مشکن جنگل کا کٹاؤ اور ڈی ایف او کا طرز عمل

مشکن جنگل کا کٹاؤ اور ڈی ایف او کا طرز عمل

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر:قاری جمال دار شاہ ظفرڈشکن

اس میں شک نہیں کہ سائنس نے انسانی معیار زندگی کو تحت الشریٰ کی پستیوں سے نکال کر اوجِ ثریا کی بلندیوں سے ہم آشنا کردیاہے۔ آج سے چند صدیاں قبل بادشاہوں کی زندگیوں میں بھی وہ آسائشیں اور سہولتیں میسرنہیں تھیں بلکہ اُن کے حاشیہء خیال میں بھی نہیں تھیں جوکہ آج سائنسی ترقی کی بدولت ایک عام مزدور کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ لیکن سائنس نے جہاں کرۂ ارض کے باسیون کواک نئے معیارِ زندگی سے روشناس کروایا ہے وہیں پر اس خطہ ارضی پر بسنے والی تمام مخلوقات کونت نئے مسائل سے دوچار بھی کیا ہے۔ ان مسائل میں سے ایک مسئلہ فضائی آلودگی اور فضائی درجہ حرارت میں بڑھتی ہوئی حدت ہے جوکہ اب ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے ۔ اس مسئلے کی اہمیت وحساسیت کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ مہینوں جی ایٹ ممالک کے سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں بھی فضائی آلودگی کے مسئلے کو رکھاگیاہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کاپھیلاؤ نت نئے مہلک وجراثیمی ہتھیاروں کی ایجادات اور تجربات دنیاکے مختلف خطوں میں محدود جنگیں اور ان میں آگ اور بارود کاکھیل۔ دنیامیں بڑھتا ہوا ٹریفک کااژدھام ۔ رات دن دھواں چھوڑتے ہوئے کارخانے وفیکٹریوں کے اس دورمیں فضائی درجہ حرارت معتدل اور متوازن رکھنے کاقدرتی اور بنیادی ذریعہ درخت ہیں۔ درخت اور جنگل نہ صرف سینہٗ دھرتی سے نایاب ہوتے ہوئے قیمتی پرندوں اور مختلف جانوروں کی پناہ گاہیں ہیں۔ بلکہ خودانسان کی جائے پناہ یعنی کرۂ ارض پر انسان کی زندگی کے ضامن بھی ہیں۔ صرف اتنا نہیں کہ جنگل اور درخت زیور زمین ہیں بلکہ قدرتی نظام کے تحت صدیوں سے جمے ہوئے پانی کے وسیع ذخیرے یعنی گلیشئرزکے وجوداوران کی بقاء کااہم اور اٹل ذریعہ بھی ہیں۔ جنگل اور درخت نہ رہیں تو زمین تپ کر گرم توے کی صورت اختیار کرجائے۔ یقیناًجنگلات ہر ذی روح کے لئے زندگی کادرجہ رکھتے ہیں۔ لیکن یہ جنگل جسقدر ہماری زندگی دوست ہیں اُسی قدرخود انسانوں ہی کے ہاتھوں بے دردی وبے رحمی کاشکارہیں۔ ضلع استورمیں واقع قصبہ ڈشکن چیڑ اور صنوبر کے جنگل کے اعتبارسے ممتازحیثیت کاحامل ہے۔ لیکن چند فرض شناس اور باضمیر آفیسروں کے علاوہ مختلف ادوارمیں ہرآنے والے ڈی ایف اوزنے مقامی ٹمبرمافیا اور لکڑ چوروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی بجائے ایسا رویہ اور پالیسی اپنائے رکھی جس نے اس خوبصورت جنگل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
کئی سال سے تعینات موجودہ ڈی ایف او صاحب کاطرز عمل توایسا ہے کہ گویا گورنمنٹ نے انہیں لکڑ چوروں کی سرپرستی اور انکی حوصلہ افزائی کے لئے ہی متعین کیاہو۔ ڈی ایف او صاحب گورنمنٹ کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات و مراعات کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے نہ صرف جنگل کے کٹاؤکاسبب بنے ہیں بلکہ مقامی سطح پر تحفظ جنگل کے حوالے سے کام کرنے والی کمیٹیوں کی ناکامی کاسبب بھی بنے ہیں۔ جس کی تفصیلات آنے والے کسی کالم میں آئیں گی۔ موجودہ ڈی ایف اوصاحب جب آر ایف او کے منصب پر فائز تھے اپنے منصب کے ناجائز اور غلط استعمال پر باضابطہ دھرے بھی گئے ہیں اور تھانہ استورمیں ان پر کیس کی نوبت تک آئی ہے۔ یقیناایسے آفیسرکسی بھی محکمے کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ موصوف کئی سال سے استورتعینات ہیں لیکن اہل ڈشکن کے باربار کے اسرار اور تقاضے کے باوجود ڈشکن جنگل کے دورے سے محترز رہے ہیں۔ ڈی ایف او صاحب نے جڑی بوٹیوں کی سمگلنگ کرنے والوں سے سرپرستانہ روش اپنائے رکھی جس وجہ سے ضلع کو کروڑوں کانقصان پہنچا۔
متذکرہ بالا طرزِ عمل اگرکسی کے ہاں ’کارنامہ‘کے ذیل میں آتا ہے تو موصوف اس بات کے مکمل حقدار ہیں کہ انہیں نشانِ امتیاز سے نوازاجاناچاہیے۔ حسن اتفاق سے ان کا نام نامی بھی امتیازہی ہے۔ مشکن تقریباً سوگھرانوں پر مشتمل ڈشکن کا مضافاتی گاؤں سے پہاڑ کی چوٹی پر پڑنے والی کئی فٹ برف اور گلیشیئرزاور اس گاؤں کے درمیان تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر عرض رکھنے والا مشکن جنگل موجود ہے جوکہ برفانی تودوں اور برف کے پگھلنے کے عمل کے دوران پانی اور مٹی کے ریلوں سے اس گاؤں اور یہاں کی زمینوں کے لئے قدرتی بچاؤ اور حصار کا کام دئیے ہوئے ہے۔ جیسے کہ پچھلی سطور میں ذکر کیاجاچکا ہے کہ یہ جنگل بے تحاشا کٹاؤکی زدمیں رہاہے۔ جس وجہ سے مذکور ہ گاؤں اور وہاں کی زمینیں برفانی تودوں اور پانی مٹی کے ریلوں کی زدمیں آچکی ہیں اور ابھی تک بہت سی زمینیں کٹاؤ میں آکر دریابرد ہوچکی ہیں۔
ان سطور کے ذریعے ہم حکام بالا سے ایسے فرض شناس آفیسر کے خلاف قانونی کارروائی اور احتساب کامطالبہ کرنے میں حق بجانت ہیں۔ ان کی جگہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کوایک مشن ،عزم اور نصب العین کے جذبے سے نبھانے والے آفیسر کا تعین کیاجائے ورنہ باڑھ ہی باغ کو کھانے پر آجائے تو اس باغ کا خداحافظ ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔