سپریم کورٹ میں‌ گلگت بلتستان کے آئینی و بنیادی حقوق اور عدلیہ کے دائرہ اختیار کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی

اسلام آباد(ابرار حسین استوری) سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کے آئینی،بنیادی حقوق اور عدلیہ کے دائرہ اختیار سے متعلق ڈاکٹر غلام عباس اور گلگت بلتستان بار کونسل کی دائر درخواست پر کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی.سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ میرے پاس کچھ دستاویزات ہیں، وہ دستاویزات اوپن کورٹ میں نہیں رکھ سکتا، اس لئے اگر اجازت دیں تو چیمبر میں وہ دستاویزات آپکو دکھا سکتا ہوں،آج دستاویزات چیمبر میں دیکھ لیں کل مقدمہ سماعت کے لیے رکھ لیں،جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے گلگت بلتستان کے لوگوں کو وہی حقوق دیں جو یہاں کے لوگوں کو دستیاب ہیں، وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ الجہاد ٹرسٹ 1999 کے فیصلے پر عملدرآمد کرایا جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے گلگت بلتستان کی عدلیہ کے دائرہ اختیار کو دیکھنا ہے. دیکھنا ہے کہ گلگت بلتستان کی عدلیہ کو کس حد تک اختیارات حاصل ہیں۔

سنئیر قانون دان اور عدالتی معاون بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت کو ایسا فیصلہ دینا پڑے گا جیسا اٹھارویں ترمیم کے مقدمہ میں دیا. گلگت بلتستان میں اکثر اسی وجہ سے پڑوسیوں کی دخل اندازی بھی نظر آتی ہے،جو دستاویزات اٹارنی جنرل دکھانا چاہتے ہیں وہ ہمیں بھی چیمبر میں دکھائے جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گلگت بلتستان کے ہر پہاڑ اور پتھر پر پاکستان کا نام لکھا ہوا ہے، وہاں کے لوگوں کے دلوں میں پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان کی محبت ہے،اگر کسی کو شک ہے تو وہ میرے ساتھ چلیں خود دیکھ لیں گلگت بلتستان والوں کی پاکستان سے محبت پھر اپ اندازہ لگائیں گے. گلگت بلتستان کے لوگوں نے بھی پاکستان کے لیے جنگ لڑیں.گلگت بلتستان کی قوم نے ہر جنگ میں پاکستان کے لئے قربانیاں دی،گلگت بلتستان کے لوگ لاہور کے لوگوں سے زیادہ پاکستان سے پیار کرتے ہیں،کارگل جنگ کے دوران گلگت بلتستان کے لوگ فرنٹ پر تھے،کارگل جنگ میں گلگت بلتستان والوں کی قربانیوں کو کھبی فراموش نہیں کر سکتے،عدالتی معاونین کو سننے کے بعد فیصلہ دیں گے. اگر لارجر بینچ بنانا ہے تو بتا دیں۔ چلیں لارجر بینچ کی بات آرڈر میں شامل نہیں کرتے لیکن میں لارجر بینچ کا معاملہ خود دیکھ لوں گا۔ اس کیس کے لئے اگر دوسرے کیسز ملتوی بھی کرنے پڑے تو کر لیں گے، عدالت نے اٹارنی جنرل اور وکلاء کی درخواست پر کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی.

سپریم کورٹ کے باہر کیس کی سماعت کے بعد درخواست گزار معروف سیاسی شخصیت گلگت بلتستان سپریم کونسل کے چئیرمین ڈاکٹر غلام عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام ستر سال سے محرومی کا شکار ہیں اور اج اس اہم. کیس میں ایک امید نظر آئی تھی مگر اٹارنی جنرل نے معمول کی طرح اس بار بھی کیس کو التواء کی طرف دھکیل دیا. 1999 سے آج تک ہر بار اس کیس میں اسی طرح کے تاخیری حربے کر کے کیس کو التواء کی طرف لیجا یا جاتا رہا ہے،ڈاکٹر عباس نے کہا کہ کہا کہ ہم گلگت سے ہر بار اتنے خرچے اخراجات کر کے آتے ہیں مگر عدالت میں آنے کے بعد وکلاء اور اٹارنی جنرل سمیت دیگر کیس کو التواء کی طرف دھکیل دیتے ہیں جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کی عوام میں شدید زہنی دباؤ کا شکار ہیں، گلگت بلتستان کی عوام کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں اور وہاں کی عوام انہیں اپنی آخری امید سمجھتے ہیں.

اس موقعے پر نگر سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رہنما و ایڈوکیٹ فدا حسین عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہلیان گلگت بلتستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے سابقہ ریمارکس اور آج کے ریمارکس کو سنتے ہوئے امید کی آخری کرن سمجھتے ہیں اور گلگت بلتستان کے مظلوم عوام تمام سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو کر اب عدالت کے رحم وکرم پر ہیں.گلگت بلتستان کی عوام جو ستر سال سے محروم ہے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری ستر سالہ محرومیوں کا ازالہ کرے اور گلگت بلتستان کو ان کے بنیادی حقوق دیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments