ٹور دی خنجراب: بابِ‌گلگت سے خنجراب ٹاپ تک سائیکل ریس تین مرحلوں‌میں‌مکمل ہوگا، خواتین سائکلسٹس بھی حصہ لےسکتی ہیں، ڈپٹی کمشنر ہنزہ

ہنزہ ( اجلال حسین )ہنزہ میں نیشنل سطح پر ہونے والی ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریس سے سیاحت کو فروغ دینے میں مزید مدد ملی گی۔ توقع ہے کہ اس سائیکل ریس میں بین الاقوامی سائیکلسٹس بھی شرکت کرینگے ۔

 ان خیالات کا اظہار ایکٹنگ ڈپٹی کمشنر ہنزہ ڈاکٹر انس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان انتظامیہ کی زیر نگرانی منعقد ہ سائیکل ریس تین مرحلوں میں مکمل ہو گی۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی خواتین سائیکلسٹس بھی اس ریس میں حصہ لے سکتی ہیں۔ خواتین کے لئے ریس کا فاصلہ نسبتاً مختصر رکھا گیا ہے، اور ان کے مقابلے الگ سے منعقد ہونگے جس کے لئے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات الگ سے کئے جائیں گے۔

 ڈی سی ہنزہ داکٹر انس نے تفصیلات بیان کرتے ہوے مزید کہا کہ پہلے مرحلے میں سائیکل ریس باب گلگت سے شروع ہو گا جس کے بعد راکاپوشی پوائنٹ نگر پر پہنچ کر ریس کے شرکا پرفضا مقام کا لطف اُٹھائیں گے۔ دوسرے دن راکاپوشی ویوپوائنٹ سے ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریس کا دوبارہ آغاز ہوگا اور شاہراہ قراقرم سے گزرتے ہوئے پاک چین تجارتی مرکز سوست پہنچ کر سائیکلسٹس قیام کرینگے۔

 ریس کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ سوست سے شروع ہوگا، اور پاک چین سرحدی مقام  خنجراب ٹاپ پر ساڑھے پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر ریس کا اختتام ہوگا، جہاں پر ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریس جیتنے والون کا اعلان کیا جائے گا۔ اسی روز ملکی و غیر ملکی سطح سے تعلق رکھنے والے سائیکلسٹس کو ضلع ہنزہ کے مشہور ومعروف سیاحتی مقام کریم آباد لایا جائے گا جہاں ان کے اعزاز میں ایک خوبصورت تقریب کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔

 ڈپٹی کمشنر ہنزہ نے کہا کہ یہ عوام ہنزہ کے لئے اعزاز حاصل کہ پہلی دفعہ بین لاقومی سطح کا ایک میگاایونٹ ہونے جارہا ہے، اور ہمیشہ کہ طرح امید ہے کہ ہنزہ کے عوام ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے سرزمین ہنزہ پر آنے والے ملکی و غیر ملکی سائیکلسٹس اور سیاحوں کو بھر پور انداز میں خوش آمدید کہیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments