کاشغر ، گوادر راہداری اور گلگت بلتستان کے عوام

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

دیدار علی شاہ

گلگت بلتستان تاریخ اور جغرا فیائی اعتبار سے پاکستان میں اہمیت کے حامل ہے یہاں کی ثقافت اور علاقائی خوبصورتی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ ایٹمی قوتوں کے بیچ میں واقع ہے جس سے اس کی اہمیت مزید بڑھتی ہے ۔ یہاں پر بسنے والے لوگ سادہ اور پر امن ہیں اور زیادہ تر لوگ زراعت سے وابستہ ہیں ۔ جب 70 ؁ء کی دہائی میں پاکستان اور چین نے مل کر شاہراہ قراقرم کی تعمیر کی تب سے اس علاقے میں کافی تبدیلی آئی ہے جس میں خاص کر تعلیم ، کاروبار ، صحت وغیرہ ہے مگر ابھی زیادہ تر لوگوں کا رجحان تعلیم اور کاروبار کی طرف زیادہ ہے اور کوشش کر رہے ہیں کہ اچھے تعلیم اپنے آنے والی نسل کو دیں ۔ اس علاقے میں موجود ہ تبدیلی کی وجہ شاہراہ قراقرم کی تعمیراور مختلف NGO کا کردار ہے ان کی وجہ سے یہاں لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور انہوں نے اپنے آپکو اور اپنی آنے والی نسلوں کی وقت اور حالات کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کی ہے یہ علاقہ سیاحت کے لیے بھی پر کشش اور پر امن جگہ ہے یہاں کے لوگ سیاحت کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں۔

پاکستان اور چین کی آپس مین بڑھتے ہوئے روابط کی وجہ سے اس علاقے میں کاروبار کے مواقعوں میں بھی دھیرے دھیرے تیزی آرہی ہے ، پانچ ماہ پہلے وزیر اعظم پاکستان نے چین کے ساتھ کاشغر کو گوادر سے ملانے کے ایک منصوبے پر دستخط کی تھی۔ جسے وزیر اعظم نے اس منصوبے کی تکمیل کے بعد اسے گیم چینجر (Game Changer) کانام دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب کاشغر ، گوادر راہداری مکمل ہونے کے بعد یا پاکستان میں معاش ترقی شروع ہوجائے گی۔ جس میں ملازمت اور کاروبار کے نئے مواقعے شروع ہونگے ۔ جس سے پاکستان خوشحالی کی طرف گامزن ہوگا۔

یہ راہداری کاشغر ، خنجراب ،ہنزہ ، نگر، گلگت اور دیامر سے گزرے گی اور اس راہداری کی تعمیرسے اس علاقے پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ مگر گلگت بلتستان کے عوام کواس کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے چند سوالات یہ ابھرتے ہیں  کہ کیا گلگت بلتستان کے عوام اس کے لیے تیار ہیں ؟ کیا ہم پوری طرح اس سے فائدہ اٹھائینگے؟ کیا دو ایٹمی قوتوں کے درمیا ن ہونے والی منصوبوں سے گلگت بلتستان کی نئی نسل کو فائدہ پہنچے گا؟ کیا اس منصوبے سے گلگت بلتستان کی تقدیر بدلنے والی ہے؟ کیا حکومت یہاں کے لوگوں کو اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے کا مواقع دے گی؟ اور سب سے بڑھ کر کیا ہم اپنے آپ کو اور اپنی نسل کو اس موقعے Oppurtunity کے لیے تیار کر رہے ہیں۔

ان سوالات اور خدشات کا ازالہ کرنے کے لیے کام کرنے والے ادارے تو قائم ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ادارے اپنے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اب آنے والی نسل کے لیے ایک جامع اور کاریگر طریقے سے حکمت عملی بنائے اور نہ صرف حکمت عملی بلکہ انہیں انجام تک بھی پہنچائے۔ اس بات کی ضرورت اس لیے ہے کہ کاشغر تا گوادر راہداری گلگت بلتستان سے گزر کر جائے گی یعنی ہم اس راہداری میں دروازے کی حیثیت رکھتے ہیں اگر ہم نے ابھی بھی اس راہداری کی اہمیت کو نہیں سمجھا تو آنے والے کچھ سالوں میں یہاں کے ہر شعبے پر حاکمیت روایتی طور پر کسی اور کی ہوگی۔ اگر گلگت بلتستان کے قانون ساز اسمبلی تعلیم یافتہ نوجوان اور ہنر مند اور سوچ بوج کے ماہر اپنے آپ کو کامیاب کہتے ہیں توکیا ہم اس راہداری میں دروازے کی حیثیت رکھنے والے اس کے لیے تیار ہیں؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments