ہربن کے چند لوگوں نے جھاڑیوں کو آگ لگا کر تھور والوں کے خلاف ایک لاکھ فٹ لکڑی کی آتشزدگی کا مقدمہ درج کردیا

ہربن کے چند لوگوں نے جھاڑیوں کو آگ لگا کر تھور والوں کے خلاف ایک لاکھ فٹ لکڑی کی آتشزدگی کا مقدمہ درج کردیا

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس ( شہاب الدین غوری سے )  ہربن کے چند سازشی عناصر ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بنے ہیں ، جو دیامر ڈیم کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ کوہستان کی انتظامیہ اور پولیس شرپسندوں سے ملی ہوئی ہے ۔ اہلیان تھور کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ گزشتہ دنوں ہربن کے چند لوگوں نے جنگل میں جھاڑیوں اور ٹائروں کو آگ لگا کر ہربن تھانے میں رپورٹ درج کروائی کہ ایک لاکھ بیس ہزار فٹ دیار کی لکڑی کو آگ لگادی گئی ہے اور تھور سے تعلق رکھنے والے ایک درجن افرادکو نامزد کر دیا  ۔ کوہستان پولیس نے موقع پر جاکر واقعے چھان بین کرنے کی بجائے جھوٹا مقدمہ درج قائم کر لیا ۔

چلاس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نمبردار بشیر احمد ، نمبردار ایوب ، عنایت اللہ ، میرآتم ، عزیز ،شکور خان ، عثمان غنی ، پیرزادہ ، محمد آمان ، محمد روان ، عبداللطیف ، عبدالباقی ، عبدالرزاق ، عبداللہ جان ، محمد غنی ، مولانا جانباز ، محمد خان ، جہانگیر ، جانان ، اطیل و دیگر نے کہا کہ تھور ہربن حدود تنازعہ میں جب بھی مثبت پیش رفت ہوتی ہے اور امن کا ماحول پیدا ہوتا ہے ہربن کے بعض ملک دشمن عناصر حالات خراب کرتے ہیں ۔ جس کی مثال حالیہ واقعات اور جھوٹے مقدمات ہیں ۔ ایف آئی آر میں تھور کے ایسے افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن کی اکثریت گزشتہ ایک عرصے سے ملازمتوں کے سلسلے میں سکردو ، گانچھے ، گلگت ، غذر وغیرہ میں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار وں کے خلاف کارروائی کرے ۔ یہ عناصر نہیں چاہتے کہ دیامر ڈیم اور سی پیک جیسے اہم منصوبے بنے ۔۔۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ پرامن انداز میں مسائل حل کرنے کی طرف قدم بڑھایا لیکن دوسری طرف ہمیشہ منفی قدم اٹھایا گیا انہوں نے کہا کہ تھور کے جنگل میں جب ہربن والوں نے آگ لگادی تو دیامر کی انتظامیہ اور پولیس موقع پر پہنچ کر رپورٹ درج کردی لیکن کوہستان انتظامیہ اور پولیس تھانے میں بیٹھ کر جھوٹے مقدمے درج کررہی ہے جو باعث تشویش ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments