انوکھی ترقی: شگر میں انٹر کالج کو ڈگری کالج بنانے کی بجائے سائنس کی کلاسیں بند کرنے پر غور

انوکھی ترقی: شگر میں انٹر کالج کو ڈگری کالج بنانے کی بجائے سائنس کی کلاسیں بند کرنے پر غور

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابدشگری)انٹر کالج شگر میں سائنس کلاسز بند ہوئی تو باقی کلاسز بھی بند کرائیں گے۔ انٹرکالج کو ڈگری کالج کا درجہ دینے کی بجائے سائنس کلاسز بند کردی گئیں۔ فیصلہ ضلع شگر کے طلباء و طالبات اور غریب والدین کیساتھ ظلم ہے۔صوبائی حکومت ،چیف سیکریٹری اور وزارت تعلیم گلگت بلتستان انٹر کالج شگر میں اساتذہ کی کمی کا فوری نوٹس لیں اور اساتذہ کی کمی پوری کرنے کیلئے اقدامات کریں۔

ان خیالا ت کا اظہار انٹر کالج کے طلباء کے تنظیم کے صدر شہزاد حسین شگری اور جنرل سیکریٹری یاسین ملک نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تفصیلات کے مطابق انٹرکالج شگر کے طلباء کی جانب سے ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کالج اور طلباء کی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کیلئے طلباء تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ۔تمام ممبران اورعہدیداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کالج اور طلباء کے حقوق کیلئے جدوجہد کیی جائے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے صدر شہزاد حسین شگری اور سیکریٹری جنرل یاسین ملک نے کہا کہ انٹرکالج شگر کا واحد اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے، جو غریب والدین اور غریب طلباء کیلئے تعلیم جاری رکھنے کا واحد سہاراہے۔ انہوں نے کہا کہ 17سال گزرنے کے باؤجود انٹر کالج کی حالت زار نہیں بدلی ۔ PC-4منظور ہونے کے باؤجود پوسٹ پیدا نہیں کرنا لمحہ فکریہ اور اعلیٰ حکام کی تعلیم دشمن پالیسی کا مظہر ہے۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ کالج سے سائنس کلاسز بند نہیں ہونے دینگے۔ اگر کالج انتظامیہ نے سائنس کلاسز بند کیا گیا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے بلکہ دیگر کلاسز کو بھی بندکرائیں گے اور طلباء سڑکوں پر نکل پر شدید احتجاج کریں گے۔انہوں نے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت،چیف سیکریٹری اور وزارت تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انٹر کالج شگر کی PC-4کے مطابق ٹیچنگ سٹاف اور نان ٹیچنگ سٹاف جلد کریٹ کرکے اساتذکی بحران کو ختم کریں۔ جبکہ سائنس کلاسز کو جاری رکھنے کیلئے فوری طور دیگر اضلاع سے سائنس پڑھانے والے لیکچرز کو شگر کالج میں عبوری طور پر تعینات کریں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔