دیامر کے پچانوے فیصد سکولوں میں متعلقہ مضامین کے اساتذہ کی کمی ہے، تجزیاتی رپورٹ

دیامر کے پچانوے فیصد سکولوں میں متعلقہ مضامین کے اساتذہ کی کمی ہے، تجزیاتی رپورٹ

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(تجزیاتی رپورٹ)گلگت بلتستان کا سب سے پسماندہ ضلع دیامر کے 95فیصدتعلیمی اداروں میں متعلقہ مضامین کے اساتذہ کی کمی ہے اور 90فیصدسکول چاردیواریاں نہ ہونے کی وجہ سے غیر محفوظ ہیں ۔دیامر کی تینوں تحصلوں چلاس ،داریل اور تانگیر میں پرائمری سکولوں کے اندر تعلیمی سہولیات بلکل نہ ہونے کے برابر ہے ۔محکمہ ایجوکیشن کی طرف سے ضلع دیامرکے پرائمری سکولوں کی طرف توجہ مرکوز نہ رکھنے کی وجہ سے آنے والی نئی پودشدید تعلیمی مشکلات سے دوچار ہے۔محکمہ ایجوکیشن کو چاہیے کہ ضلع دیامر کے اندر تعلیمی اداروں کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے۔مجموعی طور پر ضلع دیامر کے تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی سہولیات میسر نہیں ہیں ،جس کیوجہ سے دیامر روز بروز تعلیمی تنزلی کا شکار ہے۔

چلاس شہر میں پرائمری سکولوں  میں چاردیواری نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ غیر محفوظ ہیں ،سکولوں کی کھڑکیاں اور دروزے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،طلبہ اس سخت سردی میں موسم کا مقابلہ کرتے ہوئے تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔دیامر کے دور دراز علاقوں میں مڈل اور ہائی سکولوں کی حالت بھی قابل رحم ہے ۔دیامر کی بگڑتی ہوئی تعلیمی نظام کو درست سمت میں لانے کیلئے وزیر اعلی اور سیکرٹری ایجوکیشن کو محکمہ ایجوکیشن میں قابل اورزمہ دارافران کو زمہ داری سونپ کر تعلیمی سسٹم کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔