جھومتے چترالی اور ڈوبتا چترال
آج جب ہم سوشل میڈیا پر نظر دوڑاتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے پورا چترال ڈھول کی تھاپ پر جھوم رہا ہے۔ ہر طرف رقص و سرور کا ایک سماں بندھا ہے۔ کہیں پولو گراؤنڈ میں دھمالیں ڈالی جا رہی ہیں، کہیں پکنک پوائنٹس پر ہلہ گلہ ہو رہا ہے، اور کہیں شادیوں اور دعوتوں کی رونقیں لگی ہوئی ہیں۔ بے شک، خوشی منانا بری بات نہیں اور زندگی میں تفریح بھی ضروری ہے، لیکن جب یہ تفریح قوم کی بے حسی اور غفلت بن جائے، تو یہ کسی بھی معاشرے کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔
کھیلوں کے میدانوں اور محفلوں میں ہمیں جو جمِ غفیر نظر آتا ہے، اگر یہی ہجوم اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے، یا پھر "اپنی مدد آپ” کے تحت تھوڑی سی کوشش کرے، تو چترال کے بے شمار دیرینہ مسائل پلک جھپکتے میں حل ہو سکتے ہیں۔ مگر افسوس، ہم تفریح میں تو پیش پیش ہیں، لیکن سنجیدہ مسائل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ہمارا پیارا چترال اس وقت شدید جغرافیائی اور ماحولیاتی بحران کا شکار ہے۔ دریا کی بے رحم کٹائی کی وجہ سے ہماری زرخیز زمینیں مسلسل دریا برد ہو رہی ہیں اور ہمارا رقبہ تیزی سے سکڑتا جا رہا ہے۔ حکومتیں ہمیں لالی پاپ دے کر بہلاتی ہیں اور ہم اس لالی پاپ کو قبول کر کے اپنی ہی مستی میں مگن ہو جاتے ہیں۔ جب بھی کوئی بڑا سانحہ یا قدرتی آفت آتی ہے، تو ہم محض ایک دو دن مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں، چند جذباتی پوسٹس شیئر کرتے ہیں، اور پھر ایسے بھول جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ اس کے فوراً بعد ہم دوبارہ اسی ناچ گانے اور غفلت کے ماحول میں مست ہو جاتے ہیں۔
زمینوں کے کٹاؤ کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ کچھ سال پہلے ہمارا تاریخی "قلعہ چترال” کے عظیم چنار کے درخت بھی دریا کی موجوں کی نذر ہو گئے، اور ریشن کا خوبصورت علاقہ تو اب صفحہِ ہستی سے مٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی دیہات ہیں جو اگر یہی حال رہا تو شاید بہت جلد تاریخ کا حصہ بن کر صرف یادوں میں رہ جائیں گے۔
دوسری طرف ہماری سڑکوں کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جب بھی کوئی گاڑی سڑک سے گزرتی ہے، تو پورا علاقہ مٹی کے گرد و غبار میں دفن ہو جاتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے آئے روز حادثات ہوتے ہیں، قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں، لیکن ہماری عادت وہی ہے—دو دن کا ماتم اور پھر ابدی نیند۔
سرکاری اداروں کا حال یہ ہے کہ وہ کام تو کچھ نہیں کرتے، لیکن چترال میں انفراسٹرکچر کے نام پر ملنے والی گاڑیوں، بنگلوں اور تمام تر مراعات سے بھرپور لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وہ مفت کی تنخواہیں بھی وصول کر رہے ہیں اور مراعات بھی، لیکن زمین پر کارکردگی صفر ہے۔ میڈیا پر اکثر یہ خبریں گردش کرتی ہیں کہ چترال کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے کروڑوں کے فنڈز جاری ہو گئے ہیں، سیاسی جماعتیں بھی ان فنڈز کا کریڈٹ لینے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر دعوے کرتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چترال اور چترالی عوام کی حالت آج بھی وہیں کی وہیں ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم واقعی "جھو متے چترالی ” (رقص کرتے چترال) کی اس عارضی مستی میں غرق رہنا چاہتے ہیں، یا پھر ہمیں اپنے "ڈوبتے چترال” کو بچانے کے لیے بیدار ہونا ہوگا؟ اگر ہم نے آج اپنے حقوق اور اپنے علاقے کی بقا کے لیے آواز نہ اٹھائی، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔





