تین دن کی مسلسل کوششوں‌کے بعد سانحہ اُلتر میں‌ملبے تلے دبی لاشیں‌ برآمد

ہنزہ ( اجلال حسین) تین دن مسلسل ریسیکو آپر یشن کرنے کے بعد سانحہ التر میں لاپتہ ہونے والے تین نوجوان طالبعلموں کی لاشیں بر آمد کر لی گئی ہیں۔ چار روز قبل التر نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں پانچ طالبعلم آگئے تھے۔ دو نوجوان اس سانحے سے معجزانہ طور پر بچ گئے، جبکہ تین لاپتہ ہوگئے تھے۔ سانحے کے بعد مقامی رضاکاروں، فوکس کے تربیت یافتہ افراد، ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، محکمہ پولیس، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد تلاش اور بچاو کے کام میں مصروف گئے۔ بالاخر چوتھے روز سخت جدوجہد کے بعد تینوں لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔
سانحے میں جان بحق ہونے والے دو نوجوانوں، الحان اور جبران کو تعلق التت ہنزہ سے، جبکہ ارسلان کا تعلق لاہور سے تھا، اور یہ سیاحت کے لئے التر میں واقع چراگاہ تک گئے تھے، جبکہ اندوہناک حادثہ پیش آیا۔
جبران کی عمر 19 سال، الحان کی عمر 17 سال جبکہ ارسلان کی عمر 2 سال بتائی جارہی ہے۔ تینوں کالج کے طالبعلم تھے۔
مرحومین کی نماز جنازہ میں سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے سربراہان کے علاوہ گلگت، ہنزہ اور نگر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد شریک ہوے۔ چیف سکرٹری گلگت بلتستان نے ضلعی انتظامیہ، مختلف ریسکو ادارے مقامی رضا کاروں کو خراج تحیسن پیش کیا جن کی کاوشوں سے التر حدثے میں لاپتہ افراد کی تلاش تین سے چار روز میں ریسکو آپریشن کے بعد مہمان سیاح سمت تینوں نعشیں برآمد کرنے میں کا میاب ہو گئے ۔ نماز جنازہ کے بعد مہمان سیاح کی نعش ان کے ورثہ کے حوالے کر دی گئی، اور جسد خاکی کولاہور روانہ کردیا گیا۔
اسماعیلی کونسل برائے ہنزہ نے لواحقین اور عوام ہنزہ کی جانب سے چیف سکرٹری گلگت بلتستان، سکرٹری داخلہ کمشنر گلگت ڈویثرن اور ضلع ہنزہ کے انتظامیہ خصوصاً ڈی سی ہنزہ کے عملہ، محکمہ تعمیرات ہنزہ ، محکمہ صحت، ریسکو1122، GBDMAفوکس اور مقامی رضاکار ، بوائے سکاوٹس، ولنٹیرزکا شکریہ ادا کیا ہے، جنہوں نے چار دن سخت موسم میں ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔
نوجوانوں کی موت سے پورا ہنزہ سوگوار ہے، اور سوشل میڈیا پر تعزیت کے پیغامات دئیے جارہے ہیں۔

آپ کی رائے

comments