چلیں وطن کی زُلفیں سنو ا ر یں

چلیں وطن کی زُلفیں سنو ا ر یں

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

نا ہیدہ غا لب

مجھے ایک با ت کی ہمیشہ سے سجھ نہیں آ تی ہے کہ آ خراحسا سِ ذمہ دا ری کسے کہتے ہیں او ر لفظ تنقید کے معنی کیا ہیں؟؟؟کیا لفظ تنقیدکے معنی صر ف اور صر ف کسی کی بر ا ئی یا نقص بیا ن کر نا ہے یا خود اپنی اصلاح کر کے ا س ا صلاحی عمل کو دوسرں میں منتقل کرنا بھی ہے۔ افسو س سے کہنا پڑتا ہے کہ تنقید کے اِس دا ئرے سے ہم سب اب تک نا بلد دکھائی دیتے ہیں ۔ہر فر ،ہر گرو ہ اور ہر ادارہ اس عمل سے کوسوں دور دکھائی دیتا ہے ۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے زوال اور پستی کے سبب میں خود ہم اور وہ سارے بھی شامل تو نہیں جو ہمارے آس پاس رہتے ہیں،ہمارے ساتھ کھیلتے کودتے ہیں،ہمارے ساتھ ہی ہنستے روتے ہیں اور مصروفِ عمل رہتے ہیں۔کیا ہم نے کبھی اپنے رویّوں ، کو تاہیوں اور غفلت پر خجالت کا مظاہرہ کیا۔کیا ہم نے کبھی اپنے کسی عزیز،دوست یا ہمسائے کو اس کی کمزریوں سے آگاہ کر نے کی کو شش کی اور اسے اصلاح کی صلاح دی؟؟

میرا مدّ عا احسا سِ ذمہ دار ی سے ہے۔اگر چہ یہ مر کب بے جا ن ہے مگر اِس کو اپنے اند ر پیدا کر کے اِس پر عمل کے ذر یعے سے ہم اِس بے جا ن مر کب کی قا لب میں جا ن ڈا ل سکتے ہیں۔اور یہ ذمہ دا ری صر ف ادارو ں کی نہیں ہے بلکہ ہر ایک کی بنتی ہے ۔ہم نہ صر ف ادا رو ں پر بلکہ سیا ست دا نو ں پر بھی تنقید کرتے ہیں ۔یہ ملک ہمارے اسلاف نے دوسروں پر تنقید کے ذریعے نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری ،عمل ، جہدِ مسلسل اور اپنی قیمتی جا نو ں کا نذ را نہ پیش کر کے حاصل کیا تھا۔اور اس ملک کو بنانے کا مقصد دوسروں پر تنقید اور آرام طلبی و بے کاری ہر گز نہ تھا۔ آج وطن عزیز کی حسین و جمیل زلفیں جو عشق پیچا ں کی طرح الجھیں ہوئی دکھائی دیتی ہیں ،یقیناًاس بربادی اور بے توجیہی کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں۔بقول فیض احمد فیضؔ

یہ داغ داغ اجالا ، یہ شب گُزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا ، یہ وہ سحر تو نہیں

میرا مطلب کسی ملک کو نکھارنے اور سنوارنے کے لئے صرف حکمران طبقہ یا ادارے ہی ذمہ دار نہیں ہوتے بلکہ ملک کا ہر فرد، ہر شہری ،ہر چھوٹا ،ہر بٹرا ،اس عملِ صالح کا حصہ بن سکتا ہے اور اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔مجھے سڑک پر ٹافیاں اور چاکلیٹ کھا کر ریپر بے دھڑک پھینکنے والے نوجوان بھی غلیظ ذہن کے مالک نظر آتے ہیں۔مجھے ان اٖفراد سے بھی شکایت ہے جو پانی کے نلکے اور بجلی کے بلب بلا ضرورت جلا ئے رکھتے ہیں۔مجھے دفتر دیر سے آنے والے اور جلدی جانے والے ملازم بھی چور معلوم ہوتے ہیں اور ایسے اداروں کے سربراہان ملک اور قوم کا غدار۔ مجھے پرندوں ،جنگلی جانورں اور مچھلیوں کا غیر قانونی اور بے تحاشا شکار کھیلنے والے ملک اور نیچر کے ڈاکو معلوم ہوتے ہیں۔خستہ حال پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والوں کے بارے میں بھی میر ے کوئی اچھے خیالات نہیں جو خراب ٹرانسپورٹ سڑکوں پر چلا کر موت کا کھیل کھیلتے ہیں ۔خراب سڑکوں پر اپنی مرضی کے سپیڈ بریکر بنا کرسڑکوں کو قبرستان بنانے والے بھی میری نظر میں خراب شہری ہیں۔ملک و قوم کا سرمایہ خرچ کر کے خراب سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کرنے والے تو میرے بلکہ ایک میرے تو کیا پورے ملک و قوم کے دشمن ہیں۔درختوں کو اپنے فائدے کے لیے بے دریغ کاٹ کاٹ کر قدرتی ماحول کو آلودہ کرنے والے اور لکڑی سمگل کرنے والے بھی بد نیت معلوم ہوتے ہیں۔اپنا قیمتی وقت اور عمر ضائع کر کے فٹ پاتوں اور گلی کوچوں میں تاش اور جوا کھیلنے والے حضرات بھی کوئی اچھے لوگ معلوم نہیں ہوتے۔سگریٹ ،چرس،شراب او ر دیگر منشیات کے رسیا اور کاروباری لوگوں کو تو خیر اللہ ہی سیکھا ئے۔مجھے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر دکھانے اور کمانے والے الفاظ کے جادوگر اور انصاف کے بیوپاری بھی حرام خور لگتے ہیں۔ مجھے مہنگے فروش، ذخیرہ اندوز اور ناپ تول میں ہیرا پھیری کرنے والے لوگ بھی بد نیت لگتے ہیں۔میرٹ کو پامال کرنے والے اور حقدار کا حق چھیننے والے تو کھبی میری قبر کے پاس سے بھی نہ گزرے۔مضر صحت اشیائے خورد و نوش اور جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والے جو معصوم شہریوں کی قیمتی جانوں سے کھیلتے ہیں،بھی ملک و قوم کے مجرم ہیں۔غریب والدین اور سرزمین پاکستان کا قیمتی سرمایہ ضائع کرکے تعلیم کے نام پر والدین اور ملک کو اندھیرے میں رکھنے والے نااہل طلبا ء بھی غیر ذمہ دار اور الہڑ دکھائی دیتے ہیں۔مجھے اُ ن لو گو ں سے بھی شکا یت ہے جو تعلیم کے نا م پر تعلیمی اڈّے کھول کر تعلیم کو نیلام کرتے ہیں اور معیار کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ کاروباری،سیاسی اور مذہبی قسم کے نعروں کے لئے دوسروں کی دیوارں پر بلا اجازت وال چاکنگ کر کے دیواروں اور مکانوں کا حسن برباد کرنے والے بھی غیر مہذب دکھائی دیتے ہیں ۔ ٹیلی ویژن کے سامنے کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر بکواسیات سننے والے آرام طلب بھی گناہ گار لگتے ہیں۔موبائل پر ایک منٹ کی بات کو طول دے کر بیس بیس منٹ اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کرنے والے بھی بے وقوف لگتے ہیں ۔غداروں،غیر ذمہ داروں اور ملک و قوم کے ایسے مجرموں کی فہرست بڑی طویل ہے۔جس میں ہم آپ سب ہی شامل حال ہیں۔ملی شعور و آگہی میں غفلت کی یہ انتہاآخر کب تک؟وقت پلٹ پلٹ کر ہم سے پوچھ رہا ہے کہ ہم میں بیداری آخر کب پیدا ہوگی؟ کیا ہم اسی طرح بے حسی کی موت مر یں گے؟کیا ہم کبھی وطن کا حق ادا بھی کر پائیں گے ؟وطن جو دھرتی ماں ہے۔وطن جو ہماری شناخت ہے۔وطن جو ہمارا ننگ و ناموس ہے۔وطن جو ہمارا تحفظ کا باعث ہے، وطن جو ہمارا سب کچھ ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ میری یہ بے باک طرز گفتگو بہتیروں کے طبعِ نازک پر گراں گزرے گی۔مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میری یہ تحریر بہتوں کا دل دُکھائے گی۔مگر سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے اور سچ کی یہ کڑوی گولی آخر کسی نہ کسی روز ہم سب کو کھانی ہوگی۔ تاکہ جھوٹ،آرام طلبی،غفلت اور بد عنوانی کی غلیظ روح کو موت واقع ہو اور ہمارے اندر ایک پاکیزہ اور کھری روح جنم لے سکے۔ المختصران تما م غلا ظتو ں کے بارے میں کہے توکیا کہے ،کر ے تو کیا کرے، لکھے تو کیا کیا لکھے۔کیا ہم نے کھبی سوچا کہ ہم نے اپنے وطن عزیز اور اپنی ہی قوم کے لیے کیا کیا۔اگر نہیں تو آئیے ہم سب مل کر وطن عزیز کی حسین زلفیں سنوارنے کا عہد کریں۔ بقول اسسٹنٹ پروفیسر غالب شاہ سیّد۔

وطن کی الجھی زلفیں سنوارے ، اے میرے پیارے !
جاہل ہیں ، گنوار ہیں ہم سارے ، اے میرے پیارے !
نکال لایا ہوں اپنی کشتی بھنور سے ، اے جان !
سنبھالو اب آ کے تم کنارے ، اے میرے پیارے !

میں اپنے ہم وطنوں سے مخاطب ہوں اور دعوت دیتی ہیں کہ آئیے اور اپنے اپنے صفوں میں اپنی ہی کوتاہیوں کی نظر ثانی کرے اور نہ صرف نظرثانی کرے بلکہ اپنی اصلاح برائے تعمیر کے عمل کو بھی بروئے کار لائے تاکہ ہم بھی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک تر قی یا فتہ اور مہذب ملک سر ما ئے میں دے سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔