جمہوریت اور تکثیری رویے ۔۔۔۔
تحریر : باقر حاجی
جمہوریت سادہ اکثریت کا نام ہے، یہ اصطلاح بھی سادہ سی ہے، مگر اس کے معارض اتنے سادہ نہیں۔
جماعتی انتخاب اس عمل میں دوہری الجھن کا باعث ہے۔ جمہوریت کا بہترین نفاذ اس وقت تک ممکن نہیں رہتا جب تک صرف اور صرف دو ہی گروہ میں اختلاف رائے کی بنیاد پر چناو کا معاملہ درپیش ہو۔ حکومت سازی کے عمل میں انتخابات کا معاملہ صاحبان رائے اور ساتھ ساتھ میدان مقابلہ میں موجود امیدواروں کے باہم بڑے مقاصد پر اتفاق رائے کے باوجود بھی ان کی جماعتوں کی وجہ سے درپیش رہتا ہے جو از خود اپنے اپنے گروہوں کو اجتماعی نوعیت کے معاملات میں باہمی اتفاق کے باوجود نہ صرف آمنے سامنے لا کھڑا کر دیتی ہے بلکہ رائے دہندگان کو دو سے زیادہ گروہوں میں بانٹ دیتی ہے۔ یوں منظم اقلیت منتشر اکثریت پر غالب آ جاتی ہے۔ اسے سیاسی اصطلاح میں ڈیوائڈ اینڈ رول کہا جاتا ہے۔
مثلا 10 بندوں میں دو واضح گروہ ہو تو سادہ اکثریت 6 ہوگی اور اگر یہی 10 لوگوں کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اکثریت 4 پر قائم ہوگی جو 6 کی نسبت اقلیت ہے اب آپ اسے مزید تقسیم کر کے دیکھ لیں۔
رائے زنی یا رائے پرسی کے معاملے میں واضح اکثریت کے لئے دو ہی گروہ کافی نظر آتے ہیں۔ اب جبکہ چناو یا الیکشن فیصلہ سازی کا عمل ہے جو انسان کے نفسیاتی عمل کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتا ہے اس لئے مقابلے میں دو گروہ کافی ہونے کے باوجود ان دونوں میں چناو کے لئے دو اپشنز کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لئے تین آپشنز درکار ہوں گے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق کسی بھی دو چیزوں کے درمیان چناو میں ممکنہ جوابات صرف دو نہیں، بلکہ تین جوابات ہی عین ممکن اور مستند ہو سکتے ہیں۔ مٹلا گروہ الف، گروہ ب اور دونوں نہیں۔
اب جبکہ معاملہ چناو کا ہے اس لئے تناسب کے لحاظ سے اگر دونوں نہیں والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو چناو میں دونوں فریقین یا گروہ کالعدم ہو جانے چاہئیے۔
یوں تمام حلقوں میں دستیاب امیدواروں کے آپشنز کے علاوہ ایک آپشن کوئی بھی نہیں کا موجود ہونا چاہیئے۔
موجودہ نظام میں درجن سے زائد سیاسی جماعتیں میدان میں اترتی ہیں اور آزاد امیدواروں کی تعداد بھی مختص نہیں اس لئے ایک بڑی اکثریت پر اقلیت غالب آ جاتی ہے۔
ویسے بھی ہمارے جیسے ملک میں الیکٹرورل لسٹ میں درج ووٹرز کا ٹرن آوٹ نصف سے بھی کم ہوتا ہے جو خود اس عمل میں مستند سائنسی تجزیہ کی روشنی میں جمہوریت کی تعریف کے نتیجے میں بڑا سوال اٹھاتا ہے۔
سب سے بہتر تو یہ تھا کہ پہلے مرحلے پر کم سے کم خواہش مند امیدواروں کو غیر جماعتی نامزدگی کے ذریعے میدان میں لانے کے لئے بطور دو بڑے امیدوار چناو کا عمل انجام پاتا۔ یوں ان دونوں میں اکثریتی ووٹ کے لئے مقابلہ ہوتا۔ اور وہی تین2 آپشنز، یعنی امیدوار نمبر1، امیدوار 2 یا کوئی بھی نہیں، سامنے ہوتے۔ منتخب ہونے والا امیدوار کونسلر بن جاتے۔ پھر منتخب نمائندے سرکار بنانے والی جماعت کے لئے بیلیٹنگ کرتے اور کسی ایک جماعت یا دو بڑی جماعتوں کا انتخاب بطور حسب اقتدار و حسب اختلاف کیا کرتے۔
بصورت دیگر یہ بار جماعتوں کے کندھے پر رکھ کر جماعتوں میں مقبولیت کا مقابلہ ہوتا، پہلی دو مقبول جماعتوں کے لئے بھئ وہی تین آپشنز رکھتے اور پھر اکثریتی رائے سے منظور شدہ دونوں جماعتیں میدان میں رہتی اور حتمی امیدوار کا چناو ہوتا۔
بظاہر یہ عمل وقت طلب نظر آتا ہے مگر مضبوط معاشرتی نظام کے حامل ممالک میں یہ کام بہت آسانی سے ممکن ہے۔ اس عمل میں سب سے زیادہ ایمانداری اور اقدار پر مبنی رائے زنی کی ضرورت ہوتی ہے جو فی الحال ہمارے ہاں دیوانے کا خواب ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے حالیہ انتخابات کے عمل میں اب کی صورتحال کے پیش نظر، امیدواروں کی ضرورت سے زیادہ نامزدگیاں، اس کی وجوہات اور نفسیاتی و معروضی حالات کا بحث الگ، بڑی جماعتوں بالخصوص وفاق مدار جماعتوں کے اندر بھی ہمارے معاشرے کا عکس نمایاں نظر آیا۔ یہ عمل اس کا بات کا غماز ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت کی ترویج کے ادارے کس قدر زبوں حالی کے شکار ہیں۔ یہ ادارے جمہوریت کو بنیادی سطح سے آگے نہیں بڑھا پائے اور سماج میں جمہوریت کے حقیقی معنوں میں ترویج سے قاصر نظر آئے۔ جی بالکل، ان کا فائدہ اسی میں ہے۔
کسی بھی ادارے میں یہ عمل ادارے کے آئین اور ضوابط یا اصول سے باہر جائے تو اسے کالعدم تصور کیا جاتا ہے۔





