شانٹی ڈے منانے کے لئے نایاب پرندے کا شکار کیا گیا، محکمہ جنگلی حیات کیوں خاموش ہے؟، شہزاد الہامی

شانٹی ڈے منانے کے لئے نایاب پرندے کا شکار کیا گیا، محکمہ جنگلی حیات کیوں خاموش ہے؟، شہزاد الہامی

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ۔ ر)پاکستا ن پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنماء شہزاد حسین الہامی اور وزیرکامران ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں شانٹی ڈے منانے کے لئے نایاب پرندے ڈنگ بارش کا شکار کیا گیا ، جس سے اس نایاب پرندے کی نسل کشی ہورہی ہے۔ ورلڈ لایف ڈپارٹمنٹ کو چاہیے کہ وہ حکومت کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائے ۔ والڈ لائف کی رپو رٹس اور مختلف تحقیق کے مطابق جس پرندے سے شانٹی بنائی جاتی ہے اس کی نسل خطرے میں ہے۔ جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت نے شانٹی ڈے منا کردیامر اور دیگر اضلاع میں بے دردی سے اس نایاب پرندے کے شکار کے مواقع فراہم کئے ۔ مزید یہ کہ اس سے گلگت بلتستان کےعوام کو اس نایاب پرندے کی قیمت کا علم ہوا ہے۔ جس سے یہ خطرہ لاحق ہے کہ کاروبار کے واسطے اس نایاب پرندے کی نسل کشی حکومتی سرپرستی میں شروع ہوگی۔ اس سلسلے میں وائلڈ لائف حکام کی مجرمانہ خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔

حکومت نے ایک ٹوپی اور شانٹی ڈے منانے کے لئے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا ہے۔ صوبائی حکومت کو اگر کلچر کے فروغ کے لئے کام کر نا ہے تو گلگت بلتستان میں کلچرل میوزیم تعمیر کیا جائے، گلگت بلتستان کے کلچر کو نصاب کا حصہ بنائے، اور یونیورسٹیوں میں کلچر آف گلگت بلتستان کے نام سے ڈپارٹمنٹس کھولے جائیں۔ اگرنصاب میں گلگت بلتستان کے کلچر کو شامل کیا جائے تو ہمیں اس قسم کے نام نہاد پروگراموں کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ حکومت کو چاہئے کہ اس ایک دن کو منانے کے لئے جو پیسہ خرچ کیا گیا ، اس سے  گلگت بلتستان میں ثقافتی ترقی کے لئے جو سوساٹیز کام کر رہی ہیں ان کو پروموٹ کیا جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔