پا کستان فارسٹ ایکٹ کےمسودے کو حتمی شکل دے دی گئ، مگلگت بلتستان کو نسل کے 23 اکتوبر کو متوقع اجلا س میں منظور ی کیلئے پیش کیا جا ئیگا

پا کستان فارسٹ ایکٹ کےمسودے کو حتمی شکل دے دی گئ، مگلگت بلتستان کو نسل کے 23 اکتوبر کو متوقع اجلا س میں منظور ی کیلئے پیش کیا جا ئیگا

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( پ ر) پا کستان فارسٹ ایکٹ 1927کو منظور ہو ئے تقریبا 90سال ہو گئے ہیں جو کہ مو جودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نا کافی تھا ۔ چونکہ مو جود ہ ایکٹ کے تحت جنگلات و جنگلی حیات کی خلا ف ورزی پر سزائیں اور جر مانے انتہا ئی کم تھے لہذہ محکمہ جنگلات درختوں کی نا جا ئز کٹائی اور سمگلنگ کر نے وا لوں کیساتھ سختی سے پیش آ نے سے قاصر تھا ۔ جس کی وجہ سے روز بروز جنگلات کی نا جا ئز کٹائی میں اضافہ ہور ہا تھا ۔ اس کے علاوہ مو جودہ ایکٹ میں عوامی اشتراک کا تصور مفقود تھا جبکہ مو جود ہ دور میں ہر معا ملے میں عوامی اشتراک پر زور دیا جا تا ہے ۔ ان خا میوں اورکمزوریوں کو مد نظر رکھتے ہو ئے محکمہ جنگلات ، جنگلی حیات و ما حو لیات گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان کیلئے مو جودہ دور کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہو ئے فارسٹ ایکٹ 1927اور وا ئلڈ لا ئف ایکٹ 1975کو بہتر بنا نے پر کا م شروع کیااور تمام متعلقہ سرکاری و غیر سرکاری شعبہ ہا ئے زندگی سے تقریباً دوسال کی طویل مشاور ت کے بعد با لا آ خر اس مسودے کو حتمی شکل دی ہے جسے صو با ئی حکومت کی منظوری سے گلگت بلتستان کو نسل کے 23 اکتوبر 2017کو متوقع گلگت بلتستان گلگت بلتستان کو نسل کے اجلا س میں منظور ی کیلئے پیش کیا جا ئیگا جس کی صدارت وزیر اعظم پا کستا ن کررہے ہیں ۔

اس ایکٹ کی منظوری کے فوری بعد اس کے مطا بق ضروری قوانین بھی بنا ئے جا ئینگے ۔اس ایکٹ کے منطور ہو نے سے نہ صرف محکمہ کی صلا حیتوں میں اضافہ ہو گا بلکہ جنگلا ت وجنگلات حیات کی بڑھو تری میں عوامی اشتراک کو قانونی تحفظ دی گئی ہے اس کے علا وہ سزاور جزا کے عمل کو بھی مزید سخت کیا گیا ہے ۔اس ایکٹ میں ریڈ پلس کے تصور کو بھی پہلی بار شامل کیا گیا ہے ۔ سو شل فارسٹری ، نا ن ٹمبر فارسٹ پرو ڈیو س ، اد ویا تی نبا تات وغیرہ کی بہتر انتظام اور فارسٹ پرو ٹیکشن فورس کو بھی اس ایکٹ میں متعار ف کروایا گیا ہے ۔اس ایکٹ کے منظور ہو نے سے امید ہے کہ گلگت بلتستان میں جنگلا ت و جنگلی حیات کی ترویج اور انکی غیر قانونی تجارت کو روکنے میں مدممد و معاون ثا بت ہو گی اور علا قے کے مختلف وسائل کو تحفظ دینے اور انکی دانشمندانہ استعمال میں فا ئدہ مند ثا بت ہو گا ۔

اس ایکٹ کو بنانے میں محکمے کے تمام آفیسران حصوصاً ڈا کٹر ذاکر حسین کنزرویٹر فارسٹ بلتستان سرکل ، محمود غزنوی کنزرویٹر فارسٹ دیا مر ، استور سرکل اور محمد اسمعیٰل پرا جیکٹ ڈا ئریکٹر ریڈ پلس پرا جیکٹ گلگت بلتستان کا بہت بڑا کردار رہا ۔ سیکر یٹری جنگلا ت،جنگلی حیات و ما حو لیات سجا د حیدر نے بھی اس معا ملے میں انتہا ئی گرا نقدر خد مات ادا کیں اور ہر لمحے اپنے آ پ کو اس کا م کیلئے مختص کئے رکھا ۔ سیکر یٹری جنگلا ت سجا د حیدر نے اس کا میابی پر محکمے کے تمام آفیسران و معاونین خصوصاً ان کی جنہو ں نے اس پورے عمل میں دن رات کا م کیا حوصلہ افرائی کی اور انکی تعریف کی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔