گلگت میں قتل ہوںے والے سفیر ولد قلمشیر کو چلاس میں سپرد خاک کر دیا گیا، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ

چلاس(ڈسٹرکٹ رپورٹر) سیکرٹری تعلیم گلگت بلتستان ثناء اللہ کے بڑے بھائی سفیر محمد ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ آبائی گاؤں ہوڈرمیں سپردخاک کردیا گیا۔انہیں پیرکے شام گلگت چیف کورٹ کے دفتر کے سامنے نامعلوم افراد گولیاں ماردی تھیں جو بعد ازاں سٹی ہسپتال گلگت میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے مرحوم پولو کے مشہور کھلاڑی حاجی قلم شیر کے بڑے بیٹے اور سیکرٹری تعلیم گلگت بلتستان ثناء اللہ کے بڑے بھائی تھے مرحوم خود بھی پولو کے بہترین کھلاڑی تھے مرحوم کی نعش منگل کے روز گلگت ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پوسٹمارٹم کے بعد آبائی گاؤں ہوڈر چلاس پہنچایاگیا مرحوم کا جنازہ اپنے آبائی گاؤں ہوڈر میں پڑھایا گیا جس میں صوبائی وزراء بشارت اللہ،نعمت اللہ،سیکرٹری داخلہ سبطین احمد خان،سیکرٹری صحت رشید علی،سیکرٹری بلدیات آصف اللہ،سیکرٹری وزیراعلیٰ خاد م حسین، سیکرٹری اختر رضوی ،سیکرٹری قانون رحیم گل سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی ،اس موقع پر سیاسی سماجی شخصیات کے علاؤہ کثیر تعداد میں پولو کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی مرحوم کے لواحقین میں والدین چار بھائی کے علاؤہ بیوہ،ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں مرحوم انتہائی ملنسار اور مہمانواز تھے عوامی سیاسی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت فی الفور سفیر محمد کے ملزمان کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچائے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments