غیرت کا بوجھ صرف عورت کے کندھوں پر کیوں؟

سید شاہ دویل 

گلگت بلتستان کے معاشرے میں ایک عجیب تضاد دن بہ دن نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مرد کی اپنی شناخت، عزت، غیرت اور کردار کا تصور کہیں پیچھے رہ گیا ہو۔ ہماری گفتگو میں مرد کی غیرت عورت سے شروع ہوتی ہے اور عورت ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔ مرد کی عزت عورت سے وابستہ ہے، خاندان کی عزت عورت سے، محلے اور گاؤں کی عزت عورت سے، ثقافت کی حفاظت عورت کے ذمے، روایات کی پاسداری عورت کی ذمہ داری، اور یہاں تک کہ مذہب کی عزت کا بوجھ بھی عورت ہی کے کندھوں پر رکھ دیا جاتا ہے۔

ہر بات میں عورت کو گھسیٹ لانا خود غیرت نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داری سے فرار ہے۔

خدارا، کبھی اپنے اعمال پر بھی نظر ڈالیں۔ جن ویڈیوز کو دیکھ کر ہم اچانک ثقافت، مذہب اور غیرت کے محافظ بن جاتے ہیں، ممکن ہے انہی ویڈیوز پر ہم میں سے بہت سوں کے لائکس اور کمنٹس موجود ہوں۔ ہم خود انہیں دیکھتے ہیں، دوستوں کو بھیجتے ہیں، مختلف گروپس میں شیئر کرتے ہیں اور یوں انہیں مزید پھیلاتے ہیں۔ پھر کچھ دیر بعد انہی کے خلاف پوسٹ لکھ کر اعلان کرتے ہیں کہ معاشرہ تباہ ہو گیا، ثقافت خطرے میں ہے اور ہماری غیرت مجروح ہو گئی۔

اگر کوئی چیز واقعی غلط ہے تو اسے دیکھنا، پھیلانا اور مقبول بنانا بھی اسی مسئلے کا حصہ ہے۔ آپ ایک طرف کسی چیز کی تشہیر کریں اور دوسری طرف اس کے خلاف اخلاقیات کا درس دیں تو سوال صرف سامنے والے پر نہیں، آپ کے اپنے کردار پر بھی اٹھے گا۔

مسئلہ یہ نہیں کہ عورت عزت کی علامت کیوں سمجھی جاتی ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ مرد اپنی عزت، غیرت اور ذمہ داری کی تعریف کیوں بھول گیا ہے۔ جب اپنی کوتاہیوں کا جواب نہیں ملتا تو سارا بوجھ عورت کے لباس، اس کی آواز، اس کے باہر نکلنے، اس کے رقص یا اس کے سوشل میڈیا استعمال پر ڈال دینا آسان ہو جاتا ہے۔

اگر یہی ہماری دانائی ہے تو پھر عورتوں کو گھروں میں بند کر دیجیے اور مردوں کو مکمل آزادی دے دیجیے کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں۔ لیکن پھر سوال یہ ہوگا کہ زنا، جنسی استحصال، بچہ بازی، قتل و غارت، فرقہ واریت، منشیات، شراب، تشدد، گالم گلوچ اور نفرت جیسی برائیوں کے وقت ہماری اجتماعی غیرت کہاں ہوتی ہے؟

اگر ایک عورت کے رقص، لباس یا ویڈیو سے پورے خاندان، گاؤں، علاقے، ثقافت اور قوم کی عزت لٹ جاتی ہے تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے اپنی عزت کی بنیاد کتنی کمزور جگہ پر رکھی ہوئی ہے۔

مرد کی عزت عورت کے عمل سے نہیں، سب سے پہلے مرد کے اپنے کردار سے ہونی چاہیے۔

بات کسی کو بدنام کرنے کی نہیں، اپنا نام بنانے کی ہے۔ جب ہم علم، تحقیق، تعلیم، کردار، خدمت، محنت، قابلیت اور تخلیق کے میدان میں اپنا نام نہیں بنا پاتے تو بعض اوقات دوسروں کو بدنام کرنا بہت آسان راستہ محسوس ہوتا ہے۔ کسی کی تصویر یا ویڈیو اٹھائی، چند سخت الفاظ لکھے، مذہب، ثقافت اور غیرت کا نام لیا اور خود کو معاشرے کا محافظ ثابت کر دیا۔

لیکن معاشرے کی خدمت کسی کو ذلیل کرنے سے نہیں ہوتی۔

اگر واقعی گلگت بلتستان کی ثقافت کی فکر ہے تو اپنی زبانوں کی حفاظت کیجیے، اپنی تاریخ پڑھیے، اپنی موسیقی، ادب اور روایات کو محفوظ کیجیے، نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بات کیجیے، منشیات کے خلاف آواز اٹھائیے، بچوں کو جنسی استحصال سے محفوظ بنانے کے لیے کام کیجیے، فرقہ وارانہ نفرت کم کیجیے اور اپنے اردگرد ہونے والے ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔

ثقافت کی حفاظت کا پورا منصوبہ آخر عورت کے لباس اور رقص پر ہی کیوں آ کر ختم ہو جاتا ہے؟

ہم تعلیم کے دعوے کرتے ہیں، ترقی کی بات کرتے ہیں اور برابری کے نعرے لگاتے ہیں، لیکن عزت اور غیرت آج بھی عورت ہی سے طلب کرتے ہیں۔ جو عزت ہم اپنے کردار، تعلیم، محنت، قابلیت اور انسانیت سے نہ کما سکے، اس عزت کی حفاظت کی ذمہ داری بھی عورت کے لباس، حرکت اور رویّے پر ڈال دیتے ہیں۔

یہاں ایک اور بنیادی سوال بھی ضروری ہے: مرد اپنے نفس کا ذمہ دار کب بنے گا؟

ہم عورت سے کہتے ہیں کہ وہ ایسا لباس نہ پہنے کیونکہ مرد کی نظر خراب ہو سکتی ہے۔ اسے کہتے ہیں باہر نہ نکلو کیونکہ کوئی غلط نیت رکھ سکتا ہے۔ بچوں کے معاملے میں بھی کبھی والدین، خصوصاً ماؤں، پر الزام ڈال دیا جاتا ہے۔ مگر ہم مرد سے یہ سوال کتنی شدت سے پوچھتے ہیں کہ تم اپنی نگاہ، اپنی خواہش، اپنی زبان، اپنے ہاتھ اور اپنے رویّے پر قابو کیوں نہیں رکھتے؟

اپنے نفس پر قابو اور صبر نہیں، مگر الزام کبھی عورت کے رقص پر اور کبھی بچوں کے گھر سے باہر نکلنے پر! واہ رے ہماری دانائی!

جنسی زیادتی یا بچوں کے استحصال جیسے جرائم کی ذمہ داری متاثرہ فرد، اس کے لباس یا اس کے گھر سے نکلنے پر نہیں بلکہ جرم کرنے والے پر عائد ہوتی ہے۔ ایک مہذب معاشرے کا کام متاثرہ شخص کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں بلکہ مجرم کو جواب دہ بنانا اور ایسے جرائم کی روک تھام کرنا ہے۔

اور رہی بات ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ تو لوگ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہتے رہیں گے۔ کوئی کسی کو بےدین کہتا ہے، کوئی کافر، کوئی غدار اور کوئی واجب القتل تک قرار دے دیتا ہے۔ کیا انسان ہر آواز کے مطابق اپنی زندگی بدلتا رہے؟ اگر ہر بات ماننی ہے تو پھر نہ آزاد سوچ باقی رہے گی، نہ شخصیت اور نہ معاشرہ آگے بڑھے گا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کا خوف بھی اکثر عورت کے معاملے میں ہی سب سے زیادہ جاگتا ہے۔ مرد گالی دے، لڑائی کرے، نشہ کرے، نفرت پھیلائے یا دوسروں کی تذلیل کرے تو کئی بار اسے ذاتی معاملہ سمجھ لیا جاتا ہے؛ لیکن عورت کا کوئی عمل فوراً پورے خاندان، گاؤں اور ثقافت کی عزت کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔

یہ دوہرا معیار ختم ہونا چاہیے۔

ہماری ثقافت، مذہب، روایات، تہذیب، سلیقہ، عزت اور غیرت اگر واقعی اجتماعی اقدار ہیں تو ان کی حفاظت بھی مرد اور عورت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ معاشرے کے حقوق اور فیصلوں میں مرد آگے رہے لیکن معاشرے کی عزت بچانے کا پورا بوجھ عورت پر ڈال دے؟

اگر واقعی سب کچھ عورتوں ہی نے سنبھالنا ہے تو پھر مرد حضرات گھر بیٹھ جائیں؛ شاید عورتیں یہ ذمہ داریاں بھی ان سے بہتر سنبھال لیں۔

اور سوشل میڈیا کے دور میں ایک نئی قسم کی اخلاقی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ کسی کی ویڈیو یا تصویر دیکھتے ہی اسے شیئر کر دینا، اس شخص کے بارے میں فیصلے سنانا، گالیاں دینا اور پھر دوسروں کو بھی اس بحث میں شامل کرنا شعور نہیں ہے۔ بعض اوقات جس چیز کو ہم برا کہہ کر شیئر کر رہے ہوتے ہیں، اسی کو ہزاروں نئے لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی ہم خود بن رہے ہوتے ہیں۔

اگر سوشل میڈیا کے کام کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تو کسی جاننے والے سے پوچھ لیجیے۔ آپ جس مواد پر بار بار رکیں، ردعمل دیں، کمنٹ کریں اور شیئر کریں، آپ خود اس کی گردش بڑھانے میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ لہٰذا ہر چیز کو بغیر سوچے سمجھے آگے پھیلانا نہ شعور ہے، نہ ذمہ داری اور نہ غیرت۔

ہمیں عورتوں کے اعمال پر بحث کرنے سے پہلے مرد کی شناخت کو دوبارہ اس کے اپنے کردار سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔

مرد کی غیرت یہ ہونی چاہیے کہ وہ کمزور پر ظلم نہ کرے۔
اس کی عزت یہ ہو کہ وہ اپنی زبان پر قابو رکھے۔
اس کا کردار یہ ہو کہ وہ عورت اور بچے سمیت ہر انسان کی حدود اور رضامندی کا احترام کرے۔
اس کی بہادری یہ ہو کہ وہ طاقت رکھنے کے باوجود زیادتی نہ کرے۔
اس کی مردانگی یہ ہو کہ وہ اپنی غلطی کا بوجھ کسی عورت پر ڈالنے کے بجائے خود جواب دہ ہو۔
اور اس کی سماجی ذمہ داری یہ ہو کہ وہ نفرت، منشیات، تشدد، فرقہ واریت اور استحصال کے خلاف بھی اسی شدت سے آواز اٹھائے جس شدت سے عورت کے لباس یا رقص پر اٹھاتا ہے۔

خدارا اپنی سوچ بدلیے۔ اپنے ہی ہاتھوں اپنے گھروں، رشتوں اور معاشرے کو تباہ نہ کیجیے۔ عورت کو خاندان کی عزت کہہ کر اس کی پوری زندگی کو خاندان کی اجتماعی نگرانی میں دے دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اسے بھی ایک مکمل انسان سمجھنا ہوگا، جس کی اپنی شخصیت، عزت، ذمہ داری اور فیصلے ہیں۔

اور مرد کو بھی اپنی کھوئی ہوئی ذمہ داری واپس لینی ہوگی۔

غیرت عورت کو قابو کرنے کا نام نہیں؛ اپنے کردار، اپنی زبان، اپنی نگاہ، اپنے ہاتھ اور اپنے نفس کو قابو کرنے کا نام ہے۔

جس دن مرد اپنی عزت کا بوجھ عورت کے کندھوں سے اٹھا کر اپنے کردار پر رکھ لے گا، شاید اسی دن ہمیں سمجھ آئے گا کہ حقیقی غیرت کسی دوسرے انسان کی آزادی محدود کرنے میں نہیں بلکہ اپنے آپ کو اخلاقی حدود میں رکھنے میں ہے۔

عورت سے پہلے اپنے آپ سے سوال کیجیے۔

کیونکہ معاشرے صرف عورتوں کے کردار سے نہیں بنتے—مردوں کے کردار سے بھی بنتے اور بگڑتے ہیں۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button