عالمی نظام اور ہماری مجبوریاں

عالمی نظام اور ہماری مجبوریاں

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

قدسیہ کلثوم

اگر آپ کسی فرد کو سمجھنا چاہیں تو آپ کو اس کے ماحول کو سمجھنا ہوگا۔ اس ماحول کو جس میں وہ پلا بڑھا، جس ماحول سے اس کے ذہنی رجحانات کی نمو ہوئی۔ اسی ماحول سے اس نے مخصوص خوف لیے اور پاگل پن بھی سیکھا۔ یہاں تک کہ اس کی زبان او رذہن کے ذائقے بھی اس کے مخصوص ماحول میں پیوست ہوں گے۔
جس طرح ایک فرد کی مادی او رذہنی قویٰ کی حدود اس کے مخصوص ماحول کی مرہون منت ہوتی ہے، اُسی طرح کوئی بھی ملک اپنے زمانی(Historical)وجود کی شناخت، اس دور کے وسیع تر گلوبل نظام کے ہےئت(Structure)سے پاتا ہے۔ پچھلے چالیس پچاس برسوں میں اس نقطہ نظر پر تحقیق شروع ہوئی اور محققین نے ثابت کیا کہ گذشتہ پانچ ہزار سالوں سے دنیا میں ایک مربوط گلوبل سسٹم چلا آرہا ہے۔ علاقائی تہذیبیں اپنے تعلقات او راثر کے اعتبار سے محض اپنی جغرافیائی حدود میں مقیدنہ تھیں بلکہ ان کے ہم عصر تہذیبوں کے ساتھ تجارتی روابط قائم تھے۔ وہ ایک دوسرے کی پیدا کردہ ٹیکنالوجی اورہنروں سے مستفید ہوتے تھے۔ اپنی علاقائی ضروریات کے تحت ان کی نقل کرتے تھے یا انہیں بہتر بنالیتے تھے۔ یہ بین الاقوامی اثر پذیری محض مادی نہ تھی۔ فرد کے اپنے سماج سے تعلقات، فرد او رسماج کی کائنات میں حیثیت اور اداروں کے بندوبست سے متعلق خیالات بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہوتے رہتے تھے۔ ضرورت کے مطابق ان کو اپنایا جاتا تھا یا ترمیم کرلی جاتی تھی۔

اس وقت جو گلوبل سسٹم چل رہا ہے، اس کی اساس سرمایہ(Capital) پر ہے۔ اس نظام کی اساسی تحریک یہ ہے کہ سرمایے کی لامحدود افزائش ہو۔ اس نظام کی تشریح، وولیسٹائن(Wallerstein)نے کی۔ ان کی تحقیق کے مطابق یہ عالمی سسٹم پندرہویں صدی عیسوی کے او اخر اور سولہویں صدی کے ابتدائی حصے میں پیدا ہوا۔ اس نظام کا مرکز یورپ میں تھا۔ اس سے پہلے یورپ میں فیوڈل سسٹم تھا۔ فیوڈل سسٹم کے زیر اثر1150ء سے لے کر1300ء تک آبادی اورتجارت میں بے شمار اضافہ ہوا۔1300ء سے1450ء کے درمیانی عرصے میں اس نظام کے تحت زرعی پیدا وار میں کمی آنا شروع ہوگئی بلکہ ایک مقام پر اس میں جمود آگیا۔ کیونکہ فیوڈل سسٹم ایک اقتصادی نظام کے طور پر اپنی تمام تر استطاعت خرچ کرنے کے بعدرک گیا تھا۔ اب اس میں مزید بڑھنے کی قوت نہ تھی۔ حکمران طبقہ اپنی ضروریات او رتعداد کے اعتبار سے بہت وسیع ہو چلا تھا او ران کی شاہ خرچیوں کا بوجھ کسانوں پر آن پڑا تھا۔اس طرح فیوڈل نظام اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

فیوڈل سسٹم کے بعد سرمائے کی افزائش والا نظام (Capitalism) استوار ہونا شروع ہوا۔ وولیسٹائن کے مطابق اس عالمی سسٹم میں سرمائے کی افزائش کے لئے ضروری خام مال، محنت اوربازار، قومی یا علاقائی رہنے کی بجائے عالمی ہوجاتے ہیں۔ اس عالمی نظام میں مفادات اور کارکردگی کے اعتبار سے کئی حلقے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک مرکزی حلقہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اپنے ابتدائی سالوں میں اس حلقے میں انگلینڈ، فرانس او رہالینڈ شامل تھے۔ عالمی نظام سے ملنے والے تمام تر مفادات کا زیادہ تر حصہ مرکزی حلقے سے وابستہ ممالک کو ملتا ہے۔ اس کے بعد ان ممالک یا اقتصادی نظاموں کی باری آتی ہے جو مرکزی حلقے کے ساتھ براہ راست منسلک تو ہوتے ہیں مگر ان کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ یہ ممالک مرکزی حلقے کے لئے وسائل مثلاً خام مال اور افرادی قوت مہیا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سترہویں سے بیسویں صدی کے پہلے نصف تک ہندوستان، مشرقی بعید اور شمالی افریقہ کے ممالک اسی ثانوی حلقے میں شامل تھے۔ ثانوی حلقے کے بعد نیم ثانوی حلقے کی باری آتی ہے۔ اس حلقے میں شامل ممالک مرکزی او رثانوی حلقوں میں شامل ممالک کے درمیان بیچولئے کاکردار ادا کرتے ہیں۔
اس عالمی نظام کی اساسی نظریاتی تحریک افادیت پسندی (Utilitarianism)پر تھی۔ چونکہ سرمایے کی افزائش کی صورتحال اورتقاضے وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اس لئے اس کی ترویج او راثر کو برقرار رکھنے کے لئے مختلف ذیلی نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ایسے نظریات کی اشاعت کا مقصد، اس عالمی نظام سے وابستہ ممالک کے عوام میں عمومی آمادگی کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہ دنیا ایک گاؤں بن گئی ہے۔ اس گاؤں کے چوہدری وہ ممالک ہیں جو مرکزی حلقے میں آتے ہیں اور وسائل اور منافع کی ترسیل انہی کی جانب جائے گی۔

پاکستان جیسے ممالک کی حیثیت مرکزی حلقے کے باہر نیم ثانوی حلقے میں آتی ہے اور ان کا درجہ اس گلوبل گاؤں میں کمی کمین سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کی شہادت اس بات سے ملتی ہے کہ دنیا میں2000ملٹی نیشنل کمپنیاں پوری دنیا میں اشیا اور خدمات(goods & Secvices) کی کل مقدار کا60فیصد مہیا کرتی ہیں۔ اس وقت دنیا میں کارکنوں کی کل تعداد ساڑھے تین ارب سے زیادہ ہے جبکہ یہ کمپنیاں اس لیبر فورس میں سے صرف ساڑھے سات کروڑ افراد کو استعمال کرتی ہیں۔ اس وقت دنیا کی کل دولت 65ہزار بلین ڈالر ہے جبکہ اس میں سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا حصہ32ہزار بلین ڈالر ہے۔

ان شماریات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام تر افزائش سرمایہ کا اصل پھل مرکزی حلقے میں شامل ممالک کو چلا جاتا ہے۔ یہ ممالک اپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اقتصادی ضروریات کے تحت تعلیمی نظام، عالمی سطح پر استوار کرتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ ساڑھے تین ارب لیبر فورس میں سے صرف2.14فیصد پیداواری عمل میں استعمال کی جاتی ہے۔ اگر اسی تناظر میں پاکستان کے تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تو اس میں یہ صورتحال سامنے آتی ہے۔

1۔سرکاری سکولوں میں صرف جابرانہ نظام میں زندگی گزارنے کے لئے مخصوص مزاجBehavioural Modification بنایا جاتا ہے۔یہاں تعلیم و تربیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اگر پہلی جماعت میں سوبچے داخل ہوں تو صرف0.07فیصدبچے میٹرک کے بعد کی جماعتوں تک پہنچتے ہیں۔

2۔1980ء کے بعد نجی تعلیمی اداروں کے نظام کو متعارف کروایا گیا ان سکولوں او راعلیٰ اداروں میں تعلیم ایک جنس کی طرح بکتی ہے۔ یہاں پیشہ ورانہ شعبہ جات کے لئے انسانی وسائل تیار کئے جاتے ہیں۔ ان کی کھپت عالمی بازار میں ہوتی ہے۔

3۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ استطاعت کو کم کرنے کے لئے انتظامی اور سماجی سطح پر انہیں بُرا بنانے Demonization کی تشہیر کی جاتی ہے۔ اس طرح وہ اپنے پیشے کو ایک سماجی ذمے داری سمجھنے کی بجائے اسے فقط پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں۔

4۔ معقولیت(Intellectualism) کو افادیت سے عاری محض ذہنی پہلوانی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ معقولیت سے ہی لوگ اپنی اور اپنی زندگی سمجھ سکتے ہیں۔ اگر اسے بے فائدہ او رفرسودہ رویے کے طور پر پیش کیا جائے گا تو ذہنی اسیری پیہم چلتی رہے گی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ہاں مروج تعلیمی نظام اس وقت جاری عالمی نظام کی پیشہ ورانہ ضرورتوں سے مطابقت رکھتا ہے؟ اگر ہاں تو پھر سرکاری سکولوں میں سے خارج کردیے99.03فیصد بچے کہاں جاتے ہیں؟ واضح رہے کہ سرکاری سکولوں میں صرف ان والدین کے بچے جاتے ہیں جو نجی سکولوں کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان والدین کی پسماندگی میں تبدیلی کا واحد ذریعہ او روسیلہ یہ ہے کہ ان کے بچے ان سے بہتر روزگار کمانا شروع کردیں۔ اندریں حالات اس میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں یعنی یہ کہ ان کی پسماندگی جاری وساری رہے گی۔ اس صورتحال کا براہ راست تعلق اس عالمی نظام کی اقتصادی ترجیحات او رحکمت عملیوں کے ساتھ ہے۔ واضح رہے کہ جاری پسماندگی اور اس میں سے محدود پیشہ وروں کی تیاری ہی اس نظام کا حتمی مقصد ہے۔

بظاہر حکومتی ادارے تعلیم کے فروغ کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر درحقیقت مذکورہ صورتحال کو بدستور جاری رکھنے پر مصر ہیں۔ عالمی نظام میں نیم ثانوی حلقوں میں آنے والے ممالک کی حکومتیں آزاد نہیں ہوتیں۔ وہ اس وقت تک اقتدار میں رہ سکتی ہیں جب تک عالمی نظام کے مقاصد کے لئے معاون رہتی ہیں۔ ایسی حکومتوں کو عالمی نظام کے محافظ اقتدار میں لاتے ہیں او ریہ عام طور پر بدعنوا ن ہوتی ہیں جیسا کہ افریقہ کے ممالک میں حکومتیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اشیرباد سے بنائی جاتی ہے۔ ان حکومتوں میں شامل حلیفوں کو دل کھول کر بدعنوانی کا موقع دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب عوام غربت کی ادنیٰ سے ادنیٰ ترین کھائیوں میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں تشدد پیدا ہوتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔