جماعت اسلامی گلگت بلتستان میں آزاد کشمیر طرز سیٹ اپ کی بھرپور حمایت کرتی ہے، مولانا سمیع اللہ

جماعت اسلامی گلگت بلتستان میں آزاد کشمیر طرز سیٹ اپ کی بھرپور حمایت کرتی ہے، مولانا سمیع اللہ

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(ایس ایچ غوری سے) جماعت اسلامی گلگت بلتستان میں کشمیرطرز کے سیٹ اپ کی بھرپور حمایت کرتی ہے مسلہء کشمیرکے حل تک گلگت بلتستان اوت آزاد کشمیر کی مشترکہ کونسل بنایا جائے دونوں خطوں کا ایک ہی صدر ہو اپنی اپنی اسمبلیاں ہو جو اپنے اپنے انداز میں قانون سازی کرسکیں جس کے بعد یہ خطہ مسلہء کشمیر کا بیس کیمپ ثابت ہو گا وفاقی سطح پر ایکٹ کے زریعے کشمیر طرز سیٹ اپ دے سکتے ہیں سپیکر فدا محمد ناشاد کی کشمیرطرز سیٹ اپ کا بیان حقیقت سے آنکھیں چرانے کی مترادف ہے۔

ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے امیر مولانا محمد سمیع،نائب امیر گلگت بلتستان و آزاد کشمیر مشتاق احمد ایڈوکیٹ ،سابق نگران وزیر نعمت اللہ خان،نظام الدین،قاری اسماعیل اور جہانگش خان نے چلاس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نوزاز شریف نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کی جس انداز میں نمائندگی کی ہے وہ قابل تحسین ہے نواز شریف پہلے پاکستانی وزیراعظم ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کا بھرپور انداز میں مقدمہ لڑا ہے جس پر پوری قوم انھیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے کڑے وقت میں سپہ سالار کی حثیت سے جو زمہ داریا ں نبھائی ہیں ہمیں ان پرفخر ہے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے مسلم لیگ ن کو جس خلوص جذبہ اور محبت سے مینڈٹ دیا تھا حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی مسلم لیگ کے اندر گروپس ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ ن لیگ ٹھوس لائحہ عمل کے زریعے تمام چیلنجز کا مقابلہ کرے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہم دعاگو ہیں کہ حکومت عوام کے توقعات کے مطابق پالیسیاں بنائیں تاکہ عوام کو فائدہ ہو انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سی پیک کی مکمل حمایت کرتی ہے لیکن دیگر صوبوں اور آزاد کشمیر کی طرح گلگت بلتستان کو بھی بھرپور حصہ دیا جائے انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشہ ڈیم ،بابوسر ناراں سڑک کو سی پیک میں شامل کیا جائے تاکہ یہ فوری مکمل ہو سکیں انہوں نے کہا کہ دیامر کو صنعتی زو ن کا درجہ جائے ۔انہوں نے کیا کہ دیامر میں حدود تنازعہطویل عرصے سے لٹکا ہوا ہے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ تاحال پیش نہیں کی گئی انہوں نے تجویز دی کہ حدود تنازعے کو دونوں صوبوں کا مسلہء قرار دینے کے بجائے دوعلاقوں کا مسلہ ڈکلیر کیا جائے اور جرگے کے زریعے اس مسلئے کا مستقل حل نکالا جائے اور حکومت جرگے کے ساتھ تعاون کرے تو مسلئے کا فوری حل نکل آئے گا

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے یہاں پر ٹیکسوں کا نفاذ غیر قانونی ہے فوری ان ٹیکسوں کا اعلان واپس لیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا گلگت بلتستان کے دیگر نئے اضلاع کی طرح داریل اور تانگیر کو بھی الگ الگ ضلع بنایا جائے انہوں نے کہا کہ دیامر میں قراقرم یونیورسٹی کا کیمپس کھولنا ایک احسن اقدام ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ میل فیمیل مذید کھول دئے جائیں اور بھرپور انداز میں دیامر میں تعلیمکی فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں انہوں نے کہا کہافسوس کا مقام ہے کہ چلاس شہر کے تمام سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں پینے کا صاف پانی نہیں ہے سکولوں کی حالت ابتر ہے اور ووٹ حاصل کرنے والے عوام کے مسائل سے بے خبر ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments