شگر میں انسداد پولیو مہم کی افتتاحی تقریب منعقد، دس یونین کونسلز میں تیس ہزار بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

شگر میں انسداد پولیو مہم کی افتتاحی تقریب منعقد، دس یونین کونسلز میں تیس ہزار بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Polio

شگر(عابد شگری)پولیو کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستانیوں کی رسوائی ہورہا ہے۔ہر ائیرپورٹ پر وزیر اعظم پاکستان تک کو پولیو کے قطرے پلا کر ملک کی توقیر پر آنچ انے دیا جاتا ہے لیکن گلگت بلتستان پاکستان کا واحد پولیو سے پاک خطہ ہے جہاں پولیو کے ایک بھی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوئے جو کہ ہمارے لوگوں میں شعور اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی کامیابی کا ثبوت ہے ان خیالات کا اظہار پولیو کی تین روزہ ملک گیر مہم کی ابتداء کرتے ہوئے ڈی ایچ او سکردو سید اسارا حسین شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر شگر ذاکرحسین نے کہا۔ڈسٹرکٹ سکردو کاتین روزہ انسداد پولیو مہم کی ابتداء ڈی ایچ او سکردو سید اسرار حسین شاہ،اسسٹنٹ کمشنر شگر ذاکر حسین و دیگر معززین شگر نے ریسٹ ہاؤس شگر میں بچوں کو پولیو اور وٹامن اے کے قطرے پلا کر آغاز کردیا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میڈیکل آفیسر شگر ڈاکٹر وزیر غلام حسین نے کہا کہ شگر میں انسداد پولیو مہم کے دوران شگر کے دس یونین کونسل میں تیس ہزارسے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائی جائے گی۔جس کیلئیے پنتالیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے جو گھر گھر جاکر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو قطرے پلائیں گے جبکہ بارہ فکس سنٹر ہیں جہاں رہ جانے والے بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ اسسٹنٹ کمشنر شگر ذاکر حسین نے کہا کہ انسداد پولیو مہم ایک قومی مہم اور ہمار فریضہ ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہمارا خواب پولیو فری پاکستان ہے اس کیلئے شگر انتظامیہ محکمہ صحت کیساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔ڈی ایچ او سکردو سید اسرار حسین شاہ نے کہا کہ پولیو کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستانیوں کی روسوئی ہورہا ہے کتنی افسوس کا مقام ہے کہ صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان تک کو کسی ملک میں داخل ہونے سے پہلے پولیو کے قطرے پلایا جاتا ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے گلگت بلتستان پولیو سے فری زون ہے جہاں سترہ سالوں سے کوئی بھی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا جو کہ ہماری کامیابی ہے۔لیکن اس کے باؤجود ہمیں اس مہم میں کوتاہی کا مظاہر ہ نہیں کرنا چاہے کیونکہ ان علاقوں میں لوگوں کی ہجرت اور نقل مکانی کی وجہ سے پولیو کی وائرس کا آنے کا خطرہ ہمیشہ منڈلاتا رہتا ہے۔پولیو کے تمام تانے بانے خیبر پختونخواہ سے ملتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔