دیامر کی خواتین عزم و ہمت کی عظیم مثال، تعلیم و تربیت کا فقدان

ضلع دیامر کی دور افتادہ وادی کھنرکی ثمینہ نے قوت گویائی وسماعت سےمحرومی کو مجبوری نہیں سمجھا بلکہ گھر کے کام کاج کے ساتھ ساتھ سلائی کڑھائی کر کے اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔

تحریر: کرن قاسم

لڑکھڑاتے قدموں سے خدا خدا کر کے دریا پر بنے عارضی پل پر سے دیسی ساختہ مکان میں داخل ہوئی۔ صحن کی صفائی ستھرائی اور گھر کی اشیاء خوب صورتی سے رکھی دیکھ کر حیرت ہوئی.

تین کمروں پر مشتمل یہ چھوٹا مگر خوبصورت صاف ستھرا مکان پیدائشی طور پر بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ثمینہ کا ہے۔اس گھر میں ثمینہ اپنے خاوند، نومولود بچے اور بوڑھی ساس کے ہمراہ رہ رہی ہیں۔ ثمینہ کے بارے میں سنا تھا کہ وہ ایک باہمت اور ہنر مند خاتون ہیں۔انہوں نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں سمجھا اورخود ہی گھر کے کام کاج کے ساتھ سلائی کڑھائی کر کے اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔ یہی جاننے کا تجسس مجھے ضلع دیامر کی دور افتادہ وادی کھنر میں ثمینہ کے گھر کھینچ لایا تھا۔

گھر کے کام کاج نمٹانے کے بعد فارغ اوقات میں محلے کی عورتوں کے لئے نئے ڈیزائن کے ملبوسات تیار کرتی ہیں۔اب تو محلے کی عورتوں کی لائن لگی رہتی ہے۔

ثمینہ چونکہ بولنے اور سننے کی نعمت سے محروم ہیں، اس لئے ان سے اشاروں میں بات کرنے کے لیے ان کی ساس کی مدد لی۔ ثمینہ سے پوچھنے کو کہا کہ وہ اب کیسا محسوس کر رہی ہیں تو ثمینہ نے ہاتھوں کے اشارے سے اللہ کا شکر ادا کیا۔ شادی سے پہلے کیسا محسوس کر رہی تھی؟ کافی لمبے اشارے کئے جس کی سمجھ نہیں آئی تو ثمینہ کی ساس کہنے لگیں کہ وہ بہت اداس تھیں، اس کی وجہ سے سب گھر والے پریشان تھے۔انہیں یقین نہیں تھا کہ ان کی شادی ہوگی اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کیا اور آج وہ بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ ان کا خاوند بھی ہے اور اللہ نے انہیں بیٹا بھی دیا ہے۔ ثمینہ سے پوچھنے کو کہا کہ وہ گھر کے کام کاج کے ساتھ سلائی کڑھائی سے تنگ تو نہیں آتی ہیں؟ ثمینہ کی ساس نے پوچھا تو ثمینہ کا کہنا تھا کہ وہ اس کام سے بہت خوش ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے ذریعۂ معاش دیا ہے جس پر وہ شکر ادا کرتی ہیں۔ اس کے بعد ثمینہ اپنے کام میں مشغول ہو گئیں۔

ثمینہ کی ساس زیتون بی بی کا کہنا تھا کہ ثمینہ کو اللہ تعالیٰ نے قوت گویائی وسماعت کے علاوہ ہر نعمت سے نوازا ہے۔ان کی دانائی، ہنر مندی، اخلاق اور محنت مثالی ہے۔ میں ان کے اخلاق، محبت اور خدمت سے متاثر ہو کر دوسری بہوؤں کے ساتھ رہنے کے بجائے ان کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتی ہوں۔ گھر میں صفائی ستھرائی کا بھی بہت خیال رکھتی ہیں۔ میرے کھانے پینے میں جو مجھے پسند ہوتا ہے وہی بنا لیتی ہیں۔ میری تمام ضروریات کا بھی بے حد خیال رکھا کرتی ہیں۔ گھر کے کام کاج نمٹانے کے بعد فارغ اوقات میں محلے کی عورتوں کے لئے نئے ڈیزائن کے ملبوسات تیار کرتی ہیں۔اب تو محلے کی عورتوں کی لائن لگی رہتی ہے۔ گھر کے خرچے میں بھی ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ میرا بیٹا بھی ثمینہ سے شادی پر بہت خوش ہے۔ شادی سے قبل معذوری کا سن کر ناخوش ضرور تھا مگر شادی کے بعد ثمینہ کی عادات اور عقلمندی سے بے حد خوش ہے۔

ثمینہ کی معذوری اور مجبوری کے باوجود بہتر زندگی کا راز جاننے کا تجسس مجھے ثمینہ کے والدین کے پاس جانے پر مجبور کرنے لگا۔

ثمینہ کے والد افضل کا کہنا تھا کہ انہیں زندگی بھر افسوس رہے گا کہ وہ اپنی بیٹی کو تعلیم نہیں دلوا سکے کیونکہ پورے دیامر میں کوئی اسپیشل ایجوکیشن سنٹر موجود نہیں تھا۔ ثمینہ جب اپنے بہن بھائیوں کو پڑھتے لکھتے دیکھتی تو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی رہتی تھیں۔ علاقے کے رسم ورواج اور مالی مشکلات کے سبب دوسرے شہر نہیں بھیج سکا۔

وہ معذور اور مجبور ثمینہ نہیں رہی تھی۔ میرا بھی حوصلہ بلند ہونے لگا ۔ فوراً ہی مناسب رشتہ آیا،اور شادی ہوگئی۔ ثمینہ کے ہاں ایک چاند سے بیٹے کی بھی پیدائش ہوئی ہے اور اب وہ خوشحال زندگی بسر کر رہی ہے

انھوں نے کہا کہ ہمیں ثمینہ کی بڑی فکر تھی کہ ان کی زندگی کیسے گزرے گی۔ایک دن ثمینہ کے ماموں نے ثمینہ کو اپنے ساتھ استور لے گئے۔ استور سے کچھ روز بعد ان کا فون آیا کہ وہ ثمینہ کو ووکیشنل سنٹر بھیج رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ووکیشنل سنٹر کیا ہوتا ہے۔ پوچھا تو کہنے لگے کہ یہاں پر سلائی کڑھائی کی تربیت دی جاتی ہے۔ میں نے خوشی سے اجازت دیدی اور بچی کی خاص نگرانی کی ہدایت بھی کی ۔ جس کے بعد ثمینہ کے ماموں نے انہیں قریبی ووکیشنل سنٹر بھیج دیا۔ چونکہ جہاں پر ان جیسی کئی بچیاں سلائی کڑھائی سمیت دیگر ہنر سیکھ رہی تھیں۔اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے کی پوری کوشش کر رہی تھیں۔ ثمینہ نے بھی چند عرصے میں وہاں سے سلائی کڑھائی سیکھی اور واپس گھر پہنچی اور اپنے کمرے کو ووکیشنل سنٹر میں تبدیل کر لیا۔اب نہ صرف ان کے پاس آس پاس کے گھروں کی لڑکیاں سلائی کڑھائی سیکھنے آتی تھیں بلکہ پورے گاؤں کی عورتوں کا اپنے اور بچوں کے کپڑے سلوانے کے لئے تانتا بندھا رہا۔ مختصر عرصے میں ثمینہ ایک خود مختار خاتون بن چکی تھیں اور مجھ پر بوجھ بننے کی بجائے میری مدد کرنے لگی۔ بہن بھائیوں کی بھی ضروریات پوری کرنے لگی۔اب وہی معذور اور مجبور ثمینہ نہیں رہی تھی۔ میرا بھی حوصلہ بلند ہونے لگا ۔ میری بے چینی کم ہونے لگی ۔ فوراً ہی مناسب رشتہ آیا،اور شادی ہوگئی۔ ثمینہ کے ہاں ایک چاند سے بیٹے کی بھی پیدائش ہوئی ہے اور اب وہ خوشحال زندگی بسر کر رہی ہے۔

دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی بھی کسی سےپوشیدہ نہیں۔ خواتین کی شرح خواندگی صرف دو فیصد ہے جو نہ صرف لمحہ فکریہ ہے بلکہ ہمارے لئے باعث شرم بھی ہے۔

ضلع دیامر کی ایک اور باصلاحیت خاتون اور سماجی کارکن فرحت گل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں اب بھی ہزاروں بچیاں مجبوری اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ دیامر میں خواتین کی تعلیم و تربیت اور انہیں ہنر مند بنانے کے مواقع میسر نہیں ہیں۔عورت کو محض گھر وں میں رکھ کر کے ان سے کام لینے کا رواج عام ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں خواتین رشتوں سے محروم والدین اور بھائیوں پر بوجھ بنی ہوئی ہیں۔ کسی بچی کا رشتہ ہو بھی جاتا ہے تو کچھ عرصے بعد ان پر سوکن مسلط کر دی جاتی ہے یا واپس میکے بھیجا جاتا ہے۔ اکثر مرد پڑھی لکھی اور ہنر مند عورتوں سے شادی کی غرض سے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی بھی کسی سےپوشیدہ نہیں۔ خواتین کی شرح خواندگی صرف دو فیصد ہے جو نہ صرف لمحہ فکریہ ہے بلکہ ہمارے لئے باعث شرم بھی ہے۔ علاقے کے رسم و رواج کے پیش نظر اکثر والدین اپنی بچیوں کو درسگاہ بھیجنا عیب سمجھتے ہیں۔ دیامر کی خواتین میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ ہی ذہنی طور پر کسی سے کم ہیں۔ انہیں اگر مواقع میسر آئیں تو پورے علاقے کا نام روشن کر سکتی ہیں۔ایک سروے کے مطابق علاقے میں اسی فیصد کھیتی باڑی کا کام بھی خواتین ہی سر انجام دیتی ہیں۔

دیامر میں معاشرتی روایات کو پیش نظر رکھ کر خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے حکومتی سطح پر مواقعوں کی فراہمی کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

سماجی ورکر فرحت گل کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے بچیوں کی مشکلات کے پیش نظر اپنے ہی گھر کے ایک کمرے کو ووکیشنل سنٹر میں تبدیل کر دیا۔اور ہمسائے کی پندرہ بچیوں کو ہنر مند بنانا شروع کر دیا۔انہیں سلائی کڑھائی کی جدید تربیت دی۔آہستہ آہستہ بچیوں کی تعداد بڑھنے لگی۔اور بچیوں کی تعداد میں بتدریج اضافے کے پیش نظر انہوں نے سوچا کہ علاقے کی روایات کی پامالی بھی نہ ہو اور مسئلے مسائل بھی پیدا نہ ہوں۔اور ووکیشنل سنٹر کا حکومتی سطح پر قیام کے لئے جدو جہد جاری رکھی۔

صوبائی وزیر ثوبیہ مقدم خود بھی خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا جذبہ رکھتی ہیں۔ جنہوں نے گرلز ہائی سکول چلاس میں ووکیشنل سنٹر کا قیام عمل میں لایا اور گزشتہ مہینے اس کا افتتاح بھی کیا۔جو انتہائی خوش آئند اقدام ہے۔اس سے نہ صرف مجبور اور معذور بچیاں مستفید ہونگی بلکہ دیگر خواتین بھی زندگی میں پیش آنے والی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھیں گی۔

فرحت گل کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اب خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور ان کی بنیادی صحت کی سہولیات ان کے گھر کی دہلیز پر پہنچانے کے لئے اقدامات اٹھائے گی تاکہ ہر عورت معاشرتی روایات اور اقدار کو مد نظررکھ کر باعزت انداز میں خوشحال زندگی بسر کر سکیں۔

فرحت گل کا مزید کہنا تھا کہ دیامر میں معاشرتی روایات کو پیش نظر رکھ کر خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے حکومتی سطح پر مواقعوں کی فراہمی کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ گاؤں لیول پر بھی ووکیشنل سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ خصوصاً معذور خواتین اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اداروں کا قیام عمل میں لانے کے لئے اقدامات ناگزیر ہیں۔تاکہ مجبور اور بے بس خواتین کو کہیں دور جا کر تربیت لینے کی نوبت پیش نہ آئے۔اور وہ باوقار انداز میں اپنی زندگی خود مختار انداز میں گزار سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments