ایسا لگتا ہے کہ جاتی امرا نے گلگت بلتستان حفیظ سرکار کو وسائل لوٹنے کے لئے پانچ سالہ لیز پر دی ہے، سعدیہ دانش

گلگت(پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی نظر میں عوام کے ووٹ کی نہیں کرپشن کے نوٹ کی اہمیت ہے۔ایسا لگتا ہے حفیظ سرکار کو گلگت بلتستان کے وسائل لوٹنے کے لئے جاتی امراء سے پانچ سالہ لیز ملی ہے۔دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے دعوے کرنے والوں کے دور میں بدعنوانی کا لاوہ بہہ رہا ہے۔صوبائی حکومت کی پانچوں انگلیاں مراعات کے گھی اور سر کمیشن کی کڑاھی میں ہے۔پروٹوکول اور مراعات کی عینک سے بعض لوگوں کو اپنی حکومت میں سب اچھا نظر آرہا ہے پیپلز پارٹی پر غیر منطقی تنقید اور صوبائی حکومت کی غیر ضروری قصیدہ گوئی کرنے والوں کو مراعات کے اضافی بونس دئے جارہے ہیں۔حکومتی وزراء میں کرپشن، اقرباپروری،ٹھیکوں اور نوکریوں کی فروخت کا مقابلہ عروج پر ہے۔ہر کوئی قلیل مدت میں قارون کا خزانہ اکھٹا کرنا چاہتا ہے۔عوامی خدمت کو شعار بنانے کے بجائے لوٹ مار کو معیار بنایا گیا یے۔انہوں نے مذید کہا کہ نواز لیگ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے معاملے میں نوسربازی کر رہی ہے۔حفیظ سرکار اپنے آقاوں کو خوش کرانے کے لئے آئینی حقوق کے معاملے پر سنجیدہ نہیں ہے.1972 میں 18 رکنی ناردرن ایڈوائزی کونسل ذوالفقار علی بھٹو شہید نے تشکیل دی جو براہ راست الیکشن کے ذریعے منتخب ہوتے تھے۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے ناردرن ایریاز لیجسلیٹیو کونسل کا درجہ دیا اسی طرح 2009 میں آصف علی ذرداری نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا درجہ دیا یعنی انتظامی صوبے کے اختیارات دئے جبکہ نواز لیگ بتائے انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو محرومیوں کے علاوہ کیا دیا۔نام نہاد آئینی کمیٹی کےنام پر عوام کو چکمہ دیا گیا ہے۔ہاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو سمیت تمام مرکزی قیادت کا گلگت بلتستان کے حوالے سے بلکل واضح اور دوٹوک موقف ہے کہ اس علاقے کو آئینی دھارے میں شامل کرنا چاہئے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ماضی میں کی جانے والی آئینی اور انتظامی اصلاحات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔انہوں نے مذید کہا کہ میرٹ کا شور مچانے والی حکومت پولیس جیسے حساس ادارے میں پیسوں کے عوض جعلی بھرتیاں کر کے میرٹ کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔اسی طرح دیگر محکموں کا حال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔چن چن کر اہم ترین محکموں میں لیگی کارکنوں کی چور دروازے سے بھرتیاں جاری ہیں اس حوالے سے نیب اور دیگر اداروں کو فوری ایکشن لینا چاہئے۔تاکہ اداروں کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments