کے آئی یو دیامر کیمپس میں تھرڈ ڈویژن کے حامل طلبہ وطالبات کوداخلہ کی اجازت، فیس کا 50 فیصد صوبائی حکومت ادا کرے گی

گلگت (پ ر) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے دیامر میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے خصوصی پیکیج کی منظوری دیتے ہوئے تھرڈ ڈویژن کے حامل طلبہ وطالبات کو داخلہ کی منظوری کے علاوہ طالبات کیلئے الگ کیمپس کے قیام کی باضابطہ منظوری دیدی۔

تھرڈ ڈویژن کے حامل طلبہ وطالبات 28فروری 2019سے قبل سمسٹر بہار میں داخلہ لے کر ایک سال کیلئے مہیا کردہ نادر موقع سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

دیامر کیمپس میں نئے تعلیمی سال کا آغاز مارچ سے ہوگا۔ اس وقت دیامر کیمپس میں بی ایس سوشیالوجی، بی بی اے، بی ایس ایجوکیشن، بی ایس فوڈ اینڈ نیوٹریشن، ایم اے ایجوکیشن کے علاوہ انگلش لینگوئجز کورس، آئی سی ٹی، ای سی ڈی اور چائنیز لنگوئجز کورس میں داخلے ہورہے ہیں۔

دیامر کیمپس میں داخلہ لینے کے لیے جہاں تھر ڈ ڈویژن کی سہولت فراہم کی گئی ہے وہی پر طلبہ وطالبات کی سمسٹر فیس کا 50 فیصد صوبائی حکومت ادا کرے گی۔لہذا طلبہ وطالبات اس نادر موقع سے مستفید ہونے کے لیے KIUدیامر کیمپس میں داخلہ لے۔ ان خیالات کا اظہار KIUدیامر کیمپس چلاس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شاہنواز نے دیامر کیمپس میں جاری داخلوں کے حوالے سے KIUپبلک ریلیشن آفس کوبتاتے ہوئے کہا۔

انہوں نے کہاکہ دیامر میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے مہیا کردہ تمام سہولیات وائس چانسلرKIUپروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ کی خصوصی توجہ اور کوششوں کانتیجہ ہے۔جن کی کوششوں سے دیامر کے طلبہ وطالبات کے لیے تعلیم کے حصول کے لیے آسانیاں اور سہولیات کی فراہمی یقینی ہوئی۔جس پر وائس چانسلر کی کوششوں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہاکہ KIUدیامر کیمپس میں داخلہ لینے والے طلباء جو اپنی سمسٹر فیس یکمشت نہیں دے سکتے ہیں ان کو اقساط میں فیس دینے کی بھی سہولت فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ دیامر کیمپس طلباء کو درپیش مسائل کا احساس کرتے ہوئے طلباء کے رہائش کے لیے ہاسٹل کی سہولت بھی فراہم کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ KIUدیامر کیمپس دیامر کے عوام کو تعلیم کے حصول کے لیے ہر طرح کی سہولیات فراہم کررہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دیامر کے ذمہ دار افراد،علماء،سیاستدان بلخصوص نوجوان نسل ا ن سہولیات کے حوالے سے ہرگھرتک معلومات فراہم کرے تاکہ نوجوا ن زیادہ سے زیادہ داخلہ لیتے ہوئے تعلیم کی روشنی سے پوری خطے کو منور کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments