انسان اور آسودگی

انسان اور آسودگی

57 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: مسرت جبین

انسان اس کا ئنات کی سب سے پیچیدہ حقیقت ہے۔ اس کے مزاج کی سریت اتنی دبیز ہے کہ آج بھی دنیا کی کو ی لیبارٹری اس حالت کا احاطہ نہیں کر سکتی ۔ایک لمحے میں انسان ظالم بھی ہوتا ہے اور مظلوم بھی۔ اقا بھی بن جاتا ہے اور غلام بھی بادشاہ بھی اور رعا یا بھی ،افسر بھی اور ماتحت بھی ،منصف بھی اور مجرم بھی،، قاتل بھی اور مقتول بھی ،بے غرض بھی اور خود غرض بھی، مسیحا بھی اور بیمار بھی ،بچہ بھی تو کبھی آدمی بھی ،خوش بھی اور اداس بھی،الغرض یہ متضاد صورتیں ایک ہی وقت میں ایک ہی انسان میں مو جود ہوتی ہیں وہ کون سا روپ کب اختیار کرے یہ اس کی اپنی مرضی اور مصلحت پر منحصر ہو تا ہے۔

اگر وہ زیر دام ہو تو صیاد سے نفرت کرتا ہے اور اگر خو د اسے صیا د کا کردار ادا کرنا پڑے تو اس کی سفاکی پورے ما حول کو او ر انسانیت کو ہلا کے رکھ دیتی وہ خو د کو فرعون سمجھنے لگتا ہے اور اپنی خود ساختہ مملکت و سلظنت کا مالک و مختار بن جاتا ہے ایسے لمحوں میں وہ بالکل یہ بھو ل جاتا ہے کہ کبھی کسی کمزور اور ناتواں ساعت کا وہ حود بھی شکار رہ چکاہوتا ہے۔انسان اور انسانیت سے اس کا اعتبا ر کا کھو جاتا ہے اور اپنی ذات سے منسلک رشتوں سے نفرت ہو وغیرہ سب بھلا بیٹھتا ہے اپنا ماضی یک لخت فرا موش کر دیتا ہے اسے ایسا لگتا ہے کہ جیسا اس نے اسی جاہ و حشم اور دولت کی فراوانی کے بہتے چشموں کے سایے میں آنکھ کھو لی ہے سونے کا چمچہ منہ میں لے کر دنیا میں آن وارد ہو ا ہے اپنی بے بسی ،مظلو میت،محکو میت ،جرم ، غلطیوں ،خود غرضیو ں،نادانیو ں ،اداسیو ں ،اور توقعات سب کچھ بھلا بیٹھتا ہے اس انسان کی یہی تو سب سے بڑی بھول ہے کہ جو اسے اس کے ماضی کی طرف پلٹنے ہی نہیں دیتی کہ وہ خوش حالی اور عیاشیوں میں بد مست ہاتھی کی طرح بد مست ہی رہتا ہے جو اپنے راستے میں حایل ہر چیز کو روند ڈالتا ہے پھر یہی ہاں یہی بھول اور بھلاوٹ اسے لے ڈوبتی ہے اسے ڈوبنے کا بھی احساس نہیں ہوتا کہ اس کا زوال شروع ہو چکا ہے اسے اپنی طاقت و حشمت کا اتنا گھمنڈ ہوتا ہے کہ وہ خود کو لافانی،لازوال،نا قابل شکست سمجھ بیٹھتا ہے اس کو ہوش تب ہی آجاتا ہے جب پانی سر تک پہنچ جاتا ہے اور پانی جب سرتک آ جاتا ہے تو انسان ڈوب ہی جاتا ہے۔تب وہ ہاتھ پاوں مارنے لگتا ہے مگربے سود انسان یہ سب کچھ کس لیے کر تا ہے۔؟؟!!صرف اور صرف آسودگی کی خاطر۔اآ میں کوی شک نہیں کہ آسودہ رہنا انسان کا سب سے قدیمی اور محبوب خواب رہ چکا ہے۔

ساری آنکھیں اپنی آسودگی کے ہی سپنے دیکھتی ہیں جیسے جیسے آسودہ رہنے کی خواہش بڑھتی جاتی ہے انسان کو اپنی ادھوری تمنایں مزید بکھرتی محسوس ہوتی ہیں۔ہوتا بھی یہی ہے کہ دل میں تشنہ آرزوہیں اتنی جگہ بنا لیتی ہیں کہ ان کی با ر آوری دشوار سے دشوار ہوتی جاتی ہے۔ہر قدم پر کسی خواہش کا خون ہوتا رہتا ہے اور بہر نفس کوی ارمان لہو لہان مگر انسان کا عزم اسے کسی چٹان کی طرح نا کا میوں اور نا مرادیوں کے سیل بلا خیز کے سامنے سینہ تانے کھڑا رکھتاہے۔اور اپنی آسودگی کے خواب کی تعبیر پا لیتا ہے پھر وہ ایک یک دم بدلا ہوا انسان بن جاتا جب وہ اپنی مراد پالیتا ہے تو پھر فرعون اورہامان کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔وہ اپنی پہچان ہی بھلا بیٹھتا ہے کہ وہ کون تھا ، کیسا تھا،کہاں تھا؟جس طرح وہ اپنا ماضی فراموش کر دیتا اسی طرح وہ اس مغا لطے میں رہتا ہے کہ لوگ بھی اس کے ماضی کو بھلا چکے ہیں یہ اس کی بھول ہوتی ہے لوگ بالکل نہیں بھلاتے ہیں ہر ایک کے ماضی کے قصے سینہ بہ سینہ نسلوں کے اذہان میں منتقل ہو رہے ہوتے ہیں اانسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حقیقت اور اپنا ماضی فراموش نہ کرے یعنی اپنی اوقات کو نہ بھولے تا کہ وہ ایک اچھا ،نیک،با ضمیر اور خوف خدا رکھنے والا انسان بن سکے اور دونوں جہانوں میں سرخرو ہو سکے نہ کہ رو سیاہ ،آسودگی ہر انسان کا سپنا اور خواہش ہے۔یہ ایک فطری بات ہے،ہر عام انسان یہ چا ہے گا کہ اس کی زندگی آرام و سکون سے بسر ہو،زندگی پر لطف اور حوشیوں بھری ہو۔(خاص یعنی عارفوں) کو اس سے علیحدہ رکھیے۔جن کے نزدیک زندگی کی خوشی ایک عام انسان کی جیسی خو شی نہیں ہوتی۔ان حضرات کے نزدیک زندکی اور آسودگی کا معیار و پیمانہ عام انسان سے قطا مختلف ہوتا ہے۔

اللہ والوں کی تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے ہما را مو ضوع عام،دنیاوی کامیابی و خوشی کا دلدادہ انسان ہے جو سطحی سوچ کا مالک ہوتا ہے جوصرف اس ظا ہری و فانی دنیا میں ایک اچھی زندگی گزا ر نا ہی آسودگی و خوش نصیبی سمجھتا ہے اور اس حاصل کرنے کے لیے اپنی زندگی تیا غ دیتا ہے۔ان میں سے جو اپنا ہدف حاصل کر لیتا ہے وہ بد مست ہو جاتاہے اور اک نا مراد و نا کام رہتا ہے اور اپنی نا تمام خواہشوں کے ہجوم میں غرق آب ہو جاتاہے۔اپنی ناکام آرزووں کے مزار پر آہوں،سسکیوں اور آنسوں کے چڑھاوے چڑھا تا رہتاہے یہ سلسلہ اس کی ذندگی کے انجام تک جاری رہتا ہے۔ اور وہ ما یوس اور دل برداشتہ و تھک ہار کر زندگی پوری کرتا ہے۔ٓ اصل میں زندگی ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ۔اس کے پیچھے دوڑنے والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آنا ۔ تحریر از : : مسرت جبین مورخہ : ۲۷ ، جولای ۲۰۱۷۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔