بچوں کا تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں

وادیٔ ہنزہ میں ایک کم سن بچے کے مبینہ اغوا اور اجتماعی جنسی زیادتی کے افسوسناک واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے گلگت بلتستان کے باشعور شہریوں کو شدید صدمے، اضطراب اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک بچے کے ساتھ ہوننے والا سنگین جرم نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر، معاشرتی اقدار اور بچوں کے تحفظ کے نظام کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ سوال ہے۔ ایسے واقعات پر خاموشی اختیار کرنا یا انہیں محض ایک خبر سمجھ کر نظرانداز کر دینا کسی بھی مہذب معاشرے کا شیوہ نہیں ہونا چاہیے۔
ہنزہ صرف گلگت بلتستان کا ایک خوبصورت چہرہ نہیں بلکہ اپنی قدرتی خوبصورتی، بلند شرحِ خواندگی، تہذیب و تمدن، سماجی نظم، رواداری اور مہمان نوازی کے باعث دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں اور یہاں کے پُرسکون ماحول، قدرتی حسن اور مہمان نواز معاشرے سے لطف اندوز ہو کر اپنی تھکن دور کرتے ہیں۔
آج ہنزہ جیسے پرامن علاقے میں کم سن بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی، اغوا یا دیگر سنگین جرائم کی اطلاعات پورے معاشرے کے لیے معمول کے کسی واقعے سے کہیں زیادہ تشویشناک ہیں۔ تاہم ہمیں اس معاملے کو کسی مخصوص علاقے کی بدنامی تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ جرم کا کوئی جغرافیہ، مذہب، طبقہ یا معیار نہیں ہوتا۔ اگر کسی بچے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اصل سوال یہ ہے کہ وہ بچہ محفوظ کیوں نہیں تھا؟ وہ اپنی عمر سے زائد افراد کے ساتھ کسی مشکوک مقام پر جانے اور وہاں رات گزارنے پر کیوں مجبور ہوا؟ کیا اس نے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر کوئی آواز اٹھائی؟ کیا متعلقہ افراد یا ہوٹل انتظامیہ نے ان مشکوک سرگرمیوں پر کوئی توجہ نہیں دی؟ معاشرے نے اپنی ذمہ داری کہاں ادا کی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہم اپنے بچوں کے لیے ایسا ماحول بنا سکے ہیں جہاں وہ بلاخوف اپنی مشکلات اور پریشانیوں کا اظہار کر سکیں؟
ہنزہ میں پیش آنے والا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا کوئی انوکھا واقعہ ہرگز نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں ایک عرصے کے سے مختلف نوعیت کے جرائم اور پُرتشدد واقعات کے ایک ایسے سلسلے کی کڑی ہے جو آہستہ آہستہ ایک معاشرتی ناسور بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہم سب آئے روز دیکھتے ہیں کہ کسی نہ کسی علاقے سے معاشرتی برائی یا جرم کی کوئی نہ کوئی خبر گردش کرتی رہتی ہے۔ کہیں رات کی تاریکی میں قتل کے واقعات رونما ہوتے ہیں، کہیں راہ چلتی خواتین سے موبائل فون اور پرس چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے، کہیں معصوم بچوں کو بہلا پھسلا کر ان کے استحصال کی کوشش کی جاتی ہے، کہیں راہ چلتی خواتین پر طرح طرح کے نازیبا تبصرے کیے جاتے ہیں اور کہیں کم سن بچوں کے اغوا اور ج جنسی زیادتی جیسے انتہائی گھناونے واقعات سامنے آتے ہیں۔
اگرچہ ہر واقعے کی نوعیت، پس منظر اور حقیقت الگ ہو سکتی ہے اور ہر الزام کو تحقیقات اور قانونی عمل کے بعد ہی حتمی حیثیت دی جا سکتی ہے، لیکن ان واقعات کا مجموعی تاثر معاشرتی سطح پر ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی ضرور کرتا ہے۔ ہمیں اس رجحان کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس کی وجوہات، محرکات اور سدباب کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو بچوں کے خلاف جرائم ہیں۔ بچے ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ہیں۔ وہ نہ اپنے حقوق کے لیے مؤثر آواز اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی اکثر یہ سمجھ پاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا غلط ہو رہا ہے۔ مجرم اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کبھی لالچ دے کر، کبھی ڈرا دھمکا کر، کبھی اعتماد کا رشتہ قائم کرکے اور کبھی انہیں ایسی جگہ لے جا کر جہاں ان کی مدد کرنے والا کوئی موجود نہ ہو۔
ایسے معاملات میں قصور صرف بچوں یا ان کے والدین پر ڈال دینا درست نہیں۔ والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ، پولیس، انتظامیہ، متعلقہ ادارے اور مجموعی طور پر معاشرہ بھی اس ذمہ داری میں برابر کا شریک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک پیچیدہ اور سست عدالتی نظام بھی انصاف کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ہمیں ایسا مؤثر حفاظتی نظام تشکیل دینا ہوگا جہاں کسی بچے کے ساتھ زیادتی کا امکان پیدا ہونے سے پہلے ہی خطرات کی نشاندہی کی جا سکے اور اگر کوئی واقعہ رونما ہو تو متاثرہ بچے کو فوری تحفظ، طبی امداد، نفسیاتی معاونت اور قانونی انصاف فراہم کیا جائے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو عمر کے مطابق یہ تعلیم دیں کہ ان کے جسم، عزت اور ذاتی حدود کا احترام ضروری ہے۔ انہیں یہ بھی سمجھایا جائے کہ اسکول، بازار، پارک یا کسی دوسری جگہ جاتے ہوئے محفوظ راستہ اور محفوظ مقام کون سا ہے، کسی مشکوک شخص یا صورتِ حال سے کیسے بچنا ہے اور اگر کوئی انہیں خوفزدہ کرے، دھمکائے یا نامناسب رویہ اختیار کرے تو فوراً والدین، استاد یا کسی قابلِ اعتماد شخص کو اطلاع دینی چاہیے۔ بچوں میں اعتماد پیدا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں خوف یا شرمندگی کے باعث خاموش نہ رہیں۔
تعلیمی اداروں میں روایتی طرزِ تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل، ذہنی صحت اور بچوں کے تحفظ سے متعلق واضح پالیسیاں مرتب کی جانی چاہئیں۔ اساتذہ، معاون عملے اور دیگر متعلقہ افراد کو ان پالیسیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی جائے۔ اداروں میں بچوں کے ساتھ برتاؤ کے واضح اصول، شکایات کے محفوظ طریقۂ کار اور فوری رپورٹنگ کا مؤثر نظام لازمی طور پر موجود ہونا چاہیے۔ بچوں کو یہ یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ اگر وہ کسی مسئلے کے بارے میں بات کریں گے تو انہیں ڈانٹا یا خاموش نہیں کرایا جائے گا بلکہ ان کی بات سنی جائے گی اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
اس معاملے میں معاشرے کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ایسے واقعات کو بدنامی کے خوف سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خاندان یہ سوچ کر خاموش ہو جاتا ہے کہ بچے کا مستقبل متاثر ہوگا، لوگ یہ خوف رکھتے ہیں کہ معاشرتی عزت مجروح ہوگی، جبکہ بعض اوقات مجرم اسی خاموشی کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں۔ ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ بدنامی جرم کی نہیں، جرم کرنے والے کی ہونی چاہیے۔ متاثرہ بچے یا خاندان کو شرمندہ کرنے کے بجائے انہیں تحفظ، ہمدردی اور انصاف فراہم کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
ان سب سے بڑھ کر ذمہ داری ریاست کی ہے۔ ریاستی اداروں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر جرم کے بعد پولیس حرکت میں آتی ہے، حالانکہ جرائم کی روک تھام کے لیے پیشگی نگرانی اور مؤثر انٹیلی جنس نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پولیس کے پاس ہر ضلع، شہر اور حتیٰ کہ بعض علاقوں میں مقامی سطح تک اطلاعاتی اور نگرانی کا نظام موجود ہوتا ہے، جبکہ کئی مقامات پر کمیونٹی پولیسنگ بھی فعال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ذرائع کو صرف ریاست یا حکومت مخالف سرگرمیوں کی نگرانی تک محدود رکھنے کے بجبجائے معاشرتی برائیوں، مشکوک سرگرمیوں، منشیات، بچوں کے استحصال اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔
جرائم کی روک تھام کے لیے صرف قانون کا موجود ہونا کافی نہیں، بلکہ قانون کا مؤثر اور بلاامتیاز نفاذ بھی ضروری ہے۔ ایسے واقعات کی صورت میں پولیس کو بچوں کے خلاف جرائم کی تفتیش کے لیے خصوصی تربیت دی جانی چاہیے۔ ایسے مقدمات میں سیاسی، سماجی یا بااثر افراد کے دباؤ سے بالاتر ہو کر تحقیقات ہونی چاہئیں اور کسی بھی حوالے سے قانونی سقم نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ تفتیش کے دوران شواہد کو محفوظ رکھنا، متاثرہ بچے کی شناخت اور عزتِ نفس کا تحفظ کرنا اور مقدمے کو میرٹ پر آگے بڑھانا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح استغاثہ کے اداروں کو بھی ایسے واقعات کی ذمہ داری کے ساتھ پیروی کرنی چاہیے۔ تمام تر شواہد بروقت جمع کیے جائیں، تفتیشی مراحل میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے اور مقدمات کی پیروی میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔ معززعدالتوں کو بھی بچوں کے خلاف جرائم کے مقدمات پرخصوصی توجہ دینی چاہیے۔ قانونی تقاضے مکمل ہونے کی صورت میں ایسے مقدمات کو غیر ضروری طوالت کا شکار ہونے سے بچایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو بروقت انصاف مل سکے۔ جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو اور معاشرے میں قانون کی بالادستی کا واضح پیغام جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشرتی جرائم صرف پولیس کو متحرک کرنے یا کسی ایک واقعے کے ملزمان کو سزا دینے سے ختم نہیں ہوتے۔ غربت، بے روزگاری، منشیات، خاندانی انتشار، عدم برداشت، کمزور سماجی نگرانی، جرائم پر خاموشی اور قانون کے مؤثر نفاذ میں کمزوری جیسے عوامل بھی جرائم کے ماحول کو تقویت دے سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے، مقامی حکومت، سماجی تنظیمیں، ذرائع ابلاغ، والدین اور کمیونٹی رہنما بھی شریک ہوں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کی ذمہ داری بھی اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ ایسے حساس واقعات کو غیر م مصدقہ معلومات، افواہوں اور سنسنی خیزی کے ساتھ پھیلانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ خصوصاً متاثرہ بچے کی شناخت، تصاویر یا ایسی معلومات جو اس کی عزتِ نفس اور مستقبل کو متاثر کر سکتی ہوں، کسی صورت عام نہیں کی جانی چاہئیں۔ انصاف کے عمل کو متاثر کیے بغیر عوام کو باخبر رکھنا ہی ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے۔
الغرض ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایسا گلگت بلتستان بنانا ہے جہاں ان کی معصومیت کسی کی ہوس کا نشانہ نہ بنے، جہاں والدین خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ اپنے بچوں کو باہر بھیج سکیں، جہاں قانون کمزور کے لیے مضبوط سہارا ہو اور جہاں معاشرہ جرم کو چھپانے کے بجائے مجرم کے خلاف اٹھ کھڑا ہو۔
آج ہنزہ کا ایک بچہ ہماری اجتماعی توجہ کا مرکز ہے، کل یہ کسی اور گھر کا بچہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، ہم سب کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے آج بھی خاموشی اختیار کی تو شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال کریں گی کہ جب معصوم بچوں کے تحفظ کی ضرورت تھی، تب ہم کہاں کھڑے تھے؟
وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف افسوس نہ کریں بلکہ اپنے نظام، اپنی ترجیحات اور اپنے رویوں کو بدلیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے معاشرے میں جرم کو معمول بننے دیں گے یا اس کے خلاف اجتماعی مزاحمت کھڑی کریں گے۔ کیونکہ ایک محفوظ معاشرہ محض قانون سے نہیں بنتا،قانون، شعور، ذمہ داری، مؤثر ریاستی نظام اور اجتماعی کردار مل کر اسے محفوظ بناتے ہیں۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button