میں صرف ایک بچہ تھا

گمنام لکھاری

ادارتی نوٹ: لکھاری کی درخواست پر ان کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جا رہی ہے۔ اگر آپ بھی اپنے تجربات ہمارے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں editor@pamirtimes.net پر ای میل کیجیے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے شعور اور آگاہی کا فروغ ضروری ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے تجربات اور آوازوں کا سامنے آنا اہم ہے۔

گلگت بلتستان میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پیش آنے والے واقعات نے مجھے اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب میں اس بارے میں لکھنے بیٹھتا ہوں تو اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ واقعہ میرا دل توڑ دیتا ہے، صرف اس لیے نہیں کہ حال ہی میں ایسا کچھ ہوا، بلکہ اس لیے بھی کہ ان واقعات نے میرے بچپن کی وہ تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں جنہیں میں کئی دہائیوں سے اپنے اندر لیے پھرتا رہا ہوں۔

جب میں تقریباً دس سال کا تھا تو مجھے جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے ساتھ ایسا دو مرتبہ ہوا۔

پہلی مرتبہ میرے خاندان کے ہی ایک رشتہ دار نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ دوسری مرتبہ بھی میری عمر تقریباً دس سال ہی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں ایک معصوم اور پُرجوش بچے کی طرح رسہ کشی کا مقابلہ دیکھ رہا تھا اور اس کھیل کے جوش میں پوری طرح محو تھا۔ اسی دوران ایک شخص نے میرے جسم کے انتہائی نجی حصے کو چھو کر میرے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

میں صرف ایک بچہ تھا۔

میں بہت چھوٹا تھا، بہت کمزور تھا اور اتنا کم عمر تھا کہ شاید پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ میں نہ اس واقعے کو بیان کرنے کے لیے الفاظ رکھتا تھا، نہ ہی مجھ میں اتنی سمجھ تھی کہ کسی کو بتا سکوں، اور نہ ہی اتنی طاقت کہ اپنا دفاع کر سکوں۔ دوسرے بہت سے بچوں کی طرح، میں نے بھی اس سب کو خاموشی سے اپنے اندر دفن کر لیا۔

بچپن میں ہونے والی جنسی زیادتی ایسی چیز نہیں جس کا اثر زیادتی ختم ہوتے ہی ختم ہو جائے۔ جسمانی واقعہ شاید چند لمحوں کا ہو، لیکن اس کے نفسیاتی اثرات برسوں، بلکہ بعض اوقات پوری زندگی انسان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔

میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔

یہ صدمہ جوانی تک میرے ساتھ رہا۔ میری ذہنی صحت متاثر ہوئی اور کئی برس تک میں ایسی کیفیتوں اور احساسات سے لڑتا رہا جنہیں میں خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں پاتا تھا۔ میرے اندر ایک ایسا بوجھ تھا جسے میں نے کبھی صحیح معنوں میں سمجھ کر بیان نہیں کیا تھا۔ میں زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن ماضی کہیں نہ کہیں میرے ساتھ چلتا رہا۔

جب میں تقریباً پینتیس سال کا ہونے والا تھا، تب آخرکار میں نے پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں۔

آج میں ایک ایسے ماحول میں رہتا ہوں جہاں ذہنی صحت کے مسائل کے لیے باقاعدہ سہولیات موجود ہیں اور جہاں مجھے ماہرین سے مدد لینے کا موقع ملا۔ میں نے متعدد تھراپسٹس اور ذہنی صحت کے دیگر ماہرین سے علاج اور مشاورت حاصل کی۔ ان لوگوں کی مدد سے میں نے پہلی مرتبہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کا سامنا کیا، اپنے صدمے کو سمجھا اور آہستہ آہستہ اس سے باہر نکلنا شروع کیا۔

یہ آسان سفر نہیں تھا۔

بچپن کے صدمے سے نکلنا ایک دن یا ایک ملاقات میں ممکن نہیں ہوتا۔ کوئی ایک گفتگو یا علاج کئی دہائیوں کے درد کو اچانک ختم نہیں کر دیتا۔ اس کے لیے وقت، صبر، پیشہ ورانہ مدد اور اس ہمت کی ضرورت ہوتی ہے کہ انسان ان چیزوں کا سامنا کرے جنہیں شاید وہ برسوں سے بھولنے یا دبانے کی کوشش کرتا رہا ہو۔

لیکن بالآخر میں اس اندھیرے سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔

آج میں اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوں۔ والد بننے کے بعد میں نے اپنے بچپن کو ایک بالکل مختلف نظر سے دیکھنا شروع کیا ہے۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میرے بچوں کے ساتھ کبھی ایسا کچھ ہو۔ کسی بچے کو اس طرح کے ظلم، خوف، الجھن اور بے بسی سے گزرتے ہوئے سوچنا ہی میرے لیے ناقابل برداشت ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ علی آباد اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے مجھے شدید متاثر کیا ہے۔

میں بار بار اس بچے کے بارے میں سوچتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ ایک بچہ کتنا معصوم اور کمزور ہوتا ہے، وہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو کس طرح بیان کرے، اور ہم بڑے لوگ اکثر اس نفسیاتی نقصان کو کس قدر کم سمجھ لیتے ہیں جو ایسے واقعات ایک بچے کی زندگی پر چھوڑ سکتے ہیں۔

میں اپنی زندگی کے بارے میں بھی سوچنے لگتا ہوں اور خود سے سوال کرتا ہوں کہ اگر میں اٗسی ماحول میں ہی رہتا تو کیا ہوتا؟

اگر مجھے وہ ذہنی صحت کی سہولیات میسر نہ آتیں جنہوں نے بعد میں میری زندگی بدلنے میں مدد کی، تو کیا ہوتا؟

میں پورے یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنے بچپن کے صدمے کے نفسیاتی اثرات سے بچ پاتا۔

میری زندگی میں ایسے ادوار بھی آئے جب میری ذہنی حالت انتہائی مشکل تھی۔ میں پوری ایمانداری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر مجھے آخرکار مناسب پیشہ ورانہ مدد اور علاج میسر نہ آتا تو شاید میں آج یہ کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ ہوتا۔

یہ سوچ آج بھی مجھے خوفزدہ کرتی ہے۔

لیکن ان بچوں کا کیا جو ایسی سہولتوں سے محروم ہیں؟

اس بچے کا کیا ہوگا جو ایسے معاشرے میں پروان چڑھتا ہے جہاں جنسی زیادتی کے بارے میں خاموشی، شرمندگی اور بدنامی کا خوف موجود ہو؟ جب ذہنی صحت کے ماہرین تک آسان رسائی نہ ہو تو کیا ہوگا؟ جب بچہ اس خوف سے بولنے سے ڈرے کہ شاید کوئی اس کی بات پر یقین نہ کرے، یا اس سے بھی بدتر، اسے ہی قصوروار ٹھہرایا جائے؟

ہم یہ تصور نہیں کر سکتے کہ صرف خاموش رہنے سے اس صدمے کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔

ایسا نہیں ہوتا۔

ایک صدمہ برسوں تک انسان کے اندر چھپا رہ سکتا ہے۔

اسی لیے میرے خیال میں ہمیں بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے، خصوصاً ان معاشروں اور کمیونٹیز میں جہاں ایسے موضوعات کو بدنامی یا شرمندگی کی وجہ سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بچوں کا تحفظ، خاندان یا معاشرے کی عزت اور نام سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

بچوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ ان کا جسم ان کی اپنی ملکیت ہے۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی نامناسب لمس سے انکار کر سکتے ہیں۔ انہیں ایسے قابلِ اعتماد بڑوں کی ضرورت ہے جو ان کی بات بغیر کسی فیصلے یا الزام کے سنیں۔ اور اگر کسی بچے کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو اسے فوری تحفظ اور مناسب نفسیاتی مدد فراہم کی جانی چاہیے۔

سب سے بڑھ کر، اس کی بات پر یقین کیا جانا چاہیے۔

میں اپنی کہانی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نہیں سنا رہا۔ میں اسے اس لیے بیان کر رہا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ شاید بہت سے دوسرے لوگ بھی ایسے ہیں جو اپنے بچپن کے تجربات کو خاموشی سے اپنے اندر لیے پھر رہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے میں کئی سال تک لیے پھرتا رہا۔

اگر کوئی ایسا شخص یہ تحریر پڑھ رہا ہے جسے بچپن میں جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا، تو میں چاہتا ہوں کہ وہ ایک بات جان لے، جسے سمجھنے میں مجھے کئی دہائیاں لگیں:

اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں تھی۔

میں ایک بچہ تھا۔ میں بہت کم عمر اور بہت کمزور تھا کہ جو کچھ ہو رہا تھا اسے سمجھ سکتا یا اسے روک سکتا۔ ذمہ داری میری نہیں تھی۔ ذمہ داری مکمل طور پر ان لوگوں کی تھی جنہوں نے ایک بچے کے اعتماد اور معصومیت کو پامال کیا۔

میں ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

میں اس دس سالہ بچے کے ساتھ جو ہوا، اسے واپس نہیں لے سکتا۔

لیکن آج میں اس کے بارے میں بات کر سکتا ہوں۔

اور شاید اپنی بات کہہ کر ہم یہ یقینی بنانے میں کچھ کردار ادا کر سکیں کہ کسی دوسرے بچے کو وہی بوجھ اگلے تیس سالوں تک اپنے ساتھ نہ اٹھانا پڑے۔

صدمہ شاید کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو۔ وہ انسان کی زندگی اور کہانی کا ایک حصہ بن سکتا ہے۔ لیکن مناسب مدد، پیشہ ورانہ علاج اور محفوظ ماحول کے ساتھ انسان اس سے شفا پا سکتا ہے۔ اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کر سکتا ہے۔ آگے بڑھ سکتا ہے۔

میں اس کی ایک مثال ہوں۔

لیکن میں اکثر خود سے ایک سوال پوچھتا ہوں:

اگر میں ہنزہ میں ہی رہتا اور مجھے وہ مدد حاصل نہ ہوتی، تو کیا میں آج یہ کہانی سنانے کے لیے زندہ ہوتا؟

مجھے واقعی نہیں معلوم۔

اور یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ میرے لیے اتنا اہم ہے۔

کسی بھی بچے کو اس بات پر منحصر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کہاں پیدا ہوا، کس معاشرے میں پلا بڑھا یا اسے مدد ملنے میں کتنی خوش قسمتی ہوئی، تاکہ وہ بچپن کے صدمے سے زندہ رہ سکے۔

ہر بچے کو تحفظ کا حق ہے۔

ہر متاثرہ شخص کو مدد کا حق ہے۔

اور ہر وہ بچہ جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، اسے یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ بڑا ہو، اپنے زخموں سے شفا پائے اور اس صدمے سے آگے بڑھ کر ایک بھرپور زندگی گزار سکے جو اس پر مسلط کیا گیا تھا۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button