وزیر اعلی کا دورہ ہنزہ:‌ انتظامات مکمل، ناصر آباد، علی آباد میں‌کھلی کچہری، اور گلمت میں عوامی جلسے سے خطاب کریں گے

ہنزہ ( اجلال حسین ) وز یر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حافیظ الرحمن کے دورہ ہنزہ کے حوالے سے سرکاری و پارٹی سطح پر انتظامات مکمل ہو گئے ،۔ ڈپٹی کمشنر ہنزہ کپٹن (ر) سید علی اصغر کی زیر نگرانی گذشتہ روز وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے دورے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوئی، جس میں ضلعی لائین ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان کے علاوہ سیاسی و سماجی عہدیداران شریک ہوئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق  سی ایم جی بی کے دورے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اپنے دورے کے درمیان ناصرآباد اور علی آباد میں کھلی کچری سے جبکہ بالائی ہنزہ کے ہیڈ کوارٹر گلمت میں جلسہ عام سے خطاب کر یں گے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اسی روز ہی مسگر دو میگاواٹ پاور منصوبے کا افتتاح بھی کرینگے۔

وزیر گلگت بلتستان حافظ حافیظ الرحمن اپنے دورہ ہنزہ کے دوران پارٹی کارکنان کے ساتھ ملاقات کے علاوہ عمائدین اور مختلف وفود سے بھی ملاقاتیں کرئینگے۔ جبکہ دوسری جانب وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حافیظ الرحمن بحیثت وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان عام انتخابات کے بعد یہ ہنزہ کا پہلا دورہ ہو گا جس کے دوران وہ عوامی مسائل سننے کے علاوہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کا معائینہ بھی کرینگے۔

عوام ہنزہ پچھلے تین سالوں سے سی ایم کے دورے کے منتظر تھے۔

ضلع ہنزہ نہ صرف بجلی کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی مختلف عوامی مسائل کا گڑھ بن گیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ منتخب و غیر منتخب نمائندے گھریلو مسائل الجھانے میں مصروف ہیں جبکہ ضلع ہنزہ مسائل میں الجھا ہوا ہے۔

ہنزہ کے عوام خصوصاً بالائی ہنزہ تحصیل گوجال کو سب ڈویثرن اور شناکی کو تحصیل کا درجہ ملنے کی خوشخبری سننے کے لئے پر امید ہیٰں۔ کیونکہ وزیر اعلی نے ضمنی انتخابات کے دوران کمپین میں آکر بحیثت صوبائی رہنما گلگت بلتستان بالائی ہنزہ (گوجال) کو سب ڈویثرن اور شناکی کو تحصیل کا درجہ دینے کی یقین دہانی کرنے کے ساتھ ہنزہ میں بدترین بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم کرنے کا وعدہ کرچکے ہیں ۔ انختابات جیتنے کے تین سال بعد تک یہ اعلانات ہوائی ثابت ہوے ہیں۔

مقامی سطح پر کہا جارہا ہے کہ اگر اس دوران بھی یہ اعلانات نہیں کئے گئے تو مسلم لیگ کے لئے بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، کیونکہ پارٹی پہلے سے ہی اندرونی خلفشار کا شکار  اور مختلف دھڑوں میں منقسم ہے، جبکہ اسمبلی میں موجود ہنزہ کے لیگی رہنما بھی باہم دست و گریبان ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments