بندی، تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی تعداد اور ذمہ دارانہ والدین بننے کا تصور، بچے کے حقوق اور بچوں کا تحفظ، مثبت والدین بننا، سسرالی اور خاندانی تعلقات میں حدود، ڈیجیٹل اور آن لائن بچوں کے تحفظ کے بنیادی اصول۔
یہ مشاورت کسی ایک مذہبی یا سماجی طبقے کے خلاف اقدام نہیں بلکہ خاندان کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہونی چاہیے۔
اسی طرح نکاح خواں اور نکاح رجسٹرار کو بھی بنیادی بچوں کے تحفظ، گھریلو تشدد، ازدواجی ذمہ داریوں اور متعلقہ قوانین کی تربیت دی جاسکتی ہے۔ نکاح کے موقع پر جوڑے کو ایک مختصر، معیاری خاندانی ذمہ داری اور والدین کی تربیت سے متعلق معلوماتی پیکج فراہم کیا جائے اور اس کے حصول کو نکاح کے انتظامی عمل کا حصہ بنایا جائے۔
والدین کی تربیت کہاں سے آئے گی؟
یہ کام صرف غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست کو اسے باقاعدہ عوامی پالیسی بنانا ہوگا۔
گلگت بلتستان میں مقامی حکومت، سماجی بہبود، صحت، تعلیم، بہبودِ آبادی، مذہبی امور اور بچوں کے تحفظ کے اداروں کو مشترکہ پروگرام بنانا چاہیے۔
ہر یونین کونسل یا مقامی حکومت کی سطح پر والدین کی تربیت کے سیشن منعقد کیے جاسکتے ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، اساتذہ، سماجی کارکنان، کمیونٹی رضاکار، مذہبی علماء اور تربیت یافتہ مشیران کو تربیت دینے والے ماہرین بنا کر گھر گھر اور کمیونٹی کی سطح پر تربیت پہنچائی جاسکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے اسکولوں میں والدین کی تربیتی کلاسیں، شادی سے پہلے مشاورت کے مراکز، اسپتالوں میں نئے والدین کے لیے مختصر تعارفی نشستیں، مساجد میں آگاہی نشستیں اور مقامی حکومت کے زیر اہتمام ماہانہ خاندانی نشستیں شروع کی جاسکتی ہیں۔
یونیسف کے پاکستان پروگرام کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ موجودہ حکومتی ڈھانچے، سول سوسائٹی اور کمیونٹی پر مبنی نیٹ ورکس کے ذریعے والدین کی تعلیم کو بڑے پیمانے پر پہنچایا جاسکتا ہے۔
بچوں کے تحفظ کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست والدین کی جگہ لے لے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ریاست والدین کو بہتر والدین بننے کے قابل بنائے۔
گلگت بلتستان میں ایک جامع والدین اور خاندانی بہبود کی پالیسی بنائی جانی چاہیے، جس میں شادی سے پہلے مشاورت، والدین کی تعلیم، نکاح خواں کی تربیت، خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کا تحفظ، مثبت نظم و ضبط، گھریلو تشدد کی روک تھام اور نفسیاتی معاونت کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جائے۔
آخرکار بچوں کے خلاف تشدد کا مقابلہ صرف مجرم کو جیل بھیجنے سے نہیں ہوگا۔ جرم کے بعد کارروائی ضروری ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہم جرم پیدا کرنے والی سماجی اور خاندانی وجوہات کو کم کریں۔
ہمیں ایسے بچے نہیں چاہئیں جو خوف میں بڑے ہوں، جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہوں اور پھر بڑے ہوکر خود یہی سرگرمیوں میں ملوث ہوکر خوف پھیلائیں۔
ہمیں ایسے والدین چاہئیں جو سمجھیں کہ بچے ان کی ملکیت نہیں، امانت اور ذمہ داری ہیں۔
اور ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں شادی صرف عمر پوری ہونے پر نہ ہو بلکہ ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت پیدا ہونے پر ہو؛ جہاں بچے صرف پیدا نہ کیے جائیں بلکہ ان کی پرورش کی جائے؛ جہاں تربیت کا مطلب مار نہیں بلکہ رہنمائی ہو؛ جہاں باپ کا اختیار خوف نہیں بلکہ اعتماد ہو؛ اور جہاں ماں باپ کو یہ معلوم ہو کہ ایک بچے کو دنیا میں لانا دراصل ایک انسان کو مستقبل دینے کا عہد ہے۔
بچوں کو محفوظ بنانا ہے تو پہلے والدین کو والدین بننے کی مہارتیں دینا ہوں گی۔
اور اگر ہمیں پُرامن معاشرہ چاہیے تو ہمیں پُرامن بچپن پیدا کرنا ہوگا۔





