میرٹ‌برقرار رکھنے پر بدنام کیا جارہا ہے، وزات امور کشمیر و گلگت بلتستان ترقیاتی منصوبوں میں‌رکاوٹ نہیں ہے، وضاحتی بیان

گلگت ( پ ر) ترجمان وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان نے 2مارچ2018 کو گلگت بلتستان کے چند ایک اخبارات میں وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان کو گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹ ٹھہرایاجانے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے بیان حقائق کو تروڑ موڑ کر پیش کرنے اور وزارت امور کشمیر کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں میرٹ اور شفافیت کو برقرا ررکھنے کی کوششوں کوبدنام کرنے کی ایک کوشش ہے، ترجمان نے کہا کہ اس بیان کے تحت 20میگاواٹ کے ہنذل ہائیڈل پاور پروجیکٹ اور نومل نلتر سڑک کی implementationکے حوالے سے تاخیرمیں وفاقی سیکرٹری امور کشمیر کو غلط طریقے سے مورود الزام ٹھہرایا گیا ،انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کی ہدایات کے مطابق 6.2ارب مالیت کے ہنذل پاور پروجیکٹ کے لیے ایک Independent پروجیکٹ ڈائریکٹر ہوتا ہے اس منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو جی بی کی حکومت نے سیکرٹری امور کشمیر وگلگت بلتستان کی منظوری کے بغیر اس منصوبے کا ایڈیشنل چارج دیدیا جو کہ نہ صرف اس منصوبے کیلئے منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے ایک independent پروجیکٹ ڈائریکٹر لگانے کی ہدایات کی نفی ہے جبکہ اس سے منصوبہimplementationکے حوالے سے تاخیر کا بھی شکار ہوا۔ ان حقائق کواس پروجیکٹ کی سٹرینگ کمیٹی کے نوٹس میں لایا گیا جس نے منصوبہ بندی کمیشن کی ہدایات کے مطابق ایک independent پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کرنے کا حکم دیا۔ترجمان نے واضح کیا کہ اس سٹرینگ کمیٹی میں دیگر ممبران کے علاوہ پاکستان کی فنانس ڈویژن اور منصوبہ بند کمیشن کے ممبران شامل ہوتے ہیں ترجمان نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پروجیکٹ ڈائریکٹر کو تعینات کرنے کا فیصلہ اس پروجیکٹ کے حوالے سے پیش رفت کو تیزی سے آگے بڑھانے اور منصوبے کی تکمیل میں شفافیت کو برقرار رکھنے کیلئے ذمہ داری کا تعین کرنے کیلئے کیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ نول نلتر روڈ کے ٹھیکے کی منسوخی کے حوالے سے یہ امر قابل غور ہے کہ Lowest bidderکی بولی اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت سے 500ملین کم تھی جس کیلئے ضروری تھا کہ اس منصوبے میں معیار کو حقیقی بنانے کے لیے ٹھیکیدار bidding priceکا 50فیصد جمع کروائے۔PPRAرولز کے مطابق اس شرط کو پورا نہیں کیا گیا جب کہ منصوبے پر پیش رفت کا تقاضا یہ تھا کہ security deposit proposedکو یقینی بنایا جائے جب کہ اس صورتحال میں دوسرے کم ترین bidderکو ٹھیکہ دینے سے ایک طویل قانونی جنگ شروع ہونے کے خدشے سے اسٹیرنگ کمیٹی کی consent سے اس منصوبے کی ری ٹینڈر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ترجمان نے واضح کیا کہ وزارت امور کشمیر اس منصوبے کی جلد ازجلد تکمیل کیلئے بھرپور کوششیں کررہی ہے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے حوالے سے ستمبر2017ء میں 60ملین روپے ریلیز کیے گئے جبکہ 5ماہ گزرنے کے باوجود بھی جی بی حکومت کا ورکس ڈیپارٹمنٹ منصوبہ بندی کمیشن کے SAPسسٹم کے pre-requisiteکے مطابق ان فنڈز کی bifurcationنہیں کرواسکے۔ترجمان نے کہا کہ یہاں یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ اس منصوبے کیلئے بھی ایک independentپروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کرنے کی بجائے اس منصوبے کا چارج بھی اضافی بنیادوں پر اپنے ایک افسر کے حوالے کردیا گیا جو کہ پھر ایک مرتبہ منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے منصوبے کیلئے independentپروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے جس سے منصوبے کی تیز ترین تکمیل کے راستے میں غیر ضروری رکاوٹیں پید اہوتی ہیں ترجمان نے کہا کہ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان کے ذریعے گلگت بلتستان میں پی ایس ڈی پی منصوبوں کی تکمیل سے گلگت بلتستان کی ترقی پرمثبت پڑا ہے جس کی ایک مثال 3.8ارب کی لاگت سے 14میگاواٹ کے نلترVہائیڈرل پاور پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل ہے وزارت کے موجودہ وفاقی وزیر اور سیکرٹری نے جی بی کے ترقیاتی فنڈز 9ارب سے 15ارب تک بڑھانے میں اپنابھرپور کردار ادکیا ،مزکورہ بالا تمام معاملے میں وزارت کا کردار فنڈز کا بہترین استعمال اور شفافیت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments