سیاحت اور پختونخوا

سیاحت اور پختونخوا

29 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عنایت اللہ فیضی 

Faiziخبر آئی ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے امریکی عوام اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے ، غیر ملکی سیاحوں کو بلانے اور ملکی سیاحوں کو پُر کشش تر غیبات دیکر صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کو بڑھانے کا پروگرام بنایا ہے۔ یہ بہت بڑا پروگرام ہے اور اس کو عملی جامہ پہنا نے کے لئے مشاورت کا عمل جاری ہے ۔ افیسروں کی سطح پر تیاریاں ہورہی ہیں۔ جب تیاریاں مکمل ہونگی تو سیاسی قیادت اس پروگرام کو اگے بڑھائے گی ۔ دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جنکی 50 فیصد سے زیادہ آمدنی سیاحت سے آئی ہے ۔ فرانس ، اٹلی ، سوئیزر لینڈ ، چین اور تھائی لینڈ کی مثالیں دی جاتی ہیں نیپال ، مصر اور بھارت کا نام بھی ایسے ہی ممالک کی صف میں کیا جاتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان بھی سیاحت کے لئے بیحد پر کشش ملک ہے مگر 1960 ؁ء کے عشرے کے بعد ہمارے ہاں سیاحت کے فروغ کاکام رک گیا 1980 ؁ء کے بعد پاکستان بین الاقوامی سطح پر بدنام ہوا۔ 1998 ؁ء میں سیاحت کے شعبے کو دہشت گردی نے یر غمال بنالیا ۔ جب اُسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر پہلا میزائیل حملہ ہوا تو چترال ، گلگت ، گلیات اور مری سے ایک ہی دن 200 غیر ملکی سیاحوں کو پولیس کے ذریعے گرفتار کرکے ملک بدر کردیا گیا ۔ 2001 ؁ء کے بعد غیر ملکی سیاحوں کے لئے پولیس سیکورٹی کی لازمی قرار دیا گیا ۔ اب کوئی بھی معقول شخص پولیس سیکورٹی میں سیاحت کے لئے پاکستان کا رُخ نہیں کرتا ۔ یونیورسٹیوں کے پروفیسر وں اور ریسرچ والے طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد نے پاکستان اور خیبر پختونخوا کو اپنی ترجیحات سے نکال دیا ہے ۔ پہاڑی چوٹیاں سرکرنے والے مہم جو سیاحوں نے پاکستان کو اپنی فہرست سے خارج کر دیا ہے ۔ سال میں دو بار یورپ اور امریکی ممالک کی طرف سفری ہدایات ٹریول ایڈوائس جاری ہوتی ہیں ۔ جن میں پاکستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے اور تاکید کی جاتی ہے کہ پاکستان کا رخ نہ کر و ۔2014 ؁ء میں 20 دفعہ دوست ممالک کے سفارت کاروں کو این او سی دینے سے انکار کیا گیا ۔ یہ سفارت کا ر گلگت اور چترال میں بجلی گھروں کے منصوبوں کو دیکھنے اور فنڈ نگ میں مدد دینے کے لئے آرہے تھے۔

ایسے حالات میں سیاحت کا فروغ اور خصوصاً خیبر پختونخوا میں سیاحت کا فروغ بہت بڑا چیلنج ہے۔ اگر خیبرپختونخوا کی حکومت نے اس چیلنچ کو قبول کیا۔ تو یہ بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ خبر میں اس بات کی تفصیل نہیں آئی کہ حکومت کا منصوبہ کیاہے؟حکومت کس منصوبے پر مشاورت کررہی ہے۔ اب تک ہم نے جو دیکھا ہے ۔ وہ صرف میلہ لگانے کا منصوبے ہے۔ یہ وقتی کام ہے۔ دیر پا کام نہیں دنیا بھر میں سیاحت کے فروغ کو تین زاویوں سے دیکھا جاتا ہے ۔ سب سے پہلا زاویہ ملکی سیاحوں کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین نے سیاحت کو سکول کی سطح سے لیکر یو نیورسٹی تک تعلیمی کیلنڈر اور تعلیمی بجٹ میں شامل کیا ہے۔ ایک 22 سالہ نوجواں چاہے مرد ہو یا عورت ، یونیور سٹی سے فارغ ہوتے وقت پورے ملک کی سیاحت کر چکا ہوتا ہے۔ آپ کو ہر روز تیان آمن سکوئبر ، میں 100 سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات گروپ کی شکل میں نظرآئنیگے ۔ دیوار چین پر یہی منظرآپ کو ملے گا سب سے زیادہ آمدنی ملکی سیاحوں کے ذریعے آتی ہے ۔ ملکی سیاحوں کا رش غیر ملکی سیاحوں کے لئے بھی کشش کا سبب بنتا ہے ۔ مگر بات بنیادی ڈھانچے کی ہے۔ انگریزی میں اس کو کیر نگ کیپے سیٹی (Carrying Capacity ) بھی کہا جاتا ہے۔ سڑک ،پُل ، ہوٹل ، ریسٹوران گاڑیوں کا انتظام ، ٹیلی فون ، بجلی اور دیگر سہولیات کو بھی دیکھا جاتا ہے ۔ اگر سہولیات دستیاب نہ ہوں تو سیاحت کا فروغ خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ دوسرا زاویہ سرکاری پالیسیوں میں سیاحوں کے لئے آسانی پیدا کرنے کا ہے۔ بھارت ، نیپال اور افغانستان میں پہاڑی چوٹیان سر کرنے واکے مہم جو گروپوں کے لئے قوانین بہت نرم اور آسان ہیں ۔ پاکستان میں قوانیں بہت مشکل اور لمبے چوڑے ضابطون میں جکڑے ہوے ہیں ۔اس وجہ سے مہم جو گروپون کی اکثریت بھارت، نیپال اور افغانستان کو ترجیح دیتی ہے۔ 2006 ؁ء اور2014 ؁ء کے درمیانی عرصے میں بدخشان کے راستے اُن چوٹیوں کو سر کیا گیا۔ جنکے پرانے راستے خیبر پختوننخواسے جاتے تھے۔ یہ ایک ٹیکنکل موضوع ہے۔ اس پر تین روزہ سیمنار اور ورکشاپ کے زریعے ماہرین کی رائے لی جاسکتی ہے۔ تیسرا زاویہ سیاحت کے فروغ کے لئے مقامی لوگوں کی استعداد بڑھاتا ہے۔ لوکل گائیڈ ، لوکل رپورٹر ، لوکل ڈرئیور، ہوٹل مینجمنٹ وغیرہ میں سے ہر ایک کی تر بیت ہو نی چاہئے۔ تربیت کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جانی چاہئے۔ یہ بھی انتہائی نازک اور اہم کام ہے۔ 1960 ؁ء کے عشرے تک اس پر توجہ دی جاتی تھی۔ وطن عزیزمیں گلگت بلتستان کا ضلع ہنزہ واحد علاقہ ہے۔ جہان اس شعبے کے ماہرین موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا کو اس حوالے سے قلاش اور بدقسمت تصور کیا جاتا ہے۔ اس صوبے میں سیاحت کے شعبے کے ماہرین کی کمی ہے۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ کسی کو اس بات کا احساس بھی نہیں کہ ہمارے ہاں شعبہ سیاحت میں ماہرین کا فقدان ہے۔ یہ امر خوش آئیند ہے کہ حکومت نے امریکی عوام اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے خیبر پختونخوا میں سیا حت کے فروغ کے لئے سنجیدہ اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان اقدامات کے لئے ماہرین کی خدمات سے استفادے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کی خدمات کے بغیر یہ خوب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments