ففتھ جنریشن وار اور گلگت بلتستان

تحریر :ظفراقبال

فرانسیسی مفکر روسو نے فطری دور کو انسانی حیات کا سنہرا دور کہا تھا۔ روسو نے مزید کہا تھا کہ فطری دور کا انسان ہر قسم کے معاشی اور سماجی بندھن سے آزاد تھا،بعد کے ادوار میں ،،میرے اور تیرے،،کے تصور نے اس فطری دور کا خاتمہ کر دیا،اور بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا، معاشرے میں انتشار پھیل گیا ،اس انتشار پر قابو پانے کے لئے لوگوں نے انفرادیت کو اجتماعیت پر قربان کر دی ،یوں ریاست کی تشکیل نو ہو گئی۔ جب لوگوں کا ہجوم بڑھتا گیا تو انکے معاشی ضروریات بھی بڑھنے لگے،ان معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک ریاست نے دوسری ریاست پر یلغار کی،طاقتور قبیلوں نے کمزور قبیلوں کو غلام بنا لیا،اور ان پر اپنے مرضی کے قوانین مسلط کئے۔
اس دور میں جنگ کا طریقہ مختلف تھا۔یعنی روایتی جنگ ہوتی تھی،تلوار اور گھوڑوں کا استعمال ہوتا تھا،حملے کی صورت میں قلعہ بند ہوتے تھے،مظبوط قلعے دفاع کے ضامن سمجھے جاتے تھے۔ جب تک ریاست کے دارلحکومت پر قبضہ نہیں کیا جاتا تھا ،شکست کو تسلیم نہیں کی جاتی تھی، اس قسم کی جنگ کو فسٹ جنریشن وار کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے رہن سہن کے طریقے بدل گئے،اس کے ساتھ ہی جنگ کی حکمت عملی بھی تبدیل ہونے لگی،فسٹ جنریشن وار کا دورانیہ کئی صدیوں پر محیط تھا۔

تیرہ اور چودہویں صدی میں اہل یورپ دنیا کے سمندری گزرگاہوں پر قبضے کی پالیسی پر گامزن تھے،اور نئے جزائر دریافت کر رہے تھے۔ واسکوڈی گاما تاریخ میں پہلی بار یورپ اور برصغیر کے درمیان سمندری راستے کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ ایک طویل راستہ تھا ،جو افریقہ کے گرد گھوم کر برصغیر تک پہنچتا تھا۔ گاما کے راستے سے ہی انگريز برصغیر پر مسلط ہوئے۔
تاریخ میں پہلی دفعہ جدید جنگ جس میں با قاعده ہتھیاروں اور بارود کا استعمال کیا گیا،امریکہ میں ١٨٦١سے ١٨٦٥ تک لڑی گئی تھی،ایک طرف یونین آرمی تھیں ،جبکہ دوسری طرف کانفیڑریٹس ۔ ورجینیا اور اس سے متصل ریاستیں کانفڑریٹ آرمی کے زیر کنٹرول تھیں،ابراہم لنکن اس پرآشوب دور میں امریکہ کے صدر منتخب ہوئے،اور اپنی حکمت عملی سے جنگ پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے،لیکن بعد میں ١٨٦٥ میں ایک کانفیڑریٹ جاسوس والکر بھوت کے ہاتھوں تھریٹر میں قتل ہوئے۔ یہ سکینڈ جنریشن وار تھی۔

انہی عشروں میں نپولین بونا پارٹ یورپی ریاستوں کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا تھا،اس جنگ کو بھی سکینڈ جنریشن وارمیں شمار کیا جاتا ہے،ان ادوار میں دنیا میں کئ تباہ کن جنگیں لڑی گئیں ،ان جنگوں میں پہلی دفعہ بارود اور بندوق کا استعمال ہوا۔

بیسویں صدی عیسوی میں انسانی آنکھ نے وہ تباہی دیکھ لی کہ جس پر انسانیت بھی شرمسار ہوئی۔ اطالوی مفکر مکاولی نے قوم پرستی کے نظریات پیش کر کے دنیا کے اقوام میں ایک ہیجان پیدا کی،جس کی وجہ سے یورپ میں فسطائی تحریکوں کو اُبھرنے کا موقع ملا۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کو تھرڈ جنریشن وارزTGW میں شمار کیں جاتیں ہیں،کیونکہ ان جنگوں میں کیمیائی ہتھیاروں اور جنگی جہازوں کا استعمال ہوا تھا،ہیروشیما اور ناگاساکی راکھ کے ڈھیر بن گئے ،اس قسم کے تمام جنگیں تھ TGW میں شمار کئیں جاتیں ہیں،اس کے بعد بڑی طاقتوں میں اسلحے کی دوڈ شروع ہوئی۔

دنیا میں دو قطبی نظام رائج ہوا،ایک طرف دنیا میں کیمونزم کی افادیت کا پرچار کیا گیا ،تو دوسری طرف سرمایہ دار ممالک نے کیمونزم کے خامیوں سے پردہ چاک کرنے میں اپنا زیادہ وقت لگا دیا۔ سرد جنگ کے اس دور میں ہتھیاروں کا استعمال تو نہیں کیا گیا البتہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے نفسیاتی حربے استعمال کئے گئے،اس نفسیاتی جنگ کو فورتھ جنریشن وار کہا گیا۔ اس دور میں معاشی جنگ کو شامل کیا گیا ہے،تاکہ حریف ملک پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھایا جاسکے،اور اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکے۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دو قطبی نظام کا خاتمہ ہوا ،اور یک قطبی نظام کے تحت امریکہ پوری دنیا میں اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے نظریہ ضرورت کے تحت امن اور جنگ کا کھیل کھیل رہا ہیں۔

ماہرین کے مطابق کچھ عرصہ قبل دنیا میں جنگ کا طریقہ کار تبدیل ہوا ہے،جب سے پوری دنیا میں سوشل میڈیا مقبول ہوئی ہے ،اس کے ساتھ ہی دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوا ہے،اور روائیتی میڈیا غیر مقبول ہی نہیں بلکہ لوگ اب ان روایتی ذرائع ابلاغ پر بھروسہ بھی نہیں کرتے۔

سوشل میڈیا کی رسائی معاشرے کے ہر فرد تک ہیں،اور ہر فرد اپنی سوچ اور اپنے خیالات کو بڑی آسانی سے دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکتا ہیں۔
ففتھ جنریشن وار کی سادہ تعریف یہی ہے کہ،،کسی ملک کے نوجوانوں کے ذہنیت کو سوشل میڈیا کے ذريعے خراب کر کے اسی ملک کے حکمرانوں اور اداروں کے خلاف اکسایا جائے،تاکہ ملک میں عدم استحکام کی فضا پیدا ہو۔

حالیہ دنوں گلگت بلتستان کے نوجوان سوشل میڈیا پر زیادہ مصروف نظر آ رہے ہیں،کیونکہ گزشتہ ستر سالوں سے یہاں کے لوگوں کی رسائی ملکی میڈیا تک بلکل نہیں تھی،یہی وجہ ہے کہ ان کے مسائل کبھی ترجیحی بنیادوں پر حل نہیں ہوئے،ایک مکمل منصوبے کے تحت میڈیا کو ان سے دور رکھا گیا، ان کے معاشی، معاشرتی مسائل کو اجاگر نہیں کیا گیا،بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی،تعلیم ،صحت کے شعبے نہیں بنائے گئے،روزگار کے دروازے ان کے لئے بند کئے گئے،اور اب بھی بند ہیں،یہ نوجوان انہی حالات کے پیداوار ہیں،جنہوں نے اپنی معاشی تنگدستی کو بڑے قریب سے دیکھا ہیں،
تاریخ شاہد ہے کہ نظریات کو ہمیشہ موثر نظریات سے ہی شکست دی جا سکتی ہے،
،میر تقی میر نے کہا تھا،
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کیا

سقراط پر بھی یہی الزام تھا کہ وہ ایتھنز کے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسا رہا ہے،
سقراط کو تو زہر پلایا گیا ،لیکن ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں،

یروشلم کے گورنر نے جب سلطنت روما کے حکم سے حضرت عیسی ع کو صلیب پر چڑھايا ،ان کے شاگرد بہت روئے تھے،اس کے بعد حصرت عیسی ع کے تعلیمات کو دبانے اور عیسائیوں کی نسل کشی میں سلطنت روما نے اپنی پوری طاقت استعمال کی،کیا حضرت عسی ع کے تعلیمات ختم ہوئے؟؟

فاطمی خلیفہ حاکم باامراللہ کے شہادت کے بعد اسماعلیوں کے دو فرقے بنے تھے ایک گروہ جن کو دوروزی کہا جاتا ہیں،وہ امام حاکم باامراللہ کو غائب مانتے ہیں،
الظاہر جب خلیفہ بنے تو طاقت کے زریعے دوروزی تحریک کو دبانے کی زبردست کوشیش کی گئی،کہا جاتا ہے کہ صرف ایک ہی رات شام کی ایک مسجد میں پانچ سو دوروزی علماء کو قتل کیا گیا تھا،اس کے بعد دوروزی روپوش ہو گئے،کیا دوروزی تحریک ختم ہوئی ؟؟ آج اسرائیل ۔لبنان ،عمان،شام اور اردون میں دوروزیوں کو ایک طاقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہیں۔

ہم وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے نوجوان کبھی ریاست پاکستان کے خلاف تھے نہ اب ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے استحکام کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں۔١٩٤٧ میں ڈوگرہ راج سے اس علاقے کو آزاد کرایا گیا،لیکن اس وقت کی حکومت پاکستان نے ان کی آزادی کو الگ سے تسلیم نہیں کیا ،بلکہ آزار کشمیر کو ریاست جموں و کشمیر کا وارث حکومت تسلیم کر کے ایک علامتی ریاست کی داغ بیل ڈالی گئی۔

١٩٤٧سے آج تک گلگت بلتستان کو یکسر نظرانداز کیا گیا،ان نا انصافیوں کو محسوس کرتے ہوئے اپنے جائز انسانی حقوق کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے قوم پرست تحریکوں نے جنم لیں،١٩٨٠ سے آج تک ان قوم پرست تحریکوں کی جدوجہد سے دنیا واقف ہیں،میں ذاتی طور پر آج تک کسی قوم پرست تنظیم کا حصہ نہیں رہا،لیکن ١٩٨٠ سے ٢٠١٨ تک جو لٹریچر مرتب ہوئی ہے اس کا ضرور مطالعہ کیا ہے،میری طرح گلگت بلتستان کے تعلیمی یافتہ طبقہ بھی اس قسم کے مطالعے میں دلچسپی رکھتا ہیں،یہ بات سچ ہے کہ گلگت بلتستان کے یوتھ حکومت پاکستان سے کوئی غیر قانونی مطالبہ نہیں کر رہے،ہم یو این سی ائی پی کے قرادادوں کی روشنی میں ایک متنازعہ خطے کے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں،جو ہمارا قانونی حق ہے،اس حق کے حصول کے لئے ہم اپنی آواز کو ہر پلیٹ فام پر اُٹھائیں گے۔

گلگت بلتستان کے نوجوان کبھی دشمن قوتوں کے آلہ کار نہیں بنے گے،یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ستر سالوں سے اس ملک کا حصہ بننے کی کوششوں میں اپنا وقت ضائع کر چکے ہیں ۔آج گلگت بلتستان کا محروم طبقہ حکومت پاکستان سے اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں، جس کا وعدہ انہوں نے اقوام متحده میں کر چکے ہیں۔ اپنی دبی ہوئی آواز کو حکام بالا تک پہنچانے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں،اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہیں کہ ہم نے ریاست پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر اعلان جنگ کیا ہیں،اور نہ ہم ففتھ جنریشن وار میں دشمن قوتوں کا آلہ کار بنے گے۔ ہمیں بہتر زندگی گزارنے کے مواقعے مہیا کئے جائے،ہمارے حق حکمرانی کو تسلیم کیا جائے،انصاف تک رسائی کو آسان بنایا جائیں ،ہمارے وسائل پر ہمارا اپنا حق ہو،لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو،قانون سازی اور آئین سازی میں انکی مرضی شامل ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments