پشاور کا ثقافتی ورثہ 

پشاور کا ثقافتی ورثہ 

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میر تقی میر کو دہلی سے پیار تھا ڈاکٹر ظہور احمد اعوان پشاور سے پیار کرتے تھے یہ پیار ڈاکٹر سید امجد حسین نبھا رہے ہیں مگر وہ شام ایک ایسی شام تھی جب پشاور کے ساتھ پیار کرنے والے یکجا تھے پختونخوا قومی جرگہ ،کاروان اور سرحد کنزر ویشن نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے احباب جمع تھے ڈاکٹر عادل ظریف اس شام کے روح روان تھے ظہور درانی ،طاہر خٹک ،خالد ایوب ،عدیل بھائی ،علی بھائی ملکر بزرگوں اور دوستوں کے جھرمٹ میں شہر پشاور ،تحصیل گورکٹھڑی ،شاہی کھٹہ ،سیٹھی محلہ ،فیصل شہر اور قدیم شہر کی بے شمار یاد گاروں کا رونا ررو رہے تھے ایک مہما ن بتا رہے تھے کہ چند سال پہلے لاہور شہر کی یا دگار وں کو بچانے کیلئے والڈ سٹی کی الگ اتھارٹی بنی اس اتھارٹی نے شاہی حمام ،مسجد وزیر خان اور شاہی قلعہ کے مٹتے ہوئے آثار کو مٹنے سے بچانے کیلئے حکمت عملی وضع کی پرویز الہی نے ساتھ دیا شہباز شریف نے منصوبے کو جاری رکھا 12سالوں میں بڑا کام ہوا مگر پشاور کا قصہ اور ہے یہاں قصہ خوانی بازار ہے اس لئے بات قصہ کہانی سے شروع ہو کر قصہ کہانی پر ختم ہوتی ہے عدیل بھائی کہہ رہے تھے ہم کنکریٹ کے گھروں میں رہتے ہیں اور پرانے شہر کو بچانے کی بات کرتے ہیں ’’کیایہ کھلا تضاد نہیں ‘‘ڈاکٹر عادل ظریف نے وضاحت کی ہم سپر نگ ویلیج میں بیٹھے ہیں جو پشاور کا سید پور ہے جس طرح اسلام اباد والوں نے سید پور کو اصلی حالت میں رکھا ہوا ہے اس طرح اہل پشاور کو خالد ایوب نے سپر نگ ویلیج کا تحفہ دیا ہے تہکال کے انتہائی قیمتی علاقے میں پلازہ تعمیر کرنے کی جگہ انہوں نے سوات ،کوہستان اور چترال کے پہاڑی علاقوں سے قدیم زمانے کے محرابی دروازے ،محرابی ستون جمع کرکے پرانی لکڑی کی مدد سے ایک گوشہ عافیت تعمیر کیا اس کو پودوں اور پھولوں سے سجایا ،جدید اور قدیم فرنیچر کا امتزاج بنایا۔ بان کی چارپائیوں پر گاؤ تکیوں کی نشست کو دیکھیں تو حجرہ لگتا ہے جدید صوفوں اور کر سیوں سے مزین ہا ل اور برآمدوں کو دیکھیں تو اس پر شادی ہال کا گمان ہوتا ہے اور قدیم تہذیب کے آثار کو بچانے کیلئے غور و فکر کی بہترین جگہ ہے جہاں قدیم تہذیب پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے اس شام کے موضو عات متنوع تھے سی پیک کے تناظر میں چترال سے لیکر چکدرہ اور نوشہرہ تک سڑکوں کے دونوں طرف بکھرے ہوئے گندھارا تہذیب کے آثار کو چینیوں کے دست بر د سے بچانا بھی موضوع کا حصہ تھا پشاور میں ریپڈ بس ٹرانزٹ کی راہ میں آنے والے قدیم دور کے آثار کا تحفظ بھی ایجنڈے میں شامل تھا پشاور ہیری ٹیج ٹریل کے نام سے ثقافتی آثار کا تحفظ بھی موضوع بحث تھا ایک دل جلے نے کہا ،’’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا ‘‘ہمارے کسی بھی نیرو کو پشاور کی فکر نہیں بانسری کی فکر ہے ظہور درانی کا دکھ یہ تھا کہ جا پان ،کوریا ،چین ،امریکہ ،فرانس ،جرمنی اور دیگر ممالک سے پشاور آنے والے سیاح گندھارا تہذیب کے آثار یکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں 20 سال بعد ہمارے مہمانوں کو دکھانے کیلئے یہاں کچھ نہیں بچے گا گذشتہ نصف صدی کے اندر آدھے پشاور کے آثار ضائع ہو چکے ہیں 30سال پہلے ہم سیاحوں کو لیکر پشاور شہرمیں گھومتے تھے تو ان کو دکھا تے تھے یہ وہ چائے خانہ ہے جس کا ذکر ٹائن بی نے کیا ہے یہ وہ جگہ جس کا نام فاہیان نے لیا تھا یہ وہ جگہ ہے جہاں پشاور کی مشہور قراقلی ٹوپی بنتی ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں فصیل شہر کا مشہور دروازہ واقع ہے اب تو ڈھونڈنا پڑتا ہے کہ فیصل شہر کدھر ہے ؟طاہر خٹک کا کہنا تھا کہ سی پیک ایک پوٹلی ہے جس میں امکانات بھی ہیں خطرات بھی ہیں ہماری کمیونیٹی اور سول سو سائیٹی فعال ہوگی تو سی پیک شاہراہ کے دونوں اطراف میں واقع تہذیبی آثار کو محفوظ کر کے ان مقامات کو سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جائے گا ایسا نہ ہوا تو سب کچھ مٹ جائے گا خالد ایوب کا نقطہ نظر یہ تھا کہ کام بہت زیادہ ہے وقت بہت کم ہے ہمارے پاس فورم مو جود ہیں ہم خود سول سوسائیٹی کے فعال کا رکن ہیں پختونخوا قومی جرگہ ایک فعال پلیٹ فارم ہے کاروان بھی ہے سرحد کنزرویشن نیٹ ورک بھی ہے ہمیں ایک طرف ایڈوکیسی کے ذریعے حکومت کو شہر کے پرانے آثار اور صوبے میں سی پیک روٹ کے دونوں اطراف میں واقع قدیم تہذیب کی یا دگاروں کو بچانے پر امادہ کرنا ہوگا دوسری طرف عوام کیلئے کتا بچوں ،پوسٹروں اور دو ورقہ ۔سہ ورقہ معلوماتی بروشروں کے ذریعے آگاہی مہم چلانی ہوگی دونوں کام بیک وقت ہونے چاہئیں ظہور درانی کو لواری ٹنل کھلنے کے بعد چترال پر بیرونی تہذیبی یلغار کی فکر تھی وادی کالاش اور شیخاندہ کے قدیم تعمیراتی آثار کو بچانے کا غم تھا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ قدیم تہذیب کو آج کل سڑک کھلنے سے کوئی خطرہ نہیں قدیم تہذیب کو سب سے زیادہ خطرہ ٹیلی ویژن ،انٹر نیٹ اور تھری جی یا فورجی نیٹ ورک سے ہے پشاور سے قدیم گندھارا تہذیب کے آثار کو تحفظ دینا سی پیک کے تناظر میں بیحد اہم ہے مگر ایک شام اس کیلئے کافی نہیں پورے ماہ وسال اس کیلئے وقف ہونے چاہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments