سیاحت، آزادی اور ہنزہ کی شناخت
دنیا کے ہر سیاحتی مقام کی اپنی شناخت، ثقافت، سماجی اقدار، قدرتی ماحول اور سیاحتی کشش ہوتی ہے۔ بھوٹان مذہبی، ثقافتی اور قدرتی سیاحت کے لیے مشہور ہے، روم تاریخی اور مذہبی ورثے کے لیے، نیپال کا ایورسٹ خطہ کوہ پیمائی اور مہم جوئی کی سیاحت کے لیے، کینیا جنگلی حیات کی سیاحت کے لیے، جبکہ تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کا بالی ساحلی، ثقافتی اور تفریحی سیاحت کے لیے معروف ہیں۔ چین میں تاریخی ورثے، قدرتی مناظر اور شہری سیاحت کے ساتھ مختلف سرگرمیوں کو مقامی قوانین اور ضوابط کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔
سیاح کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اسے کہاں جانا ہے۔ اسے مذہبی مقامات دیکھنے ہیں، پہاڑوں کا رخ کرنا ہے، تاریخی ورثہ دیکھنا ہے یا موسیقی اور تفریح سے لطف اندوز ہونا ہے، یہ اس کی اپنی پسند ہے۔ لیکن جس مقام کا وہ انتخاب کرتا ہے، وہاں پہنچ کر اسے اس مقام کے قانون، ضابطوں، ماحول اور بنیادی سماجی و ثقافتی اقدار کا احترام کرنا بھی لازم ہے۔ سیاح منزل کا انتخاب کرتا ہے، لیکن منزل کے اصول اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کرسکتا۔
چین، تھائی لینڈ اور بالی کی مثالیں ہمارے لیے قابل غور ہیں۔ چین کے تاریخی اور قدرتی مقامات پر ماحول، ورثے اور عوامی نظم کے حوالے سے مختلف پابندیاں موجود ہیں۔ تھائی لینڈ میں ساحلی اور تفریحی سیاحت وسیع ہے، لیکن مذہبی مقامات پر لباس اور رویے کے مخصوص آداب کی پابندی کی جاتی ہے۔ بالی میں ساحلوں اور تفریحی مقامات کے ساتھ ہندو مذہبی اور ثقافتی ورثہ بھی سیاحت کا اہم حصہ ہے، اس لیے مندروں اور مقدس مقامات پر مخصوص لباس اور رویے کے اصول موجود ہیں۔ یعنی جہاں تفریح کی گنجائش ہے وہاں بھی ہر جگہ ہر سرگرمی کی اجازت نہیں ہوتی۔
ہنزہ کے حالیہ ڈانس کے واقعے نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ ہمارے سامنے کھڑا کردیا ہے۔ ایک نجی ہوٹل میں ہونے والی مبینہ ڈانس پارٹی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر بحث شروع ہوئی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کی اطلاع سامنے آئی۔ اس واقعے کے بارے میں بعض دوسرے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ اس لیے کسی فرد یا ادارے کو محض سوشل میڈیا کے دعووں کی بنیاد پر مجرم قرار دینا درست نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ڈانس اچھا ہے یا برا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہنزہ میں سیاحت کس نوعیت کی ہونی چاہیے اور سیاح کی آزادی کی حدود کہاں تک ہیں؟
یہاں ہنزہ کے روایتی رسم و رواج اور کسٹمری اصولوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہنزہ کی سماجی زندگی میں مہمان نوازی، باہمی احترام، بزرگوں کا لحاظ، خواتین اور خاندانوں کی عزت، مذہبی و ثقافتی مقامات کا احترام اور اجتماعی ہم آہنگی کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ مقامی آبادی نے تاریخی طور پر باہر سے آنے والے لوگوں کو مہمان سمجھ کر خوش آمدید کہا ہے۔ یہی مہمان نوازی ہنزہ کی شناخت کا ایک خوب صورت حصہ ہے۔ لیکن مہمان نوازی کا مطلب یہ نہیں کہ میزبان معاشرہ اپنی ہر سماجی حد سے دست بردار ہوجائے، اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مقامی روایت کو قانون کا درجہ دے دیا جائے۔
اس معاملے کی ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ ہنزہ کے مقامی لوگوں کی رائے بھی یکساں نہیں ہے۔ کچھ لوگ موسیقی، ثقافتی پروگراموں، ڈانس اور تفریحی محافل کو سیاحت اور نوجوانوں کی تفریح کا حصہ سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ بعض محافل کو اپنی مذہبی، ثقافتی یا سماجی اقدار کے منافی تصور کرتے ہیں۔ یہ اختلاف اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور اسے تسلیم کیے بغیر مسئلے کا متوازن حل ممکن نہیں۔ ایک رائے کو پوری ہنزہ کی اجتماعی رائے قرار دینا بھی درست نہیں اور دوسری رائے کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں۔
اسی لیے ضرورت کسی ایک طبقے کی پسند یا ناپسند کو قانون بنانے کی نہیں بلکہ واضح اور شفاف سیاحتی ضابطۂ اخلاق کی ہے۔ اگر کسی ہوٹل، ریسٹورنٹ یا سیاحتی مقام پر موسیقی، ثقافتی پروگرام یا ڈانس کی اجازت ہے تو اس کے اوقات، مقام، شرکاء، شور کی حد، شراب یا منشیات کی ممانعت، خواتین اور بچوں کے تحفظ، نجی زندگی اور ویڈیو بنانے کے اصول، اور اردگرد کے رہائشیوں کے حقوق واضح ہونے چاہئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کون سی سرگرمی قانونی ہے اور کون سی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی شمار ہوگی۔ اس طرح نہ سیاح کو غیر ضروری خوف کا سامنا ہوگا اور نہ مقامی آبادی کو یہ احساس ہوگا کہ ان کے علاقے میں کوئی بھی سرگرمی ان کی مرضی کے بغیر مسلط کی جاسکتی ہے۔
گلگت بلتستان کی سرکاری سیاحتی سوچ پائیدار سیاحت، قدرتی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور مقامی لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری پر زور دیتی ہے۔ محکمہ سیاحت کے رہنما اصولوں میں بھی سیاحوں کو مقامی رسوم و روایات کا احترام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ سیاحت کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کسی علاقے میں لانا نہیں بلکہ اس علاقے کے ماحول، ثقافت اور مقامی آبادی کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
ہنزہ پر ہونے والی علمی تحقیق بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ’’ہنزہ میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے بڑھتی ہوئی سیاحت اور مقامی و سیاح کے تعلق کا مطالعہ‘‘ کے عنوان سے 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق میں مقامی لوگوں کے تجربات، ثقافتی اور ماحولیاتی اثرات اور سیاحت کے بہتر مقامی نظم کی ضرورت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اسی طرح ’’مرکزی ہنزہ میں سیاحت کے میزبان برادری پر سماجی و ثقافتی اثرات‘‘ کے عنوان سے 2024 کی تحقیق نے بھی سیاحت کے باعث مقامی معاشرت میں آنے والی تبدیلیوں اور پائیدار سیاحت کی ضرورت کو موضوع بنایا ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی سیاحتی ادارے کے عالمی ضابطۂ اخلاق برائے سیاحت میں بھی یہی اصول موجود ہے۔ اس کے پہلے آرٹیکل میں سیاحوں سے مختلف معاشروں کی سماجی اور ثقافتی روایات کا احترام کرنے کا تقاضا کیا گیا ہے۔ اسی آرٹیکل کی دوسری شق میں کہا گیا ہے کہ سیاحتی سرگرمیاں میزبان علاقے کے قوانین، روایات اور رسوم کے احترام کے ساتھ ہونی چاہئیں۔ پانچویں شق سیاح کو ایسی سرگرمیوں سے اجتناب کی تلقین کرتی ہے جو مقامی آبادی کے لیے توہین آمیز یا نقصان دہ ہوں، جبکہ چھٹی شق سفر سے پہلے منزل کے حالات اور خصوصیات سے آگاہ ہونے کی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔
لیکن ذمہ دار سیاحت صرف ثقافت کے احترام کا نام نہیں۔ قدرتی ماحول کا تحفظ بھی اس کا بنیادی حصہ ہے۔ پہاڑوں پر کچرا پھینکنا، دریاؤں اور ندی نالوں کو آلودہ کرنا، پلاسٹک پھیلانا، غیر ضروری شور پیدا کرنا، جنگلات اور چراگاہوں کو نقصان پہنچانا یا جنگلی حیات کو پریشان کرنا کسی بھی سیاح کے لیے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ ہنزہ جیسے نازک پہاڑی ماحول میں بڑھتی ہوئی سیاحت کے ساتھ کچرے، پانی، ٹریفک اور قدرتی وسائل پر دباؤ ایک اہم مسئلہ بنتا جارہا ہے۔
اسی طرح ہراسانی بھی سیاحت کا حصہ نہیں ہوسکتی۔ مقامی خواتین، بچوں یا کسی بھی شخص کی اجازت کے بغیر تصاویر یا ویڈیوز بنانا، نامناسب رویہ اختیار کرنا، راستے میں تنگ کرنا یا کسی کی نجی زندگی کو سماجی ذرائع ابلاغ پر نشر کرنا سیاحتی آزادی نہیں بلکہ کسی کے وقار اور رازداری کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ سیاح ہو یا مقامی، اسے دوسرے انسان کے احترام اور قانونی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔
یہاں ہمارے ملکی سیاحوں کے رویے پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے غیر ملکی سیاح جب پاکستان اور گلگت بلتستان آتے ہیں تو مقامی ماحول اور ثقافت کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل کرتے ہیں، مذہبی اور ثقافتی مقامات کے آداب کا خیال رکھتے ہیں، کچرا نہیں پھینکتے اور مقامی لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر بنانے سے گریز کرتے ہیں۔ یقیناً ہر غیر ملکی سیاح ایسا نہیں ہوتا، لیکن ذمہ دار غیر ملکی سیاحت کی اچھی مثالیں موجود ہیں۔
اس کے برعکس ہمارے بعض ملکی سیاح یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے ہی ملک میں انہیں ہر جگہ ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ کچرا پھینکنا، بلند آواز میں موسیقی بجانا، مقامی لوگوں کی اجازت کے بغیر تصاویر بنانا، خواتین کو ہراساں کرنا، جھیلوں اور دریاؤں کو آلودہ کرنا اور مقامی حساسیت کو نظرانداز کرنا اسی سوچ کے مظاہر ہیں۔ ملک اپنا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر جگہ ہماری مرضی کے مطابق استعمال کی جائے۔
مقامی لوگ بھی اس معاملے میں ذمہ دار ہیں۔ انہیں سیاحوں کو صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر کسی سرگرمی پر اعتراض ہے تو قانون اور باقاعدہ ضابطے کا سہارا لیا جائے، دھمکی، تشدد یا ہجوم کے دباؤ کا نہیں۔ اسی طرح سیاحوں کی آزادی کو بھی مقامی لوگوں کے بنیادی حقوق پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔
یہ تصور بھی درست نہیں کہ مقامی لوگ اپنی ناپسندیدگی کی بنیاد پر ہر سرگرمی کو غیر قانونی قرار دے دیں۔ قانون اور سماجی پسند ناپسند دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر کوئی سرگرمی قانوناً جرم نہیں تو صرف چند لوگوں کے اعتراض کی بنیاد پر اسے جرم نہیں بنایا جاسکتا۔ لیکن اگر کوئی سرگرمی قانون، ماحولیاتی ضوابط، عوامی نظم، ہراسانی سے متعلق قانون یا کسی دوسرے نافذ قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔
ہنزہ کے معاملے میں ضرورت پابندیوں کی ایک طویل فہرست بنانے سے زیادہ واضح، قابلِ فہم اور مقامی مشاورت سے تیار کردہ سیاحتی ضابطوں کی ہے۔ ضابطہ بنانے کے عمل میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ سیاحت، مقامی حکومت، ہوٹل اور ٹورازم کاروبار سے وابستہ افراد، خواتین، نوجوانوں، مقامی عمائدین، سول سوسائٹی اور ماہرین ماحولیات کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ ہر سیاحتی مقام کے لیے یہ طے ہونا چاہیے کہ وہاں کس نوعیت کی سرگرمیاں ہوسکتی ہیں، کن سرگرمیوں کے لیے اجازت ضروری ہے، کون سی سرگرمیاں ممنوع ہیں، قدرتی ماحول کیسے محفوظ رکھا جائے گا، ثقافتی اور مذہبی مقامات کے احترام کے اصول کیا ہوں گے اور مقامی آبادی کی مشاورت کس طرح یقینی بنائی جائے گی۔
اس ضابطے میں یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ نجی ہوٹل یا ریزورٹ کے اندر ہونے والی سرگرمیوں اور عوامی مقامات پر ہونے والی سرگرمیوں کے اصول ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ نجی مقام بھی قانون سے بالاتر نہیں، لیکن وہاں ہونے والی ہر قانونی سرگرمی کو محض سماجی ناپسندیدگی کی بنیاد پر جرم قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ اسی طرح نجی مقام کی آڑ میں شور، ہراسانی، منشیات، تشدد، غیر رضامندانہ ویڈیو سازی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ہنزہ کی اصل کشش صرف اس کے پہاڑ اور جھیلیں نہیں بلکہ اس کی تہذیب، روایات، موسیقی، فن تعمیر، تاریخی بستیاں، خوراک، مہمان نوازی اور صاف قدرتی ماحول بھی ہیں۔ اگر سیاحت ان چیزوں کو مضبوط کرتی ہے تو وہ ہنزہ کی طاقت بنتی ہے، لیکن اگر سیاحت مقامی شناخت، ماحول اور لوگوں کے سکون کو نقصان پہنچانے لگے تو اس کے طریقۂ کار پر غور ضروری ہوجاتا ہے۔
سیاحت میں مقامی ثقافت کو عجائب گھر کی کسی جامد چیز کی طرح محفوظ کرنا بھی درست نہیں۔ ثقافت زندہ معاشروں کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ ہنزہ کے نوجوانوں کی پسند، موسیقی، لباس، تفریح اور دنیا کے ساتھ ان کے تعلقات بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوں گے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ یہ تبدیلی قانون، انسانی حقوق، مقامی وقار، ماحول اور باہمی احترام کے دائرے میں ہو۔ ثقافت کی حفاظت کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرے کو وقت کے ساتھ بدلنے سے روک دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ تبدیلی کے عمل میں اس کی بنیادی شناخت اور اجتماعی اقدار کو بھی جگہ دی جائے۔
اس لیے ہنزہ میں سوال ڈانس کے حق یا مخالفت کا نہیں بلکہ ذمہ دار سیاحت کا ہے۔ سیاح کو اپنی منزل منتخب کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، مگر منزل کے قانون، ماحول، لوگوں اور بنیادی ثقافتی اصولوں کا احترام بھی کرنا چاہیے۔ مقامی لوگوں کو اپنی ثقافت اور ماحول کے تحفظ کا حق ہونا چاہیے، مگر قانون کو اپنی ذاتی پسند و ناپسند کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ اور چونکہ خود مقامی معاشرے میں بھی مختلف آرا موجود ہیں، اس لیے واضح ضابطے ہی وہ راستہ ہیں جو اختلاف کو تنازع میں تبدیل ہونے سے روک سکتے ہیں۔
سیاح آئے، مقامی معیشت مضبوط ہو، موسیقی اور ثقافت زندہ رہے، تفریح بھی ہو؛ لیکن قانون، ماحول، مقامی آبادی، انسانی وقار اور ہنزہ کی شناخت کی قیمت پر نہیں۔
سیاحت دروازہ کھولنے کا نام ہے، اپنی شناخت، قدرتی ماحول اور حسن کا دروازہ توڑنے کا نہیں۔





