جی بی پرائڈکے زیر اہتمام میراتھن ریس میں 205نوجوانوں نے شرکت کی

جی بی پرائڈکے زیر اہتمام میراتھن ریس میں 205نوجوانوں نے شرکت کی

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(ارسلان علی) جی بی پرائڈکے زیر اہتمام گلگت کے نوجوانوں کیلئے میراتھن ریس کاانعقاد کیا گیا تھا ۔میراتھن ریس میں گلگت میں بسنے والے اورپورے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 205نوجوانوں نے شرکت کی۔

اتوار کے روز باب گلگت سکوارسے شروع ہونے والا میراتھن ریس سٹی پارک میں اختتام پذیر ہوگیا جہاں پر پہلے ،دوسرے اور تیسرے پوزیشن حاصل کرنے والے اتھیلیٹس کوانعامات تقسیم کئے گئے ۔

اس موقع پر ایک تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے ممبر سروسز ٹربیونل علی شیر نے کہا کہ جی بی پرائڈ کا مشن یہ ہے کہ یہ یہاں کے نوجوانوں پر کام کیا جائے اور ان کو مثبت سمت کی طرف تعین کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا اس میراتھن ریس کے منعقدکرانے کا مقصد جشن آزادی گلگت بلتستان کو بھر پورانداز میں منانے اور ہمارے باپ دادوں نے جس اتحاد و اتفاق اور قربانی کے ذریعے اس علاقے سے ڈوگروں کو بگایا تھا اس دن کی یاد تازہ کرنے کیلئے اور ان جوانوں کواس حوالے سے پیغام دینے کیلئے کیا گیا تھا ۔

انہوں نے کہا ہم اس آزادی کا جنتا بھی شکر اداکریں کم ہوگا، ہمیں ہندوستان میں بسنے والے ان مسلمانوں کو دیکھنا چاہئے جن کی حیثیت ہندوں کے سامنے گائے کے گوبر سے بھی کم ہے ۔انہوں نے کہا انشاللہ وہ وقت دور نہیں کہ ہم دنیاکے پرامن قوم بن جائیں گے اور اس خطہ میں پاکستان کی طرف سے ترقی ہورہی ہے ۔

1947سے قبل اس خطہ میں ایک میڈل سکول تک نہیں تھا آج اللہ پاک کا شکر یہ ہے کہ اس خطہ میں جامعات کے کیمپسز قائم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا اس طرح ہمارے نوجوان پراآمن سرگرمیوں میں مصروف رہے تو ہم ترقی کی منزلوں کو بہت تیزی سے طے کرینگے ۔آج گلگت بلتستان میں تعلیم کا معیار بہت انچا ہے اور ہم فخر سے کرتے ہیں ،پاکستانی کی بڑی بڑی تعلیمی و دیگر اداروں سمیت پورے دنیاکے مختلف اداروں میں اپنا لوہا منواچکی ہے ۔

سابق ممبر گلگت بلتستان کونسل نصراللہ نے کہا کہ دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ۔یاد رہے اس میراتھن ریس میں 18سال سے 35سال کے درمیان کے مردوں کی حصہ لیا تھا جس کو عوامی سطح پر بہت سراہا گیا ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔