انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے میڈیا کاکردار اہمیت کے حامل ہے، وزیرا علیٰ گلگت بلتستان

انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے میڈیا کاکردار اہمیت کے حامل ہے، وزیرا علیٰ گلگت بلتستان

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( پ ر ) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات اور جی بی پولیس کے اشتراک سے “تشدد و انتہاپسندی اور امن کے قیام میں میڈیا کے کردار ” پر ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ایک روزہ سیمینار کے مہمان خصوصی وزیرا علیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن تھے ۔ان کے ہمراہ وائس چانسلر کے آئی یو پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد ،صوبائی وزیرتعمیرات عامہ ڈاکٹر محمداقبال،وزیر اطلاعات و پلاننگ اقبال احسن،وزیر ثقافت فدا ء اللہ خان ، آئی جی پولیس صابراحمد،خورشیدندیم اینکرپرسن ،سینئر صحافی و کالم نگار،مطیع اللہ جان اینکر پرسن وقت نیوزو سینئر صحافی و کالم نگار،سبوق سید اینکر پرسن پی ٹی وی سمیت یونیورسٹی کے سینئر منیجمنٹ ،فیکلٹی ممبران سمیت طلبہ و طالبات کی کشیر تعداد نے شرکت کی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو ختم کرکے ہی ترقی ممکن ہے ان دونوں مسائل کے حل کے لیے میڈیا کاکردار اہمیت کے حامل ہے۔ ماضی میں بھی بدامنی ،فرقہ واریت اور انتہاپسندی کے سدباب کے لیے میڈیا نے اہم کردار اد اکیا۔گلگت بلتستان میں امن قائم کرنے کا سہرا میڈیاکو جاتاہے۔انہوں نے کہاکہ معاشرے میں اختلاف رائے ہونی چاہیے اختلاف رائے کو مثبت انداز میں لیاجائے تو معاشرہ بہتری کی طرف جاتاہے اگر اسی اختلاف رائے کو منفی انداز میں لیں تو معاشرہ ابتری کی جانب چلاجاتاہے ۔لہذا ہمیں مثبت انداز میں اختلاف رائے رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ جرم سے بچنے کے دو ہی راستے ہوتے ہیں یا بندے میں خوف خدا ہو یا پھر خوف قانون ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے اندر خوف خدا تو ہے نہیں لیکن صوبائی حکومت نے قانون کی حکمرانی قائم کردی اور لوگوں میں خوف قانون پیدا کردیا ہے جس کے لیے نیشنل ایکشن پلان جیسے منصوبے اور قوانین پر سختی سے عملددرآمد کرایا ۔انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان سے گلگت بلتستان کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں مکمل امن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں محکمہ پولیس کسی لائن پر کام نہیں کررہی تھی لیکن اب محکمہ پولیس حقیقی لائنوں پر کام کررہی ہے ۔ علاقے میں پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھ گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ خوبصورت اور توانا معاشرے کے قیام کے لئے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے گلگت بلتستان کو آج بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ جہاں ثقافتی ، لسانی کے علاوہ مذہبی تنوع بھی سب سے زیادہ ہے اگر کسی نے صوفی ازم کی حقیقی شکل دیکھنی ہے تو گلگت بلتستان میں دیکھے۔ نوربخشیہ مسلک کی 80فیصد آبادی صوفی ہے اور یہ اعزاز بھی ان کو حاصل ہے کہ وہاں پر آج تک کوئی دہشتگردی کا کیس نہیں ہوا ہے ۔ واحد ضلع ہے جہاں پر جرائم کی شرح زیرو فیصد ہے ۔

اس سے قبل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد نے کہاکہ آزادی رائے اورخیال ہر فرد کا حق ہے جسے کوئی نہیں روک سکتاہے۔ جن معاشروں میں آزادی رائے و خیال ہوتاہے وہی معاشرے ترقی کے منازل طے کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کے آئی یو طلباء کے صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے خوشگوار ماحول فراہم کررہاہے جہاں طلباء اپنی صلاحیتوں کو کھل کر دیکھاسکیں ۔آج کا یہ سیمینار بھی اسی کی کڑی ہے ۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی وقتا فوقتا طلباء کے لیے سیمینارزاور ورکشاپ کا انعقاد کررہی ہے ۔ا

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس صابر احمد نے کہا کہ پاکستان کی بقاء صرف اور صر ف جمہوریت میں پنہاں ہے ،جمہوریت ہی کے اندر ترقی ،امن اور خوشحالی ہے ۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعمیرات عامہ ڈاکٹر محمد اقبال ،صوبائی وزیر اطلاعات و پلاننگ اقبال احسن ،خورشیدندیم اینکرپرسن ،سینئر صحافی و کالم نگار،مطیع اللہ جان اینکر پرسن وقت نیوزو سینئر صحافی و کالم نگار،سبوق سید اینکر پرسن پی ٹی وی ،سینئر صحافی شبیر میر، شعبہ ابلاغیات کی ہیڈاسسٹنٹ پروفیسر رفت عالم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کے آئی یو علم کی روشنیاں اور امن و محبت پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کررہی ہے ۔جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں امن و امان قائم ہوااور لاکھوں کی تعداد میں سیاح آئے ۔اس کے علاوہ کے آئی یو صحافت کے فروغ میں بھی کلیدی کردار اد ا کررہاہے۔

آخر میں سیمینا ر کے شرکاء اور سیمیناز کے رضاکاروں میں شیلڈز او ر سرٹیفیکیٹس بھی تقسیم کئے گئے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔