گلگت دھرنے میں شامل ۱۸۳ ملازمین میں سے صرف۹۷ اساتذہ ہیں، مظاہرین کی وضاحت

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
گلگت(صفدر علی صفدر)صوبائی حکومت اور میڈیا کے درمیان معلومات کے تبادلے کا کوئی موثر نظام نہ ہونے کے باعث معاشرے میں حکومتی امور سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں جنم لینے لگی ہیں اور ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے میڈیا نے ذمہ داری سے کام لینے کی زحمت کی اور نہ ہی حکومتی ذمہ داران کی جانب سے اقدامات کئے گئے ۔
گزشتہ کئی ماہ سے محکمہ تعلیم سے فارغ کئے جانے والے 183 ملازمین کو میڈیا اور خود حکومت ہی کی جانب سے بھی اساتذہ قرار دیا گیا جبکہ عین وقت پر معلوم ہوا کہ ان میں سے تو صرف97 اساتذہ اور باقی مانندہ محکمہ تعلیم سے فارغ کئے جانے والے .
ملازمین کے دھرنے کے دوران چند خواتین اساتذہ نے حکومت اور میڈیا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کو بھی معلوم نہیں کہ 183 میں سے اساتذہ کی تعداد کتنی ہے اور اوپر سے ہماری ڈگریوں پر شک کیا جا رہا ہے پہلے ان حکمرانوں اور صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ امور سے متعلق معلومات ہونا چاہئے پھر دوسروں کے حوالے سے فیصلے کریں ملازمین کا کہنا تھا کہ 183 ملازمین میں سے 120 کواتین ملازمین ہیں جبکہ صرف 63 مرد ملازمین شامل ہیں ۔
دھرنے کے دوران بعض ملازمین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے بعض نے 2009 سے اور زیادہ تر نے تو ڈیڑھ سال سے بذریعہ اے جی پی آر سے تنخواہیں وصول کی ہیں اگر وہ غیر قانونی طور پر بھرتی ہوئے تو اس وقت کارروائی کرنے والے حکام خواب خرگوش کیوں سوئے تھے ان ملازمین نے حکام سے اپیل کی کہ وہ 183 ملازمین کو کو صرف اساتذہ ظاہر نہ کریں اور سلسلے میں عوام میں بھی غلط فہمیاں پیدا نہ کی جائیں ۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔