ہوٹل ڈانس: چسکے بھی لو اور پروفیسر بھی بن جا

سید اولادالدین شاہ

میں خود ایک طویل عرصے سے ایک ایسے اسلامی ملک میں رہ رہا ہوں جہاں ہر قومیت کے لوگ آباد ہیں اور سب کا طرزِ زندگی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اگر یہاں کوئی شخص کسی غیر قانونی کام میں ملوث پایا جائے تو اسے میڈیا یا سوشل میڈیا پر سزا نہیں دی جاتی اور نہ ہی یہاں کوئی ‘ٹھیکیداری نظام’ ہے؛ یہاں صرف قانون کی حکمرانی اور پولیس کی عملداری ہے۔

کل ہی کی بات ہے، فیکٹری کے باہر ایک ڈرائیور بار بار ہارن بجا رہا تھا۔میں تھوڑے غصے میں باہر نکلا تو دیکھا کہ پولیس کی گاڑی ہے، کیونکہ یہاں پولیس کا اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران یا وردی پہن کر اپنے ذاتی کام کے لیے گاڑی استعمال نہیں کر سکتا۔ اسے کہتے ہیں قانون کی حکمرانی! اس کے علاوہ وہاں نہ تو کوئی شخص کسی کی پرائیویٹ پارٹی کی ویڈیو بنا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کہیں شیئر کر سکتا ہے۔

لیکن ہماری تو بات ہی الگ ہے؛ ویڈیو یا تصویر دیکھی نہیں کہ نیچے کمنٹ سیکشن میں ‘عدالت’ لگا کر شروع ہو گئے۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ اس ہفتے گلگت بلتستان کے ایک نجی ہوٹل کی پرائیویٹ پارٹی کی ویڈیوز سامنے آئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ نشے میں دھت لڑکے اور لڑکیاں ڈانس کر رہے ہیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ہوٹل کو سیل کر دیا گیا۔

بھائی! پہلی بات تو یہ کہ یہ منظر گلگت بلتستان کے ثقافت کی عکاسینہیں کرتا۔ باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں، سیر و تفریح اور انجوائے کرنے آتے ہیں تو کریں گے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ہوٹل مالکان نے اس پارٹی کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ بھی حاصل کیا ہوا تھا اور پڑوسیوں کو بھی پہلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس حساب سے یہ عمل غیر قانونی نہیں تھا۔ جہاں تک منشیات کی موجودگی کا تعلق ہے، تو بی بی سی اردو کے مطابق اس ہوٹل سے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئی۔

اس سارے واقعے کو دیکھ کر مجھے بھارتی عدالت کا افضل گرو والا کیس یاد آ گیا۔ ویسے تو قانون کے مطابق ان کی سزائے موت نہیں بنتی تھی، لیکن عوام کے جذبات اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے افضل گرو کو سزائے موت دے دی گئی۔

گلگت کے لوگ نہایت مہذب اور تعلیم یافتہ ہیں، لیکن گلگت اور چترال میں ایک چیز بہت عام ہے اور وہ ہے ‘فحاشی پھیلنے کا خدشہ’—چاہے کوئی فلپائنی ہو یا تھائی لینڈ کا باشندہ، جو بھی گلگت اور چترال کی سیر کو آئے، اسے وہاں کے لوگوں کے جذبات اور ثقافت کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔ یوں سمجھیں جیسے وہ صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ وہاں مستقل رہنے کے لیے آئے ہوں۔

باقی رہی بات ان لوگوں کی جو گالیاں دیتے ہیں؛ تو وہ پہلے خود پوری ویڈیو یا تصاویر دیکھتے ہیں اور پھر اخلاقیات کا درس دے کر گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ یعنی چسکے بھی لو اور پروفیسر بھی بن جاؤ!”

آپ کی رائے

comments

سید اولاد الدین شاہ

سید اولاد الدین شاہ ایک فری لانسر صحافی ہے۔ ان کی تحریریں انڈیپنڈںٹ اردو، لوک سجاگ وغیرہ میں تواتر سے چھپتی ہیں۔ ان کا تعلق چترال سے ہے

متعلقہ

Back to top button