بلدیاتی فنڈز میں غضب کی لوٹ مار 

بلدیاتی فنڈز میں غضب کی لوٹ مار 

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلزپارٹی اور اتحادی جماعتوں پر مشتمل صوبائی سرکار نے چار سالوں میں محکمہ لوکل گورنمنٹ کو شہری و دہی علاقوں میں چھوٹے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک سو کروڑ روپے سے زائد رقم فراہم کی جس کا مقصد محلہ اور گاؤں سطح پر عوامی نوعیت کے ایسے منصوبے شروع کرنا تھا جس پر لاگت کم ھو اور جو جلد از جلد مکمل ھوں.

یہ خطیر رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بجاے منتخب قیادت اور بیوروکریسی نے جعل سازی کے ذریعے اپنی جیبوں میں ڈال کر کاغذوں میں ہزاروں منصوبوں کو مکمل ظاهر کرکے قصہ تمام کرڈالا ہے.

صوبائی دارلحکومت گلگت سمیت دیگر اضلاع کے شہری و دہی علاقوں میں سینکڑوں ایسے منصوبے سامنے اے ہیں جن کا روے زمین پر نام و نشان تک موجود نہیں ہے.

Bukhariمحکمہ بلدیات نے کاغذی منصوبوں کی تیاری میں اس بات کا بھی خطرہ محسوس نہیں کیا کہ وہ جس منصوبے کے نام پر رقم خرچ کر رہے ہیں کل کو یہ دیکھنا پڑے تو کیا دیکھایا جاے گا اس لیے ایسی ایسی سکمیں ظاہر کی گئی کہ ان کا سن کر ھے انسان حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے.  

کنوداس گلگت شہر کی سب سے بڑی رہایشی آبادی ھے جہان مختلف محلہ جات ہیں ان میں سے لب دریا چھمو گڑھ کالونی واقع ھے اس محلہ میں محکمہ بلدیات نے ،،واٹر چینل ،، تعمیر کرنے کے نام پر رقم بٹوری ھے اس طرح آر سی سی برج کے پاس ،،عوامی بیت الخلا ،، کاغذوں میں تعمیر کیا گیا ہے.  

ان منصوبوں سمیت اس علاقے میں ظاہر کی جانے والی سکیموں کی راقم نے چھان بین کی تو سرے سے ایسے منصوبوں کا کوئی نام و نشان نہیں مل سکا. 

اس بات سے آپ بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر دارلحکومت میں لوٹ مار کا یہ عالم ھے تو دیگر اضلاع میں کیا حالت ہوئی ہوگی. 

ھم نے متعدد ممبران اسمبلی سے ان کے حلقوں میں بلدیاتی منصوبوں بارے دریافت کیا تو سب کا جواب ایک جیسا تھا کہ ،،مجھے کچھ پتہ نہیں ہے …..

پانچ برس قبل گلگت بلتستان کو صوبائی طرز کا سیٹ اپ دیا گیا تو عوام اس غلط فہمی کا شکار ہوگے کہ اب بااختیار منتخب عوامی حکومت ان کے چھوٹے بڑ ے مسلوں کو حل کر کے ان کے معیار زندگی کو بلند کریگی لیکن ایسا نہ ہوسکا اور آج پہلی صوبائی سرکار جس کے خاتمے کی گنتی الٹی شروع ہوچکی ھے کے اقتدار کا سورج لوٹ مار ،اقربا پروری اور بے انصافی کی کہانیاں چھوڑ کر غروب ھو رہا ہے.

مہدی شاہ حکومت نے پانچ سولوں تک بلدیاتی انتخابات کا انقاد نہ کرکے گلگت بلتستان میں لوٹ مار کا ایسا بازار گرم کیا جس کی تحقیقات کرنا اور خرد برد میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرنا ضروری ہے. 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments