اہم ترین

گلگت بلتستان میں خومختار آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جائے، قراقرم نیشنل موومنٹ کا مطالبہ

مطالبہ گول میز کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس میں مختلف تنظیموں نے شرکت کی

گلگت(پریس رپورٹ )قراقرم نیشنل مومنٹ و قراقرم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی طرف سے ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد مقامی ہوٹل میں کیا گیا جس میں استور سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عباس، عوامی ایکشن کمیٹی کے بانی چئرمین احسان ایڈووکیٹ ،موجودہ چئرمین فدا حسین سابق چئرمین مولانا سلطان رئیس، جمہوری محاذ کے چیرمین انجینر شجاعت علی، بالاورستان نیشنل فرنٹ کے رہنماء کلام الدین، ڈاکٹر اقبال ارسلان، عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے رہنماء فدا حسین ایثار، سکوار یوتھ کے رہنماء محبت علی بوگر،بزرگ ترقی پسند رہنماء انجینر امان اللہ خان، عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء شیرناد شاہی،یوتھ رہنماء ابرار بگورو، سوشل ایکٹیوسٹ و رائٹر ہدایت اللہ اختر،ضیاءالحق صدر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ قراقرم نیشنل مومنٹ کے چیرمین ممتاز حسین نگری ایڈووکیٹ، سابق چئرمین محمد جاوید، دیگر کارکنوں کے علاوہ صحافیوں نے شرکت کی ۔

گول میز کانفرنس سے قراقرم نیشنل مومنٹ کے سابق مرکزی جنرل سیکریٹری تعارف عباس ایڈووکیٹ نے گول میز کانفرنس کے انعقاد کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہے یہاں پر خالصہ سرکار کے نام پر ریاستی سرپرستی میں زبردستی زمینوں پر قبضے کئے جارہے ہیں ، ٹیکس کے نفاذ کی سازش ہورہی ہے، نگر کے سیلاب متاثرین و روندو کے زلزلہ متاثرین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بجلی کے بلات کے ذریعے غریب عوام کے لوٹا جارہا ہے ان حالات سے نمٹنے کیلئے بلا تفریق رنگ نسل فرقہ متحد ہو کر منظم فعال متحرک چلانے کی ضرورت ہے ۔عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے رہنماء فدا حسین ایثار نئ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ آج ہماری زمینوں پر طاقت کے زور پر قبضہ کرکے یہاں کی لوکل آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی پس پردہ تیاری کی جاری ہے،جب ہم کسی ریاست کا حصہ ہی نہیں ہیں تو اور یہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہے تو ٹیکس کے نفاذ کیوں کیا جارہا ہے ہم کسی طرح کے ٹیکس کے نفاز،زمینوں پر قبضوں کے خلاف متحد ہو کر جد و جہد کریں گے۔عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چئیرمین فدا حسین نے کہا کہ جو نکات آج قراقرم نیشنل مومنٹ نے گول میز کانفرنس میں رکھا ہے وہ نکات عوامی ایکشن کمیٹی کے منشور کا اہم حصہ ہے ہم انہی حقوق کیلئے جد و جہد کررہےہیں، ہم جب تک بلا تفریق متحد نہیں ہوں گے تو ہمارے زمینوں، قدرتی وسائل معدنیات پر قبضے کئے جائیں گے ہمیں جیل میں ڈالا گیا مگر ہم نے قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔کانفرنس سے استور سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ تمام مسائل کا واحد حل اتحاد و اتفاق کے ذریعے عوامی طاقت کے ذریعے مزاحمت کے زریعے ہونے والی ناانصافیوں کو روکا جاسکتا ہے،

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے سابق چئرمین مولانا سلطان رئیس نے قراقرم نیشنل مومنٹ کی طرف سے گول میز کانفرنس کا انعقاد کو سراہا اور تحریک کو منظم کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ قوم کو موجودہ حالات میں پہلے سے زیادہ متحد ہونے کی ضرورت ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے بانی چئرمین احسان ایڈووکیٹ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ جب تک طبقاتی تفریق کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ،اشرافیہ کے ذریعے عوام کو کنٹرول کیا گیا جاتا ہے اور 2 فیصد سرمایہ داروں اور اشرافیہ نے 98 فیصد عوام کے حقوق میں ڈاکہ ڈال رہیں ہیں جسکے لیے یونین، تحصیل اور،ضلع کی سطح پر عوامی کونسل تشکیل دے عوامی تحریک کو منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔کانفرنس سے بزرگ رہنماء انجینر امان اللہ خان، انجینئر شجاعت علی، ضیاءالحق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، شیر نادر شاہی رہنماء عوامی ورکرز پارٹی، ذولفقار برچہ،ہدایت اللہ اختر نے بھی خطاب کیا۔

کانفرنس سے قراقرم نیشنل موومنٹ کے مرکزی چئرمین ممتاز حسین نگری ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے تمام شرکاء کانفرنس کا شکریہ ادا کیا اور سابق چئرمین محمد جاوید نے اعلامیہ پیش کیا جس کی مشترکہ طور پر تائید کی گئی:

1 گلگت بلتستان میں خودمختار آئین ساز اسمبلی کا قیام بھی لایا جاے

2۔تاریخی راستوں سکردو کارگل استور سری نگر و مظفرآباد روڈ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا

3 گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی کو روکا جائے اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کیا جاے

4 گلگت بلتستان میں ریوینو ایکٹ کے ذریعے غریب عوام پر ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کیا گیا

5 لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جاے بجلی کے بلات میں بے تحاشا اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ عام نرخوں میں بجلی فراہم کی جائے

6 گلگت بلتستان کی زمینوں پر خالصہ سرکار کے نام پر قبضوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں کوئی خالصہ سرکار زمین نہیں دریا سے لیکر پہاڑ میدانی علاقے ہوں وہ گلگت بلتستان کے عوام کی ملکیت ہے

7 گزشتہ دنوں اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سے مناور کی زمینوں پر طاقت کے زور پر قبضہ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں مناور یوتھ کی مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں اور نوجوانوں کے خلاف کاٹے گئے ایف آئ ار کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا

8 روندو کے زلزلہ متاثرین و نگر کے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے فی الفور اقدامات کیے جائیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: