فخر بلتستان و پاکستان حسن سدپارہ

فخر بلتستان و پاکستان حسن سدپارہ

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:عارف نواز، طلب علم بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان

 

ہیرو کون ہوتا ہے اور ہم انہیں کیوں یاد رکھتے ہیں؟

ہیرو وہ شخص ہے جو دوسروں کے لئے مثال ہو،اس کے کچھ کارنامے ہوں،اس کے کچھ خدا داد صلاحیت ہو ں،اس کے اندر کچھ ایسے خوبیاں ہوں جسے لوگ اپنا رول ماڈل یا آئڈیل مانے ۔ میرا ماننا ہے کہ یہ ہیروز اس لئے آتے ہیں تاکہ وہ لوگ وہ کام کرے جو عام لوگ نہیں کر سکتے ہیں ۔ ان کی قربانیوں کے بدلے ان کے لئے بے تہاشا عزت ہے جس کی وجہ سے ہم ان کو یاد رکھتے ہیں۔ہم ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ بھی سوچتے ہیں کہ ان کی جگہ کوئی بھی نہیں لے سکتا ہے۔ہم ان ہیروز کو دیکھتے ہیں کاش وہ کچھ عرصہ اور زندہ رہتا تو یہ دنیا اور پیاری ہو سکتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ ہم ان کو یاد رکھتے ہیں اور ہم اپنے آنے والے نسلوں کو ان کی کارنامے کہانیوں کی صورت میں سناتے ہیں تاکہ وہ بھی ان ہیروز کو یاد رکھیں ۔حسن سدپارہ بھی ایک ہیرو تھا وہ بھی بہت سے لوگوں کے لئے رول ماڈل ہیں۔

سکردو شہر کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے، یہ پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ گرمیوں میں یہ شہر دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف بلاتی ہے۔سکردو شہر سے دیوسائی جانے والی راستے میں ایک گاوں ہے سدپارہ ۔ حسن سدپارہ 3 اپریل 1963 کو یہاں پیدا ہوئے ۔انہوں نے 1999میں پروفیشنل کوہ پیمائی شروع کی اور اسی سال ننگا پربت جسے قاتل پہاڑ کہا جاتا ہے کو سر کر لیا ۔

کہا جاتا ہے آج سے پانچ کروڑ سال پہلے ہندوستان اور وسطی ایشیاکے ٹیکٹونک چٹانیں آپس میں ٹکرا گئے اس کے نتجیے میں شمالی پاکستان کے پہاڑی سلسلے کو جنم دیا جو کہ قراقرم ،ہمالیہ اور ہندوکش کی سرحدوں پر واقع ہے ۔کے ٹو کوہ قراقرم میں واقع ہے اور یہ خطرناک اور وہشی پہاڑ کے ٹو گلگت بلتستان میں موجود ہے اور دنیا بھر کے کوہ پیماہوں کو اپنی طرف کھتچتا رہا ہے ۔آج تک کچھ لوگ ہی اس کو سر کرنے میں کامیاب ہوے ہے اور بہت سارے کوہ پیماہ اس چوٹی کو سر کرتے کرتے ہلاک ہوگئے۔اس چوٹی کو سر کرنا عام لوگوں کا کام نہیں ہے اس کے لئے جگر اور ہمت درکار ہے۔کے ٹو کو سر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے کیونکہ اس کا انجام ہلاکت ہی ہے۔۔اس پہاڑ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں ناگہانی آفات یہاں آنے والوں کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ اس پہاڑ کو وہشی اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ابھی تک جتنے بھی لوگوں نے اس کو سر کرنے کی کوشش کی ہے ان میں سے 25% لوگ سر کرتے کرتے ہلاک ہوگئے۔لیکن ان سب خطرات اور چیلنجز کے باوجود جو اس کو سر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ان کا نام تاریخ میں امر ہوجاتا ہے۔اور ان لوگوں کو یہ نام زندگی کی قیمت میں ملی ہوتی ہے۔ کے ٹو کو پہلی بار 1909 میں سر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن 6525m تک ہی پہنچ پائے۔ اس کے 45سال بعد کے ٹو کو سب سے پہلے اٹلی کے ایک ٹیم نے 1954 میں پہلی بار سر کی۔ حسن سدپارہ حکومت سے کو ئی پزیرائی نہ ملنے کے باوجود 2004میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو k2 کو بغیر آکسیجن کے سر کر کے پاکستان کا نام روشن کیا۔

اس کے بعد بغیر آکسیجن کے 2007 میں براوٹ پیک 8051m بلند اور یہ دنیا کا 12th سب سے بلند چوٹی ہے یہ بلتستان میں سلسلہ قراقرم اور کے ٹو سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے اس کو بھی سر لیا۔اور 2006 میں گشہ بروم ون یہ بھی بلتستان میں موجود ہے اس کا دوسرا نام k5 بھی ہے اس کو سر کیا، اور گشہ بروم ٹو 8035m اس کا دوسرا نام k4 بھی ہے یہ چوٹی بھی بلتستان میں سلسلہ قراقرم میں موجود ہے ۔یہ چوٹی بلندی کے لحاظ سے 13th پر نمبر ہے کو بھی سر کر لیا۔اس چوٹی کا نام گشہ بروم بلتی زبان گشہ مطلب خوبصورت اور بروم مطلب پہاڑ یعنی خوبصورت پہاڑ سے لیا گیا ہے ۔ وہ اس طرح 8 ہزار سے بھی بلند 6 چوٹیوں کو بغیر آکسیجن کے سر کرنے والے دنیا بھر سے پہلے آدمی بن گئے۔ اور بالآخر 2011 میں ماونٹ ایورسٹ جو نیپال میں ہے اور یہ دنیا کا سب سے بلند چوٹی ہے۔اور اسے 200 لوگوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کو سر کرنے آئے ہوئے دو سو افراد یہاں لقمہ اجل بن گئے۔ دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماونٹ ایورسٹ کو بھی سر کر لیا اس طرح حسن سدپارہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے پاکستانی بن گئے۔اس طرح یہ مہم ان کی اصل شہرت کا باعث بنا۔ آپ مشکل سے مشکل مہم کو بھی سر کرکے آسان بنا دیتے تھے۔قاتل پہاڑوں کو سر کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کے گھر والوں کا کہنا ہے وہ جب کبھی کسی مہم پہ جاتے تھے تو وہ اپنے گھر والوں کی فکر کئے بغیر صرف اس لئے نکلتے تھے تاکہ وہ وطن کی سبز ہلالی پرچم کو ان چوٹیوں پہ لہرا سکیں جہاں عام لوگ نہیں لہراسکتے ہیں۔حکومت پاکستان نے کوہ پیمائی کے شعبے میں اعلی کارکردگی کے عوص حسن سدپارہ کو سنہ 2008 میں تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

وہ کئی ماہ سے خون کے سرطان میں مبتلہ تھے اور علاج کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔پنجاب گورنمٹ نے 25 لاکھ کا اعلان بھی کیا لیکن پیسے وقت پہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کا پراپر علاج نہ ہو سکا اور اس طرح وہ انتقال کر گئے۔وہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی شہرت یافتہ کوہ پیماہ تھے۔وہ تو انتقال کر گیا لیکن دنیا کی سب سے بلند چوٹی پہ انہوں نے لگایا ہوا سبز پرچم آج بھی اس کی بہادری کی یاد دلا رہا ہے اور آگے بھی دیتا رہے گاآلیکن وفاقی گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی گورنمنٹ نے بھی سنگدلی کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ طرح طرح کے اعلانات تو بہت کئے گئے لیکن ان میں سے ایک پر بھی کام نہیں ہوا۔ یہ عظیم ہیرو اور قیمتی سرمایا اس طرح علالت میں پڑے اور بے یار و مددگار اس دنیا سے چلے گئے۔

وہ بار بار مدد کے لئے پکارتا رہا لیکن ان 20 کروڑ عوام میں سے کوئی آگے بڑ ھ کر ان کی مدد نہیں کی گئی۔ ان کے کچھ آخری کلمات یوں تھے۔ مجھ سے آج تک کسی نے یہاں تک نہیں پوچھا کہ اے قوم کے ہرو کیا کر رہے ہو۔؟ وہ رو رہے تھے اور یہ بھی کہہ رہا تھا کسی کو فکر نہیں ہے کہ میں فٹ پات پے مر رہا ہوں۔لیکن لیکن ان سب کے بدلے میں ہم نے ان کو کیا دیا ؟کچھ بھی نہیں۔۔ ہم آج تک ترقی کیوں نہیں کر پائے ؟اس لئے کہ ہم اپنے ان ہیروز کی قدر نہیں کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جان اور گھر والوں کی فکر کئے بغیر ہماری اور ہماری قوم کا سر انچا کیا۔حسن سدپارہ اور ان جیسے دوسرے ہیروز بے وقوف ہیں کیونکہ یہ لوگ اپنی جانوں پر کھیل کر اس ملک کا نام روشن کرتے ہیں جس سے ان کو کچھ بھی نہیں ملنی ہوتی ۔وہ کتنا بھی بڑا کارنامہ سر انجام کیوں نہ دیں اور کتنا بھی بہادر کیوں نہ ہو آخر میں انہوں نے بھی حسن سدپارہ کی طرح بے یارومددگار اور گم نام موت مر جانا ہے۔
میری آپ لوگوں سے گزارش ہے خدا را اپنے ہیروز کی قدر کریں کیونکہ اب بھی ہمارے ملک میں ان جیسے ہیروز کی کمی نہیں ہیں ان کی قدر کریں اور ان کو عزت دیں اور جب ان کو ہماری صرورت ہو تو ان کی مدد کریں تاکہ یہ ہیروز یہ نہ سوچیں کہ ہم اس ملک کے لئے جو کچھ بھی کریں ہمیں اس کے بدلے کچھ نہیں ملنا ہے۔
میری گورمنٹ سے اپیل ہے کہ ٹھیک ہے آپ لوگ ان کی زندگی میں ان کے لئے کچھ نہیں کر سکیں لیکن کم از کم سکردو میں اس کے نام کا ایک سکول بنایا جائے جہاں بچوں کو کوہ پیمائی کی تربیت دیا جاسکے۔ جب وہ زندہ تھا یہ ان کی خواہش تھی لیکن وہ تو چلا گیا کم از کم ان کے جانے کے بعد ان کی یہ ادھوری خواہش کو پورا کر کے ان کی روح کو سکون بخشہ جائے۔

آخر میں بس میں اتنا ہی کہوں گا شکریہ اے فخر بلتستان و پاکستان حسن سدپارہ شکریہ ۔

ڈاکٹر غازی محمد نعیم صاحب نے ان کا تعریف کچھ اس انداز میں کیا ہے۔
فخر بلتستان و پاکستان سد پار ہ حسن
اس وطن پر ہے ترا احسان سد پارہ حسن
تیرے آگے سر نگوں کوہ ہمالہ کا غرور
تو نشان عزم عالی شان سد پارہ حسن
کو ہ پیماہ سیکڑوں ہیں او ر د نیا میں عظیم
تجھ سا ہونا سب کا تھا ارمان سدپارہ حسن
ہیں ثمینہ بیگ ،نذیر صابر، اشرف اماں
تیرے جیسے سب عظیم انسان سدپارہ حسن
تو چٹان ایسا تھا ،تیرے سامنے کچھ بھی نہ تھا
برف کا بپھر ا ہو ا طوفان ،سد پار ہ حسن
کوہ پیمائی کی د نیا تیرے مرنے کے سبب
ہو گئی افسردہ و ویران سد پارہ حسن
ایورسٹ ہو یا ہو کے ٹو یا ہو وہ خونی پہاڑ
تو نے مارا ہے ہر اک میدان سدپارہ حسن
چڑھ گیا ایورسٹ پر لے کر علم عباس کا
ہر مسلمان تجھ پہ ہے قربان سدپارہ حسن
آہ! آخر تجھ کو چھینا؛ کر گیا آخر جدا
تجھ کو ہم سے خون کا سرطان سدپارہ حسن
نام ہرگز اس جہاں سے مٹ نہ پائے گا ترا
تو کہ ہر انسان کا مان سد پارہ حسن
دے دیا ہے اہل ہمت نے تجھے کیسا لقب
فخر بلتستان و پاکستان سد پارہ حسن

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔